ایک مذاکرے میں معروف پاکستانی سیاستدان مشاہد حسین سید اور سابق اسرائیلی جنرل و قومی سلامتی کے مشیر یاکوف امیڈرور کے درمیان اس وقت سخت بحث ہوئی جب مشاہد حسین نے بغیر کسی لگی لپٹی کے یہ موقف پیش کیا کہ ایران جنگ کے پیچھے اصل منصوبہ “گریٹر اسرائیل” ہے۔
اس مذاکرے میں 1945.com کے سینئر سکیورٹی ایڈیٹر اور کتاب “Shadow War: Iran’s Quest for Supremacy” کے مصنف برانڈن وائیخرٹ بھی شریک تھے۔
موقر معاصر جنگ کی رپورٹ کے مطابق مشاہد حسین نے کہا کہ ایران کو اس وقت برتری حاصل ہے اور یہ دراصل بنیامین نیتن یاہو کی جنگ ہے جس میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی گھسیٹ لیا ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو فولادی ضمانتیں چاہتے ہیں، مگر زمینی حقائق ان توقعات سے بالکل مختلف ہیں جو ٹرمپ اور نیتن یاہو نے سوچے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوتھے ہفتے میں بھی ایران پوری قوت سے ڈٹا ہوا ہے جبکہ ٹرمپ امن کی تلاش میں ہیں، اور ممکن ہے کہ ایپسٹین فائلز جیسے عوامل نے انہیں نیتن یاہو کے ساتھ باندھ رکھا ہو۔
اس کے جواب میں یاکوف امیڈرور نے کہا کہ حالات معمول کے مطابق ہیں اور اسرائیل نے توقع سے کم انٹرسیپٹر استعمال کیے ہیں۔ ان کے مطابق اصل ہدف ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔ دوسری جانب برانڈن وائیخرٹ نے موقف اختیار کیا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹرسیپٹرز کے خاتمے کے قریب ہے اور ایرانی حکمت عملی “آہستہ آہستہ تھکا دینا” کارگر ثابت ہو رہی ہے۔
مذاکرے کی میزبان، جو العربیہ ٹی وی سے وابستہ تھیں، نے پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے بھیجے گئے ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ اپنی پانچ شرائط کے تحت ہی جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کی خودمختاری سے متعلق سوال پر امیڈرور نے کہا کہ یہ اسرائیل کے لیے بنیادی مسئلہ نہیں، اور اگر امریکہ اس پر رضامند ہو جائے تو اسرائیل ممکنہ طور پر اس کی مخالفت نہیں کرے گا۔
مشاہد حسین نے کہا کہ دونوں فریق اس وقت زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے 15 نکات بھی ایسے ہیں جنہیں خود امریکہ جانتا ہے کہ ایران قبول نہیں کرے گا۔ ابتدا میں معاملہ صرف جوہری پروگرام تک محدود تھا، مگر اب مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی سخت شرائط رکھ دی ہیں۔ ان کے خیال میں توازن اسی وقت آئے گا جب سنجیدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خود کو برتری کی پوزیشن میں سمجھتا ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور اسے امریکہ و اسرائیل پر اعتماد نہیں۔ ان کے مطابق ایران کو دو بار دھوکہ دیا گیا، اس لیے وہ اب ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک دیرپا امن معاہدہ طے ہو۔
برانڈن وائیخرٹ نے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایک مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے جس کے تحت امریکہ، اسرائیل اور عرب ریاستوں کو تھکا دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ برطانوی ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسرائیل چند دنوں میں اپنے انٹرسیپٹرز سے محروم ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اپنے دفاعی ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔
اس کے برعکس یاکوف امیڈرور نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مکمل منصوبہ بندی کے تحت جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے پاس کم از کم چھ ہفتے مزید جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق ایران روزانہ 100 سے 200 میزائل داغنے کا منصوبہ رکھتا تھا مگر وہ اس میں ناکام رہا ہے۔
مشاہد حسین نے کہا کہ رائے اپنی جگہ مگر حقائق واضح ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ 24 گھنٹوں میں ایران کی قیادت کو ختم کر دیا جائے، جو ناکام ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ حساس مقامات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔
بحث کے دوران وائیخرٹ نے ویتنام جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ محض فضائی برتری جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ امیڈرور نے اس موازنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگی ٹیکنالوجی ماضی سے بالکل مختلف ہے اور اہداف کی درستگی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
آخر میں مشاہد حسین نے کہا کہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں، تجارت، سیاحت اور خطے کا استحکام سب متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اس وقت “ڈرائیونگ سیٹ” پر ہے اور حالات کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکہ ایک “فیس سیونگ” راستہ تلاش کر رہا ہے۔
اس کے جواب میں امیڈرور نے کہا کہ اگر روزانہ کی بمباری کو کامیابی کہا جائے تو پھر اسے ایرانی کامیابی کہا جا سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق اسرائیل اپنے اہداف کے مطابق پیش رفت کر رہا ہے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

