انڈونیشیا اور آسٹریا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

انڈونیشیا میں 16سال سے کم عمر بچوں کے لیے قومی سطح پر سماجی میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذہو گئی

حکام نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ ‘سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں’۔ جنوب مشرقی ایشیائی ملک نے یہ اقدام اس مہینے کے اوائل میں متعارف کرایا تھا، جس کی وجہ نابالغوں میں آن لائن فحش مواد، سائبر بلیئنگ اور انٹرنیٹ کی لت کے بڑھتے ہوئے خدشات بتائے گئے تھے۔ وزیر مواصلات میوٹیا ہافد نے کہا کہ پلیٹ فارمز کو نئے قواعد کی مکمل پابندی کرنی چاہیے ورنہ انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ہافد نے کہا کہ Xاور Bigo Liveنے پہلے ہی ضابطے کے مطابق کم از کم صارف کی عمر میں تبدیلی کر دی ہے،

جبکہ دیگر پلیٹ فارمز سے فوری طور پر کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعمیل کے معاملے میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں،’ اور یہ بھی کہا کہ انڈونیشیا میں کام کرنے والی تمام کمپنیاں قومی قوانین کی پابندی کریں گی۔

دوسری طرف آسٹریا نے ملک بھر میں 14 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی منظوری دے دی ہے، جبکہ 28-2027 تعلیمی سال سے اعلیٰ ثانوی نصاب میں میڈیا لٹریسی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم کو فروغ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب چانسلر کا دوران پریس کانفرنس کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں اور اس لیے عمر کی حد مقرر کرنا ضروری ہے، جیسا کہ بعض دیگر مواد اور اشیاء کیلئے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پابندی قومی سطح پر نافذ کی جائے گی، جبکہ آسٹریا یورپی یونین میں بھی اس نوعیت کے اقدامات کے فروغ کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔

نائب چانسلر کا کہنا تھا کہ نئے تعلیمی اصلاحات کے تحت اعلیٰ ثانوی سطح پر میڈیا لٹریسی کو ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل کیا جائے گا، انفارمیٹکس کی کلاسز کو بھی وسعت دی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت شامل ہوگی تاکہ طلبہ کو ڈیجیٹل نظام کو سمجھنے اور اس کے خطرات و مواقع کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت دی جا سکے۔

آسٹریا کا یہ اقدام دنیا بھر میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔