مسٹر پریزیڈنٹ! آپ نے یہ جنگ کیوں شروع کی ہے؟
یہ ہے وہ سوال جو نیو یارک ٹائمز نے 28 فروری 2026 کو اپنے اداریے میں صدر ٹرمپ سے پوچھا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایک اور حملے سے چند گھنٹے قبل عالمی میڈیا یہ خبر نشر کر رہا تھا کہ عمان کی کوششوں سے جنیوا میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو بھی دھوکے کیلئے استعمال کیا اور مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک نئی جنگ کی آگ پورے مشرق وسطی میں پھیل چکی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی کے خاتمے کے بعد اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکیں گے۔ بظاہر ٹرمپ کا مقصد ایران میں حکومت کو تبدیل کرنا نظر آتا ہے لیکن کیا حکومت کی تبدیلی سے ایران میں استحکام آجائے گا؟ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مل کر دنیا کو ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
اس ناچیز نے یکم جنوری 2026 کو روزنامہ جنگ میں آگے خطرہ ہی خطرہ کے عنوان سے اپنے کالم میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس جنگ سے بچنے کے لیے 2026 میں سب کو مل کر نیتن یاہو کو روکنا ہو گا۔ نیتن یاہو کو صرف ٹرمپ روک سکتے تھے لیکن افسوس کہ وہ اسکے پارٹنر بن گئے اور خامنہ ای کی موت کا اعلان کر کے داد طلب کر رہے ہیں۔ کیا یہ جنگ صرف ایران میں حکومت کی تبدیلی تک محدود رہے گی؟
نیو یارک ٹائمز امریکی صدر سے جنگ شروع کرنے کی وجہ کیوں پوچھ رہا ہے؟ کیا نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی کا وہ انٹرویو نہیں سنا جس میں موصوف نے کھل کر گریٹر اسرائیل کی حمایت کی تھی؟ اس جنگ کے آغاز سے پہلے دو اہم واقعات پیش آئے جنکا گریٹر اسرائیل کے منصوبے سے بہت گہرا تعلق ہے۔ پہلا واقعہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس دورے کے آغاز سے ایک دن پہلے کہا کہ وہ بھارت کیساتھ ملکر شیعہ انتہا پسندوں اور سنی انتہا پسندوں کے خلاف ایک وسیع تر علاقائی اتحاد بنانے جا رہے ہیں۔ اس دعوے میں یہ عزم نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل اور بھارت ملکر مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کریں گے اور ان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں گے۔
دوسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ جیسے ہی مودی اسرائیل پہنچے تو افغان طالبان نے پاکستان سے ملحقہ سرحد پر 51حملے کر دیئے۔ پاکستان نے ان حملوں کا انتہائی برق رفتاری سے سخت جواب دیا اور پہلی دفعہ افغانستان کو یہ احساس دلایا کہ اس نے کسی ایٹمی طاقت کو چھیڑا ہے۔ میں پاکستان پر ان حملوں میں اور مودی کے دورہ اسرائیل میں زبردستی کوئی تعلق تلاش نہیں کر رہا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اسرائیل میں بھارت کے موجودہ سفیر جے پی سنگھ نومبر 2024 میں کابل گئے تھے اور طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم افغان رہنماوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جے پی سنگھ اسلام آباد میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کو دہلی کے قریب لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ افغان بھائی مانیں یا نہ مانیں لیکن سب کو نظر آ رہا ہے کہ بھارت انہیں پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے۔ 26 اور 27فروری کی درمیانی شب جب افغان طالبان نے پاکستان پر حملے کئے تو ہم مودی کی اسرائیل میں موجودگی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کسے معلوم کہ طالبان کو پاکستان پر حملے کا مشورہ دینے والے دراصل مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سازش کر رہے تھے۔ پاکستان کوبھارت اور اسرائیل کی پارٹنر شپ کا بہت اچھی طرح پتہ ہے اور یہ خدشہ موجود تھا کہ اس پارٹنر شپ کے نتیجے میں ان دونوں کی طرف سے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی جا سکتی ہے جس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ افغان طالبان بھی شامل ہو سکتے ہیں لہذا ایسا کوئی وقت آنے سے قبل ہی انہیں افغانستان کے اندر گھس کر جواب دیا گیا۔
اب آیئے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی طرف سے شروع کی گئی نئی جنگ کی طرف جو مشرق وسطی سے جنوبی ایشیا کی طرف بڑھ رہی۔ جب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی نے گریٹر اسرائیل کی حمایت کی تو مجھے 2006 کی لبنان اسرائیل جنگ یاد آگئی۔ اس جنگ کے دوران میں نے کئی ہفتے لبنان اور شام میں گزارے تھے – اسوقت برطانوی صحافی رابرٹ فسک بیروت میں تھے اور دنیا بھر سے جنگ کی رپورٹنگ کے لیے بیروت آنے والے صحافی رابرٹ فسک کی باتیں بہت غورسے سنتے تھے۔ میں نے فسک کی زبان سے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تفصیل پہلی دفعہ سنی۔ فسک کہا کرتے تھے کہ صیہونی اس منصوبے کا جواز انجیل اور تورات سے تلاش کرتے ہیںلیکن یہ درحقیقت دنیا پر سیاسی و اقتصادی غلبہ قائم کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ یہیں پر میں نے ایک امریکی یہودی کرنل رالف پیٹرز کے بارے میں سنا جس نے 2006 میں امریکی آرمڈ فورسز جرنل میں نئے مشرق وسطی کا نقشہ شائع کیا تھا جس میں شام، اردن، لبنان، مصر اور عراق کے علاوہ سعودی عرب کی سرحدیں بھی بدل دی گئیں۔ رالف پیٹرز کے نقشے میں آزاد کردستان اور آزاد بلوچستان بھی شامل تھا۔ آزاد کردستان بنانے کیلئے عراق اور ترکی کو توڑنا ضروری تھا اور آزاد بلوچستان بنانے کے لیے ایران، پاکستان اور افغانستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ کرنل رالف پیٹرز نے اپنے اس نقشے کو سامنے رکھ کر کئی مضامین لکھے۔ پھر اس نے NEVER QUIT THE FIGHT (جنگ جاری رکھو) کے نام سے ایک کتاب بھی لکھ دی۔ کرنل رالف پیٹرز نے پاکستان اور سعودی عرب کو غیر حقیقی ریاستیں قرار دیا۔ اس نے سعودی عرب کے کچھ علاقے اردن میں شامل کر دیے۔ ایران کے کئی علاقے آذربائیجان کو دے دیئے اور کچھ علاقے آزاد بلوچستان میں شامل کر دیئے۔ کرنل رالف پیٹرز نے اس نئے نقشے کو خون کی سرحدیں قرار دیا۔
خون کی ان سرحدوں کے پیچھے دراصل گریٹر اسرائیل کا منصوبہ تھا جیسے مائیک ہاکبی جیسے امریکی آج کھلم کھلا سپورٹ کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کا گریٹر اسرائیل سے کیا مفاد وابستہ ہے؟ مودی دراصل مسلمانوں کا دشمن ہے۔ مسلمانوں پر ظلم اور انہیں تقسیم کرنے کا ہر منصوبہ اس کے دل کی آواز ہے۔ وہ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کو ایک ہی سلسلے کی کڑی سمجھتا ہے۔ مودی سرکار نے بھارتی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ لگا رکھا ہے جس کے تحت وہ پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور تبت کے کچھ علاقوں کو بھارت میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ افغان طالبان نے آج تک اکھنڈ بھارت کی مذمت نہیں کی یا پھر انہیں اس کا ابھی ادراک ہی نہیں۔ بہرحال اسرائیل اور بھارت دراصل دو نئی عالمی طاقتیں بننا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل کی صہیونی لابی امریکا کے صدر ٹرمپ کو استعمال کر رہی ہے۔
امریکا کے بہت سے یہودی دانشور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ وہی منصوبہ ہے جو تھیوڈور ہرزل نے 1904 میں بنایا تھا جس کے تحت وہ صہیونی تحریک کو ایک نئی عالمی طاقت بنانا چاہتا تھا۔ ایک ایسی نئی عالمی طاقت جو امریکا پر بھی غلبہ پانا چاہتی تھی۔ ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کے خلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سن کر بہت خوش ہوتے تھے بہت جلد دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ ان کی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے- نفرت کی اس علامت کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنیوالے بہت جلد پچھتائیں گے کہ ہم نیموت کے سوداگر کو امن کا پیامبر کیوں قرار دیا؟

