تل ابیب/غزہ:اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کوہتھیار ڈالنے کاایک بار پھر انتباہ جاری کردیاجبکہ فلسطینی دھڑوں نے اس شرط کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دبائو قرار دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں سیکورٹی اجلاس منسوخ کر کے محدود مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو جنگ کا دوبارہ آغاز تقریباً یقینی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ ایک نئے منصوبے کے تحت غزہ میں انسانی امداد،تعمیر نو اور سرحدی گزرگاہوں کے کھلنے کو حماس کی مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کی شرط سے جوڑا گیا ہے تاہم حماس سمیت دیگر فلسطینی تنظیموں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
فلسطینی تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مزاحمتی گروپوں کو سیاسی طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے جبکہ امداد کو دبائو کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب زمینی حقائق بھی تبدیل ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو بڑھاتے ہوئے تقریباً 59 فیصد علاقے تک رسائی حاصل کر لی ہے جبکہ لبنان اور مغربی کنارے سے اضافی فوجی دستے بھی منتقل کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں ممکنہ طور پر سیاسی دبائو بڑھانے اور اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ فوج کو بیک وقت کئی محاذوں پر دبائو کا سامنا ہے۔
دوسری طرف فلسطینی عوام بدستور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کے عوام ایک اور ممکنہ جنگ کے خدشے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
دریں اثناء غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پیر کی صبح شمالی غزہ میں دو فلسطینی شہری صہیونی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔اسی دوران خان یونس کے مشرقی علاقوں میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں فضائی اور توپ خانے سے بمباری کے ذریعے بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ اشیائے خورونوش، امدادی سامان کی ترسیل اور سفر پر سخت پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
ادھرقابض اسرائیلی فوج نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے جنوب میں واقع دیہات الدیرات (مشرق یطا) میں ایک فلسطینی گھر کو ملیا میٹ کر دیا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض دشمن کی فوج کی ایک بڑی نفری نے بھاری مشینری اور بلڈوزروں کے ہمراہ گاؤں پر دھاوا بولا اور پورے علاقے کا فوجی محاصرہ کرنے کے بعد ایک آباد گھر کو مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا۔
قابض حکام نے اس سفاکیت کے لیے حسب روایت یہ بہانہ تراشا کہ یہ گھر نام نہاد سی زون (ایریا سی) میں بغیر اجازت تعمیر کیا گیا تھا۔یہ کارروائی مسافر یطا اور اس کے گردونواح میں فلسطینی گھروں اور تنصیبات کو مسمار کرنے کی اس وسیع تر صہیونی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ناجائز بستیوں کی توسیع اور فلسطینی باشندوں کو ان کی آبائی زمینوں سے جبری طور پر بے دخل کرنا ہے۔
اسی تسلسل میں پیر کے روز ہی رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبے ترمسعیا میں مسلح انتہا پسند آباد کاروں نے نہتے فلسطینی کسانوں پر حملہ کر دیا اور انہیں زبردستی اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان غاصب آباد کاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی باقاعدہ سرپرستی اور حفاظت میں ترمسعیا کے میدانی علاقے میں اس وقت کسانوں کو نشانہ بنایا جب وہ اپنی زمینوں میں ہل چلا رہے تھے اور انہیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔
قابض اسرائیلی فوج نے پیر کے روز علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں دھاوے بولتے ہوئے تلاشی اور گرفتاریوں کی ایک وسیع مہم شروع کی جس کے دوران فائرنگ،گھروں کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبہ الرام میں علیحدگی کی دیوار کے قریب قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان کے پیر میں گولی لگی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
قلقلہ کے مشرقی قصبے کفر قدوم میں بھی غاصب فوج کی یلغار جاری رہی جہاں قابض اہلکاروں نے شہریوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گرفتاریوں کی مہم چلائی جس میں اسیر شادی جمعہ کے 8 بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں حزما چوکی کے قریب پتھراؤ کے نتیجے میں آباد کاروں کی ایک بس کو نقصان پہنچا جس کے بعد قابض فوج نے قصبے کے داخلی راستوں کو بند کر دیا اور عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے۔
الخلیل گورنری میں قابض فوج نے سعیر، الشیوخ اور بیت امر جیسے قصبوں پر دھاوا بولا اور گھروں میں گھس کر وسیع پیمانے پر تلاشی لی اس دوران صوتی بم پھینکے گئے اور متعدد شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں ایہاب علی الفروخ اور مراد علی جرادات شامل ہیں جبکہ ایک گاڑی بھی ضبط کر لی گئی۔
یہ جابرانہ مہم بیت لحم گورنری کے علاقوں بیت جالا اور کیسان گاؤں تک بھی پھیل گئی، اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع شعفاط کیمپ اور رام اللہ کے شمال مشرق میں در جریر قصبے میں بھی فوجی دستے داخل ہوئے۔جنین گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے شدید فوجی تعیناتی کے سائے میں نابلس روڈ اور جبل ابو ظہیر کے علاقے میں کئی گھروں پر چھاپے مارے۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر غاصبانہ طور پر قائم ناجائز بستیوں کی ترقی کے ایک وسیع پیمانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کی حکومت مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں آمد و رفت کے بنیادی ڈھانچے اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر و ترقی کے لیے تقریباً ایک ارب 75 کروڑ شیکل (جو 300 ملین ڈالر سے زائد بنتے ہیں) مختص کرے گی۔
قابض اسرائیل کا یہ نیا منصوبہ 2026ء سے 2028ء کے درمیان نافذ کیا جائے گا جس میں متعدد بستیوں کو سڑکوں کے جال کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت فلسطینی سرزمین کے خلاف قابض دشمن کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے دوران سامنے آئی ہے جہاں گذشتہ مارچ کے اوائل سے اب تک 20 نئی نوآبادیاتی چوکیاں قائم کرنے کی کوششیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں زیادہ تر زرعی اور چراگاہوں والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
صرف ایک ماہ کے دوران قابض اسرائیل نے مختلف فوجی احکامات کے ذریعے شہریوں کی 225 دونم اراضی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے قبضے کے 12 احکامات جاری کیے گئے جبکہ اس کے علاوہ سرکاری زمین قرار دینے کے ایک حکم کے ذریعے القدس گورنری کے قصبے الجیب میں شہریوں کی 6.83 دونم زمین پر قبضہ کیا گیا۔
قابض حکام نے نام نہاد سیکورٹی اقدامات کے تحت مجموعی طور پر 27 فوجی احکامات جاری کیے ہیں جن کے تحت مختلف گورنریوں میں شہریوں کی 1391 دونم زمین سے درختوں کا صفایا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ادھرمقبوضہ بیت المقدس کے مختلف اداروں نے نام نہاد ہیکل تنظیموں کی اس مہم کے خلاف شدید وارننگ جاری کی ہے جو قابض حکومت کی سیاسی شخصیات کے تعاون سے جمعہ 15 مئی کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔
یہ ایک خطرناک اور اشتعال انگیز قدم ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا اور ایسی مثالیں قائم کرنا ہے جو اس مقدس مقام کی حرمت اور مذہبی مقام و مرتبے کے منافی ہیں۔
بیت المقدس کے اداروں نے کیا کہ دھاوے کے لیے جمعہ کے دن کا انتخاب واضح طور پر طاقت کے بل بوتے پر ایک نیا رخ مسلط کرنے کی کوشش ہے اور 1967ء میں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی گئی ہو۔
بیان میں فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخت سفر باندھیں اور وہاں اپنی موجودگی کو یقینی بنا کر ان مذموم منصوبوں کو ناکام بنا دیں جبکہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
قابض اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ آوی بلوٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے قتل عام پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے سفاکانہ اعتراف کیا ہے کہ ہم فلسطینیوں کو اس بے رحمی سے قتل کر رہے ہیں جیسا کہ ہم نے 1967ء کے بعد سے اب تک کبھی نہیں کیا۔
ہارٹز اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلوٹ نے حال ہی میں ایک بند کمرہ اجلاس میں اعتراف کیا کہ قابض اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے میں قانون کے نفاذ کی پالیسی کے تحت پتھراؤ کرنے والے یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان واضح تفریق کرتی ہے کیونکہ فوجیوں کی جانب سے یہودیوں پر گولی چلانے کے سماجی نتائج انتہائی سخت ہوتے ہیں۔
بلوٹ نے اس بات پر بھی فخر جتایا کہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف گولی چلانے کی ہدایات میں نرمی کر دی ہے خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو نسل پرست دیوار کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس نے کہا کہ آج سرحدی علاقوں میں مشتبہ شخص کی گرفتاری کی کارروائی کے دوران گھٹنے یا اس سے نیچے گولی مارنے کی اجازت ہے تاکہ فلسطینیوں کے شعور میں یہ بات بٹھائی جا سکے کہ یہاں ایک رکاوٹ موجود ہے۔
اسرائیلی کمانڈر نے فلسطینی دیہاتوں میں ٹانگوں سے معذور ہونے والے فلسطینیوں کی بڑی تعداد کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ آج فلسطینی دیہاتوں میں ایسے لوگوں کی بہت سی زندہ یادگاریں موجود ہیں جنہوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی اور زخمی ہوئے، اس کی قیمت تو چکانی پڑتی ہے۔
اس نے دعویٰ کیا کہ قابض اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں سات اکتوبر2023ء جیسے حملے کو روکنے کے لیے اسلوب کے مطابق درست جارحیت کر رہی ہے اور وہ فلسطینی دیہاتوں کو مستقل محاذ جنگ میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے۔
بلوٹ نے دعویٰ کیا کہ فوج نے تین سالوں کے دوران تقریباً 1500 فلسطینیوں کو شہید کیا، اس کا من گھڑت دعویٰ تھا کہ ان میں سے 96 فیصد کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ 4 فیصد ملوث نہیں تھے اور 70 فیصد کے پاس آتشیں اسلحہ تھا جیسا کہ اس نے اپنے بیان میں زعم کیا۔
طاقت کے استعمال کا جواز پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ جو تمہیں قتل کرنے کے لیے اٹھے، تم اسے قتل کرنے میں پہل کرو اور اسے مشرق وسطیٰ کا ایک اصول قرار دیا۔اس نے مزید بتایا کہ فوج نے2025ء کے دوران پتھراؤ کرنے والے 42 فلسطینیوں کو شہید کیا جسے اس نے دہشت گردی کا نام دیا۔
دوسری جانب بلوٹ نے ان آباد کاروں کے خلاف لائیو ایمونیشن (اصلی گولیوں) کے استعمال کو مسترد کرنے کا اعتراف کیا جو پتھراؤ کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ خطرہ دونوں طرف سے برابر ہوتا ہے۔ اس نے گذشتہ واقعات کا حوالہ دیا جن میں آباد کار قابض افواج کی گولیوں سے زخمی ہوئے اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی معاشرے میں ایک شور مچ گیا۔
اس نے ان واقعات کی مثالیں دیں جہاں آباد کاروں پر گولیاں چلائی گئیں جن میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل تھا جس نے قابض فوج پر حملہ کیا تھا۔ اس نے زور دے کر کہا کہ ایسے معاملات میں دیگر ذرائع جیسے ہجوم کو منتشر کرنے یا گرفتاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
بلوٹ نے وضاحت کی کہ آباد کاروں پر گولی چلانے کے عملی پہلو سے بڑھ کر اثرات ہو سکتے ہیں اور اس کا عام کیا جانا الٹے نتائج کا حامل ہو سکتا ہے جس کے بعد اس نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ہاں، یہاں ایک خاص قسم کا امتیاز موجود ہے۔
اسی تناظر میں اس نے انتظامی حراست کے معاملے پر بھی بات کی اور بتایا کہ اس وقت 4 ہزار سے زائد فلسطینی قابض صہیونی عقوبت خانوں میں انتظامی حراست کے تحت قید ہیں جبکہ یہودی آباد کاروں کے خلاف یہ کارروائی نہیں کی جاتی کیونکہ قابض اسرائیلی وزیر جنگ نے یہودیوں کے لیے انتظامی حراست ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

