غزہ پر صہیونی یلغارتیز،8شہادتیں،غذائی قلت،پانی زہر آلود

غزہ/تل ابیب/بیروت:غزہ پر صہیونی یلغارتیز،8شہادتیں،غذائی قلت،پانی زہر آلود،انسانی بحران سنگین،عالمی اداروں نے وارننگ جاری کردی۔

ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف زمینی کنٹرول بڑھانے بلکہ غزہ میں کسی بھی نئی انتظامی ساخت کو مؤثر ہونے سے روکنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔غزہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم 25 فلسطینی جاں بحق ہوئے جبکہ حالیہ 24 گھنٹوں میں8افراد شہیدہوئے۔

جنگ بندی کے بعد اب تک مجموعی شہادتیں817 ہو چکی ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی پولیس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی بڑھا دی ہیں اور 6 اہلکاروں کوشہید کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد غزہ میں استحکام کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔زمینی صورتحال میں اسرائیلی پیش قدمی بھی جاری ہے اور وہ غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے جس سے شہریوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے باوجود بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے فوجی انخلا نہیں کیا جبکہ امریکی حمایت یافتہ انتظامی کمیٹی بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

ادھرفلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8شہداء اور 18 زخمیوں کو غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں لایا گیا جن میں سے ایک شہید کی میت ملبے کے نیچے سے نکالی گئی ہے جبکہ قابض فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک فلسطینی بچہ بھی جام شہادت نوش کر گیا ہے۔

وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی اس نسل کشی اور جارحیت کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 72,593 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,399 تک جا پہنچی ہے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے پیر کے روز غزہ شہر کے مشرق اور جنوبی پٹی کے شہر خان یونس کے مشرقی حصوں میں مکانات کو دھماکا خیز مواد سے اڑانے کی کارروائیاں کیں جس کے دوران علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

علاوہ ازیںاسرائیل نے جنوبی غزہ کی پٹی میں کیرم شالوم کراسنگ کے ذریعے 15 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جن میں سے کئی زخمی اور بھوک زدہ حالت میں تھے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رہائی اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ دو سالوں کے دوران غزہ سے حراست میں لیے گئے ہزاروں فلسطینیوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے اور انسانی حقوق کے گروپوں اور دستاویزی شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کو انسانی بنیادوں پر کم سے کم سہولیات میں رکھا جاتا ہے.

15 زیر حراست فلسطینیوں کو کریم شلوم کراسنگ کے ذریعے منتقل کیا گیا اور وہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ہمراہ سینٹرل انکلیو کے دیر البلاح میں واقع الاقصیٰ شہدا ہسپتال لائے گئے۔عینی شاہدین نے ترک سرکاری میڈیا انادولو کو بتایا کہ رہائی پانے والے قیدی شدید کمزور اور تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جن میں سے کچھ پر تشدد کے نشانات ظاہر تھے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی آباد کاروں نے پیر کے روز بیت لحم کے مشرق میں واقع شہر بیت ساحور میں متعدد فلسطینی شہریوں پر حملہ کیا جو علاقے میں فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والی مسلسل خلاف ورزیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ آباد کاروں کے ایک گروہ نے بیت ساحور کے مشرق میں واقع جبل ہراسہ کے علاقے پر دھاوا بولا اور اپنی زرعی زمینوں میں موجود شہریوں پر براہ راست گولیوں کی بوچھاڑ کر دیواقعے میںکسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس حملے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور کسانوں کو اسلحے کے زور پر اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر دیاگیا۔

قابض اسرائیلی افواج نے گذشتہ رات کے آخری پہر سے پیر کی صبح تک مقبوضہ مغربی کنارے کی مختلف گورنریوں میں بڑے پیمانے پر ایک وسیع فوجی مہم چلائی جس میں پورے پورے دیہات اور پناہ گزین کیمپوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔

قابض دشمن کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیاجن میں نو عمر لڑکے، سابق اسیران اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔ یہ مہم ایک منظم اور طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے ان کے وجود کو مٹانا اور نسل کشی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ اور کفر عقب کا قصبہ ان کارروائیوں کا مرکز رہے۔ یہاں قابض اسرائیلی فوج نے اجتماعی تشدد کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً 30 شہریوں کو حراست میں لیا اور انہیں فیلڈ انٹرویو کے نام پر سخت اذیت کا نشانہ بنایا۔

سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے قابض فوجیوں نے ایک رہائشی عمارت پر دھاوا بولا اور وہاں مقیم خاندانوں کو اسلحے کے زور پر زبردستی گھروں سے نکال کر عمارت کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا۔ اس اقدام کا مقصد علاقے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

کفر عقب میں خاندانوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی بھی عروج پر رہی جہاں سابق اسیر اشرف عمار کے والد کو گرفتار کر لیا گیا تاکہ ان کے بیٹے کو خود سپردگی پر مجبور کیا جا سکے۔ قلندیا کیمپ سے گرفتار ہونے والوں میں جہاد مناصرہ، محمود عزات اور احمد مطیر سمیت کئی نوجوان شامل ہیں جنہیں نامعلوم عقوبت خانوں کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔

الخلیل گورنری میں قابض دشمن نے شمال میں واقع بیت امر قصبے کو نشانہ بنایا۔یہاں قابض اسرائیل کی سفاکیت سے کمسن لڑکے بھی محفوظ نہ رہے اور 16 سالہ ودیع سامی عوض، 16 سالہ ایہم ابو ماریہ اور 17 سالہ محمد یحییٰ عوض کو اغوا کر کے قصبے کی زمینوں پر زبردستی تعمیر کی گئی غیر قانونی بستی کرمی تسور میں قائم فوجی کیمپ منتقل کر دیا گیا۔

قابض افواج نے نہ صرف گرفتاریاں کیں بلکہ فلسطینیوں کو تنہا کرنے کی پالیسی کو مزید تقویت دیتے ہوئے جگہ جگہ فوجی چوکیاں قائم کیں اور مرکزی و ذیلی راستوں کو لوہے کے دروازوں اور مٹی کے تودوں سے بند کر دیا جس نے پورے دیہات کو ایک کھلے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔

بیت لحم میں بھی گرفتاریوں کا جال بچھایا گیا جہاں قابض دشمن نے 55 سالہ احمد حساسنہ کو گرفتار کیا جو پہلے ہی اسرائیلی گولیوں سے زخمی اور معذور ہیں۔ اس کے علاوہ شواورہ گاؤں سے الیاس قمصیہ اور ان کے بیٹے رونی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

میدانی صورتحال کے مطابق قابض فوج نے جنین کے مغرب اور جنوب میں واقع دیہات العرقہ اور یعبد میں گھروں کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قیمتی سامان لوٹ لیا۔ اسی طرح نابلس کے مشرق میں بلاطہ کیمپ میں بھی وحشیانہ کارروائیاں کی گئیں۔

ادھرغزہ کی پٹی پر گرمی کی تپتی ہوئی لہریں دستک دے رہی ہیں مگر اس تپش سے کہیں زیادہ ہولناک وہ آبی بحران ہے جس نے غزہ کے ہر گھر کو ایک کربناک تماشابنادیا ہے۔ قابض اسرائیل کی سفاکیت نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو جس طرح زمین بوس کیا ہے، اس کے بعد یہاں پینے کا صاف پانی ایک خواب بن چکا ہے۔

دو ملین سے زائد نفوس پر مشتمل یہ مظلوم آبادی آج تاریخ کے سنگین ترین آبی قحط اور نسل کشی کے ایک ایسے اندھیرے میں دھکیل دی گئی ہے جہاں سانس لینا بھی دوبھر ہے۔یہاں پانی کا بحران صرف پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ عزتِ نفس پر ہونے والے مسلسل وار کا استعارہ ہے۔

پانی مل جائے تو وہ زندگی بخشنے کے بجائے بیماریوں کا تحفہ لیے ہوئے ہوتا ہے، گویا قابض دشمن نے فلسطینیوں کی شہ رگ پر اپنا خنجر رکھ دیا ہے اور انہیں بوند بوند کو ترسنے پر مجبور کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ ‘انروا’ اور یونیسف کی رپورٹس چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ غزہ کا 90 فیصد سے زائد پانی اب زہر بن چکا ہے۔

نمکیات کی زیادتی اور سیوریج کے غلیظ پانی کا زیر زمین ذخائر میں شامل ہونا، یہ سب اس قابض دشمن کی کارستانی ہے جس نے غزہ کی رگوں میں بہنے والے پانی کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔غزہ پر مسلط اس نسل کشی کی جنگ میں پانی کی پائپ لائنیں، پمپنگ اسٹیشن اور پانی صاف کرنے کے مراکز دشمن کے انتقام کا پہلا نشانہ بنے۔

دشمن نے دانستہ طور پر غزہ کے آبی نظام کو مفلوج کر دیا ہے جس سے انسانی بقا کا یہ شعبہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے جبکہغزہ کی پٹی میں صحت عامہ اور خوراک کا بحران، بالخصوص بچوں کے درمیان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے باعث طبی اور سرکاری حلقوں نے ہزاروں زندگیاں خطرے میں ہونے کی سنگین وارننگ دی ہے۔

یہ صورتحال پناہ گزینوں کے مراکز میں جاری بدترین حالات کے ساتھ سامنے آئی ہے، جہاں گنجائش سے زیادہ بھیڑ اور بیماریوں کے پھیلاؤ نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جبکہ دستیاب وسائل بڑھتی ہوئی ضروریات کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔

ناصر ہسپتال کے شعبہ اطفال کے ڈائریکٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غذائی قلت اب بھی بچوں کی زندگیوں کے لیے ایک ہولناک خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعدی اور ماحولیاتی امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں غزہ کی پٹی کی طبی صورتحال میں مسلسل گراوٹ ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے۔دوسری جانب فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں جبکہ تقریبا 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے،غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023ء کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھاجبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006ء کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

مرکزی غزہ کے شہر دیر البلاح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے، ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلاح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں۔

ایک دوسری فہرست میں مقامی جماعت جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آئوٹ 23 فیصد رہاجبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی۔رپورٹس کے مطابق غزہ میں کم ووٹر ٹرن آئوٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفرااسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔

ادھرلبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کا کہنا تھا اسرائیل کے ساتھ بات چیت گناہ ہے، یہ لبنان کو غیرمستحکم کردیگی، حکام کوبراہ راست مذاکرات روک کر بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کی مزاحمت جاری ہے اور تنظیم مضبوط ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی، اپنے ہتھیارنہیں ڈالیں گے، لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے، چاہے دشمن کتنی ہی دھمکیاں دے، نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اورنہ ہی شکست کھائیں گے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 14 افرادجاں بحق ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں دو بچوں اور دو خواتین سمیت مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق اور 37 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں تین خواتین شامل ہیں۔

یہ بیان لبنانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے جاری کیا گیا۔اسرائیل نے تصدیق کی کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کا ایک فوجی بھی ہلاک ہوا ہے، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو منصوبہ بندی، فوری یا جاری حملوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب صرف حملوں کے جواب میں کارروائی نہیں بلکہ فوری اور ابھرتے ہوئے خطرات کو پیشگی روکنے کیلئے بھی آزادی کا عمل حاصل ہونا ہے۔قبل ازیںلبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ڈرون کی مدد سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے طیبہ میں حزب اللہ نے ڈرون سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا۔وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ اْس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوج زخمی اہلکاروں کو منتقل کر رہی تھی، اس دوران فوجیوں کو ڈرون پر فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون زمین پر گرنے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جبکہ اسرائیلی فوجیوں کو ڈرون قریب آتے وقت بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔