حوثی بھی جنگ میں شامل، اسرائیل لبنانی مزاحمت سے سخت مشکلات میں

رپورٹ: علی ہلال
اِس وقت جب صہیونی ریاست نے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے وہیں لبنانی مزاحمت کی جانب سے اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عرب اور عبرانی میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل کی صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جارہی ہے جہاں حزب اللہ کے حملوں میں شدت اور فضائی و میزائل دراندازی کے بڑھتے واقعات نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ منظر نامہ سیاسی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے اور اسرائیلی قیادت کو ایک غیرمعمولی آزمائش میں ڈال رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق خطرے کی گھنٹیاں اب صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ غیرمعمولی حد تک اندرونی علاقوں تک پھیل چکی ہیں۔ حزب اللہ کے ڈرونز اسرائیلی فضائی دفاع کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن میں سے ایک درجنوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے حیفہ کے قریب تک پہنچ گیا، جو دفاعی نظام کی ناکامی کا واضح اشارہ ہے۔ اس دوران شدید خوف و ہراس پایا گیا جس کے باعث ہزاروں اسرائیلی شہری پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔ صرف 8 گھنٹوں کے دوران 18 مرتبہ سائرن بجنے پر لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانا پڑا جبکہ مختلف سمتوں سے مسلسل ڈرون حملے جاری رہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی وقت میں 4 ڈرونز اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے جن میں سے 3 کو مار گرایا گیا جبکہ چوتھا تقریباً آدھا گھنٹہ تک فضا میں پرواز کرتا رہا جو دفاعی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ مزیدبرآں لبنان، ایران اور یمن سے بیک وقت حملوں نے اسرائیل کی داخلی صورتحال پر دباو بڑھا دیا ہے جس سے دفاعی نظام کے لیے بیک وقت موثر ردعمل دینا مشکل ہوگیا ہے۔
ماہرِ اسرائیلی اُمور محمود یزبک کے مطابق اسرائیل ایک ’اسٹریٹیجک دائرے‘ میں پھنس چکا ہے جو اس کی طاقت کے حد سے زیادہ اندازے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرکے طاقت کا توازن قائم کرنا چاہتا تھا لیکن لبنان، غزہ اور ایران کے درمیان جاری تعاون نے اس حکمت عملی کو ناکام بنا دیا اور صورتحال ایک طویل جنگی دباو میں تبدیل ہوگئی۔ یزبک کے مطابق اسرائیلی قیادت نے اس ناکامی کو چھپانے کے لیے بیروت کے جنوبی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تاکہ فتح کا تاثر قائم کیا جاسکے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی عوام اب سرکاری دعووں اور حقیقی صورتحال کے درمیان فرق کو محسوس کررہے ہیں جس سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ عدم اعتماد اس وقت مزید واضح ہوا جب شمالی علاقے کے ایک مقامی رہنما نے آبدیدہ ہو کر ریاستی بے توجہی پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی حکومت باضابطہ انخلا کے احکامات دینے سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اسے اپنی کمزوری کا اعتراف سمجھا جا سکتا ہے، تاہم بہت سے شہری پہلے ہی اپنی مدد آپ کے تحت علاقے چھوڑ چکے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے بعد اسرائیل کے اندر سیاسی اور سماجی تنازعات شدت اختیار کرسکتے ہیں جو موجودہ قیادت بالخصوص وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کو گھات لگا کر نشانہ بنانے جیسے حملے بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب یمن کی ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم انصاراللہ الحوثی نے بھی جنگ شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یمن سے جنوبی اسرائیل کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردیا گیا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انصاراللہ (حوثی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق دیمونا، بئرالسبع اور ایلات میں خطرے کے سائرن بج اٹھے جبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ جاری کشیدگی کے دوران یمن سے میزائل داغے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی ویب سائٹ ’والا‘ نے عسکری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی گروپ باضابطہ طور پر موجودہ فوجی محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں میں بیلسٹک میزائلوں کی پہلی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل کے حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی ایران اور لبنان میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگی میں کی گئی۔ یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی کارروائیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران، لبنان، عراق اور فلسطین میں مزاحمتی محاذوں پر حملے بند نہیں کیے جاتے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل حوثی ترجمان نے ایک ویڈیو بیان میں براہ راست فوجی مداخلت کے لیے تیاری کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ’امریکی اسرائیلی جارحیت‘ کے خلاف ردعمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کا مقصد ایران اور خطے کے دیگر اتحادی ممالک کا دفاع کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جاری کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و استحکام اور معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
حوثیوں نے امریکا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی عالمی کوششوں کا مثبت جواب دیں۔ جاری فوجی کارروائیوں کو ’بلاجواز جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے تمام اسلامی ممالک پر حملے بند کرنے اور یمن پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اُمور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حوثی مداخلت سے آبنائے ہرمز کے بعد دوسری اہم ترین آبنائے ’باب المندب‘ بھی بندش کے خطرے سے دوچار ہوجائے گی جس سے عالمی سطح پر جہازرانی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔