اقوام متحدہ کی رپورٹ اور پاک فوج کا آپریشن غضب للحق

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سینتیسویں رپورٹ، جو 4 فروری کو جاری کی گئی، افغانستان کے بگڑتے ہوئے سیکورٹی ماحول اور اس کے علاقائی طور پر پڑنے والے غیر مستحکم اثرات، بالخصوص پاکستان کے لیے، کا ایک سنگین جائزہ پیش کرتی ہے۔ متعدد رکن ممالک کی انٹیلی جنس پر مبنی یہ رپورٹ افغان سرزمین پر نامزد دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دیتی ہے اور انہیں سرحد پار حملوں سے جوڑتے ہوئے افغان عبوری حکام کے ان دعووں کو چیلنج کرتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسری ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ رپورٹ میں افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہوئی آپریشنل طاقت پر روشنی ڈالی گئی ہے جس نے پاکستان کے اندر حملوں میں تیزی لائی ہے، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان، معاشی خلل اور سفارتی تناؤ پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ افغان حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائی کی ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نسبتاً سازگار ماحول میں کام کر رہی ہے، جہاں اسے نقل و حرکت کی زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ اپنی قیادت، بھرتی، تربیت اور سرحد پار ہم آہنگی کی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کر رہی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ یہ رپورٹ القاعدہ سے وابستہ گروہوں کی صلاحیت اور داعش خراسان کی جانب سے لاحق مسلسل خطرے پر زور دیتی ہے، جو تزویراتی ناکامیوں کے باوجود بیرونی کارروائیوں کا ارادہ اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی بھی رکن ملک نے کابل کے اس دعوے کی حمایت نہیں کی کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ کام نہیں کر رہا، جس سے ساکھ کا ایک بڑا فقدان واضح ہوتا ہے اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ خدشات کو سفارتی توثیق ملتی ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم نے افغان حکام کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے نفاذ میں عدم مساوات کا بھی مشاہدہ کیا ہے، جہاں بعض گروہوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ چھوٹ دی گئی ہے، جس سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تنا میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی مسلسل فوجی اور انٹیلیجنس کارروائیوں نے تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورکس کو درہم برہم کیا ہے اور سینئر کمانڈروں کا خاتمہ کیا ہے، لیکن سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی پاکستان کو ایک دیرپا غیر متناسب خطرے سے دوچار رکھتی ہے جو سیکیورٹی کے انتظام اور علاقائی معمولات کی بحالی کے امکانات کو پیچیدہ بناتی ہے۔

اس رپورٹ کی اہمیت وقت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر جاری ہے۔ سیکورٹی واقعات میں نہ صرف تعداد بلکہ ان کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کو محض مقامی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ ایک بین الاقوامی رجحان ہے جو نظریاتی ہم آہنگی اور محفوظ پناہ گاہوں کی وجہ سے برقرار ہے۔ یہ صورتحال خطے میں معاشی تعاون اور تجارت کے بڑے منصوبوں کے لیے بھی خطرہ ہے جن کی کامیابی کے لیے پرامن ماحول بنیادی شرط ہے۔

سفارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ رپورٹ پاکستان کی ان کوششوں کے لیے سازگار ہے جن کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے اپنے خدشات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک مستند ادارے کی جانب سے یہ تسلیم کرنا کہ افغانستان میں مقیم دہشت گرد پاکستان پر حملے کر رہے ہیں پاکستان کے دیرینہ موقف کی توثیق ہے۔ سلامتی کونسل نے اس رپورٹ کے ذریعے موثر طریقے سے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ جب تک سرحد پار پناہ گاہیں موجود ہیں صرف دو طرفہ مذاکرات سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ رپورٹ صرف پاک افغان تعلقات تک محدود نہیں بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں نے بھی افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے جن کی اس رپورٹ نے تصدیق کی ہے۔ افغان سرزمین سے کام کرنے والے گروہوں کے پڑوسی ممالک کی تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی ملک تنہا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف انفرادی ردعمل کے بجائے علاقائی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں افغانستان کی اندرونی حکمرانی اور عبوری حکام کی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ افغان حکام کو ایک طرف ملکی کنٹرول برقرار رکھنے اور دوسری طرف انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی توقعات پر پورا اترنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ان کے اس عہد کی ساکھ کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب وہ تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں۔ انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں جانبداری بین الاقوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے لے کر سیاسی حوالے سے تسلیم کیے جانے تک کے تمام معاملات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ رپورٹ مسلسل چوکنا رہنے اور پابندیوں کے نفاذ کے لیے ایک مستند بنیاد فراہم کرتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے کا باعث نہ بنے۔ مانیٹرنگ ٹیم کی دستاویزات ان پالیسی فیصلوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جن کا مقصد افغان حکام کے رویے میں تبدیلی لانا ہے۔ یہ رپورٹ دہشت گرد گروہوں کے زمینی حقائق کو دستاویزی شکل دے کر ایک زیادہ ہدف شدہ اور سٹریٹجک عالمی ردعمل کو ممکن بناتی ہے۔

یہ سینتیسویں رپورٹ ایک تفصیلی اور وسیع اثرات کی حامل دستاویز ہے جو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دہشت گرد گروہ اب بھی افغان سرزمین سے کام کر رہے ہیں اور ٹی ٹی پی نے وہاں سے پاکستان کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی ہے جس سے علاقائی استحکام خطرے میں ہے۔ یہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بھی تسلیم کرتی ہے اور اس عالمی اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے کہ افغان تردید کے باوجود پناہ گاہیں موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ نہ صرف اس کے خدشات کی توثیق ہے بلکہ دہشت گردی کے ڈھانچے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ مستقبل کا راستہ مسلسل سفارتی کوششوں، افغان حکام کی جانب سے تصدیق شدہ کارروائیوں اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کی اس عزم کے ساتھ نگرانی کا متقاضی ہے کہ افغانستان کو دوبارہ علاقائی عدم استحکام کا مرکز نہیں بننے دیا جائے گا۔

بین الاقوامی برادری نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خدشات بے بنیاد نہیں تھے اور اس موقف کو اس وقت مزید تقویت ملی جب طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت نے مبینہ طور پر پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کیا۔ افغانستان نے اپنی سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کے ذریعے تنا کو بڑھانے کی کوشش کی۔ ان حالات کے پیش نظر پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے طالبان حکومت کی سرحد پار سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کے جواب میں آپریشن غضب للحق شروع کیا جس کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان جنگجوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور طالبان کی متعدد چوکیوں کو بھی تباہ یا قبضے میں لے لیا گیا۔ اب اس بات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ عالمی برادری اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے اور اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کی پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت کی جائے۔