بنی نوعِ انسان کے اندر اپنے باطنی اظہار اور مزاجی خواص کے اعتبار سے مختلف النوع جذبات موجزن ہوتے ہیں۔ ان میں دو طرح کی خصوصیات زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک اس کی طاقت و دہشت کی نمائش، اور دوسری بزدلی، ڈرپوک پن، پست حوصلگی اور خوف۔ یہ دونوں خواص منفی جذبات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص طاقت اور جبروت کا وہ استعمال جو انسانیت کشی اور دہشت کی علامت ہو، سخت ناپسندیدہ قرار پاتا ہے۔ اس شیطانی کھیل میں دنیا کے کئی جابر و ظالم حکمرانوں کی مثال دی جا سکتی ہے، جو اپنی ظالمانہ طاقت اور پرتشدد مزاج کے گھمنڈ میں آپے سے باہر ہو جانے میں اتنے معروف ہیں کہ ان کے نام لینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس کے برعکس ایک انسانی وصف ایسا بھی ہے جس کے تحت انسان جرأت، بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرتا ہے اور انسانی کارناموں اور نیک نامی کی داستانیں رقم کرتا ہے۔ یہی وصف قوموں کی عزت، آزادی اور وقار کا حقیقی محافظ سمجھا جاتا ہے۔
اولادِ آدم کے اندر ہمت، جواں مردی، شجاعت، دلیری، جرات اور بے جگری سے لڑنے کی خواہش ہر مرد کا خاصہ نہیں ہوتی، مگر اس میں ایمان کی حرارت، وطن سے محبت، اعلیٰ مقصد میں کامیابی اور راہِ حق میں جان کی قربانی دینے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ جذبہ صرف اور صرف ایمان والوں اور حق شناس مسلمانوں میں بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن موت آنی ہے۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ جان دی ہوئی بھی اسی کی ہے۔ اس لیے وہ دشمن کے خلاف بے جگری سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ نہ جان کی پروا کرتے ہیں، نہ موت سے ڈرتے ہیں اور نہ میدانِ جنگ سے بھاگتے ہیں۔ وہ تعداد میں کم ہو کر بھی دشمنوں کے بڑے بڑے لشکروں کی صفوں کو چیر کر شجاعت کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں، سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں۔ وہ یا تو شہادت کا رتبہ پاتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں۔ تاریخ ایسے غزوات کے ذکر سے بھری پڑی ہے جن میں اہلِ حق کی کم تعداد نے کئی گنا کثرت رکھنے والوں کو شکستِ فاش دی۔
گزشتہ سال ہمارے ہمسایہ ملک نے ہم پر درجنوں طیاروں سے یلغار کرنے کی جو بزدلانہ کوشش کی تھی، اس کا جواب وطنِ عزیز کی پاک فضائیہ کے ہوا بازوں نے پامردی سے مقابلہ کر کے دیا، اور خوب دیا۔ اس معرکے میں ہماری دلیر فضائیہ نے دشمن کے سات طیاروں کو زمین بوس کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ موجودہ حکومت اور پاک فوج کے یہ کارنامے یقیناً سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔ پاکستان کی کامیاب جنگی حکمتِ عملی اور بہادری کی پوری دنیا میں ایسی دھاک بیٹھی کہ سارے عالم میں پاکستان کی جرات اور دلیری کی دھوم مچ گئی۔ یہ سب اللہ کی نصرت اور ہماری افواج کے جذبہ ایمانی کی بدولت ہوا، جس نے پاکستان کی ساکھ اور نیک نامی میں اضافہ کیا۔ دشمن کی عددی اور تکنیکی برتری کے باوجود پاکستانی افواج نے جس حوصلے، مہارت اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ جذبہ اور ایمان جدید ہتھیاروں سے کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
اب آئیے انسانوں کی ایسی کمزوری کی جانب، جس کا تعلق بزدلی، ڈر اور خوف سے ہوتا ہے۔ اس کے مارے ہوئے لوگ میدانِ جنگ سے دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں۔ ان پر لوگ ہنستے ہیں اور تفریحِ طبع کے لئے جملے بھی کستے ہیں۔ جو لوگ جی دار اور بے خوف ہوتے ہیں، وہ محض دعوے نہیں کرتے بلکہ عملاً اس کا قابلِ تقلید مظاہرہ کر کے ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن پر موت کا لرزہ طاری ہوتا ہے، وہ ذکر تو اپنی دلیری اور مردانگی کا کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت حوصلے اور ہمت سے عاری جسموں کو ضربِ کاری سے محفوظ رکھنے کے لئے جتن کرتے کرتے ان کے قدم اکھڑ جاتے ہیں اور وہ فنا ہو جاتے ہیں۔ خوف انسان کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے جبکہ جرات انسان کو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
مسلمانوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہمیشہ دشمنوں کی غالب اکثریت سے مرعوب ہوئے بغیر بے جگری سے لڑتے اور فتح یاب ہوتے ہیں۔ غزوہ بدر میں باطل کی ہزار کی تعداد میں لڑتی فوج کو فقط تین سو تیرہ مجاہدین کی قلیل تعداد نے شکستِ فاش دی اور جہاد میں سرخرو ہوئے۔ اسی طرح 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی ہماری دلیر اور جری افواج نے خم ٹھوک کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ہمارے بہادر فوجیوں اور فضائیہ کے پائلٹس نے شہادت کا درجہ قبول کیا، جس کے اعتراف میں انہیں نشانِ حیدر کے اعزازات سے نوازا گیا۔ بین الاقوامی ابلاغ میں اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ امریکا و اسرائیل کے خلاف ایران کی حالیہ جنگ میں ایک طرف طاقت، وسائل اور حربی برتری کا شہرہ ہے اور دوسری طرف جذبہ ایمانی اور شہادت کے شوق نے اپنے سے بڑے دشمن کے ساتھ طویل مزاحمت کا ولولہ پیدا کیا ہے۔ اسی جذبے کی وجہ سے بڑے نقصانات کے باوجود بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔
اکثر لوگ اپنے ناسازگار حالات، نہ ختم ہونے والی مشکلات، زندگی میں درپیش پیچیدہ مسائل، محبت، شادی، مقدمات اور امتحانات میں ناکامی سے تنگ آ کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ اگرچہ خودکشی کرنا ایک نفسیاتی عمل قرار پاتا ہے لیکن اسے خوف، بزدلی اور ناگوار حالات سے فرار سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہمارے دین میں خودکشی کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ ہر انسان کو دی گئی جان اللہ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے۔ جس طرح کسی کی جان لینا حرام ہے، ماسوا ان حالات کے جن میں ہمارا دین یا ملکی قانون جان لینے کا متقاضی ہوتا ہے، مثلاً عدالتی فیصلے وغیرہ۔
خودکشی کی کوشش کرنا ملکی اور شرعی قوانین کے تحت کسی طور جائز نہیں بلکہ یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ ہم بات بات پر ڈرتے ہیں، خوف زدہ ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ بھی اہلِ دین کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس اعتقاد اور یقین کے ساتھ ہر تکلیف، مشکل اور افتاد کو یہ سوچ کر برداشت کریں کہ یہ قسمت کی لکھی ہوئی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس کا نہ صرف پامردی سے مقابلہ کریں بلکہ اس سے نجات کی تدبیر اور خالقِ کائنات کے آگے دعا و مناجات بھی کریں۔ کیونکہ آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے والے ہی آخرکار کامیابی، عزت اور سکونِ قلب سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

