رمضان کے بعد کی زندگی اور اصل امتحان

عید کا دن آتا ہے تو خوشیوں کی ایک لہر پورے معاشرے میں دوڑ جاتی ہے۔ گلے ملنا، مسکراہٹیں بانٹنا، دُعائیں دینایہ سب خوبصورت منظر ہیں مگر عید کی اصل حقیقت اِن خوشیوں سے کچھ آگے ہے۔ عید دراصل ایک اعلان ہے، ایک پیغام ہے، ایک سوال ہے جو ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے:کیا رمضان نے ہمیں بدل دیا یا ہم صرف رمضان کے ساتھ بدلنے کا ڈرامہ کرتے رہے؟
رمضان کا مہینہ کسی عام مہینے کی طرح نہیں ہوتا۔ یہ تربیت کا مہینہ ہوتا ہے، اصلاح کا مہینہ، اپنے آپ سے ملاقات کا مہینہ۔ اس مہینے میں انسان اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے نظر آتے ہیں جیسے وہ واقعی بدل گئے ہوں؛ نمازوں کی پابندی، قرآن کی تلاوت، زبان پر قابو، دل میں نرمی اور دوسروں کے لیے ہمدردی۔لیکن عید کے بعد اکثر ایک خاموش تبدیلی شروع ہوجاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہی پرانی مصروفیات، وہی غفلت، وہی بے حسی دوبارہ ہماری زندگی میں داخل ہو جاتی ہے۔ مساجد میں صفیں چھوٹی ہونے لگتی ہیں، قرآن الماری میں واپس چلا جاتا ہے اور وہ دل جو رمضان میں نرم ہو گئے تھے دوبارہ دنیا کی سختیوں میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک کر سوچنا چاہیے۔ رمضان ایک تربیتی کیمپ تھا۔ ایک ایسا کیمپ جس میں ہمیں صبر سکھایا گیا، برداشت سکھائی گئی، نفس کو قابو میں رکھنا سکھایا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ سکھایا گیا کہ انسان اپنی خواہشات سے بڑا ہوسکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس تربیت کا نتیجہ کیا نکلا؟ کیا ہم واقعی وہی انسان ہیں جو رمضان سے پہلے تھے؟یا ہمارے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے؟اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نماز قائم رہتی ہے، اگر ہمارے اخلاق بہتر رہتے ہیں، اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، تو یقین جانیے یہی رمضان کی اصل کامیابی ہے۔ لیکن اگر رمضان ختم ہوتے ہی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے تو پھر ہمیں خود سے سچ بولنا ہوگا کہ شاید ہم نے رمضان کو صرف ایک رسم کی طرح گزار دیا۔
مزید پڑھیں: تمہاری اصل قدر تمہارے چھپے رہنے میں ہے!
عید کے بعد کی زندگی دراصل خود احتسابی کا نام ہے۔یہ وہ وقت ہے جب انسان کو کسی اور کے نہیں بلکہ اپنے دل کے سامنے جواب دینا ہوتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دین صرف ایک مہینے کا جوش نہیں بلکہ پوری زندگی کا سفر ہے۔ اسلام ہمیں مستقل مزاجی سکھاتا ہے۔ چھوٹا عمل ہو مگر مسلسل ہو یہی اصل کامیابی ہے۔اس لیے عید کے بعد سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے آپ سے ایک سادہ مگر سچا وعدہ کریں:ہم رمضان کو صرف یاد نہیں کریں گے بلکہ اسے اپنی زندگی میں زندہ رکھیں گے۔نماز کو اپنے دن کا حصہ بنائیں، نہ کہ صرف ایک عادت جو رمضان کے ساتھ آتی اور چلی جاتی ہے۔ قرآن کو صرف ثواب کی کتاب نہ سمجھیں بلکہ ہدایت کی روشنی سمجھ کر روزانہ اس سے تعلق قائم رکھیں۔ لوگوں کے ساتھ وہی نرمی اختیار کریں جو رمضان میں ہمارے دلوں میں پیدا ہوئی تھی۔
یاد رکھیے! معاشرہ ایک دن میں نہیں بدلتا مگر ایک انسان کا بدلنا بھی کم بات نہیں۔اگر ہر شخص رمضان کے بعد اپنے اندر تھوڑی سی روشنی بچا لے تو یہی روشنی پورے معاشرے کو بدل سکتی ہے۔اکثر لوگ عید کے دن نئے کپڑے پہن کر خوش ہوتے ہیں اور یہ خوشی جائز بھی ہے مگر اصل خوشی اُس وقت ہونی چاہیے جب انسان اپنے کردار میں نیا پن محسوس کرے۔ جب وہ محسوس کرے کہ وہ پہلے سے زیادہ صابر ہے، زیادہ نرم ہے، زیادہ سچا ہے۔یہی رمضان کا اصل تحفہ ہے۔عید کے بعد کی زندگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اب ہمیں کسی ماحول کے سہارے کی ضرورت نہیں، اب ہمیں خود اپنے ایمان کو زندہ رکھنا ہے کیونکہ ایمان کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ تنہائی میں بھی قائم رہے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ رمضان کا اصل مقصد ہمیں تھکانا نہیں تھا بلکہ جگانا تھااور اگر ہم واقعی جاگ گئے ہیں تو پھر ہماری زندگی عید کے بعد بھی بدلی ہوئی نظر آنی چاہیے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل عید اُس دن ہوگی جب ہمارا کردار بدل جائے گااور ہم رمضان کے بعد بھی رمضان والے انسان بنے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! (فاروق بشیر)