ماہِ صیام حیاتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

(سیدہ آمنہ محمد الیاس )
ماہِ رحمت کی ساعتیں جب فضاوں میں نور اور دِلوں میں خشوع بھر دیتی ہیں تو سیرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ روشن پہلو اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں جو انسانیت کے لیے سراپا ہدایت و محبت ہیں۔ رمضان المبارک محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ رحمت، سخاوت، شفقت اور قرآن سے تعلق کی تجدید کا موسم ہے اور ان تمام اوصاف کا کامل نمونہ ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ملتا ہے۔
اِس بابرکت مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی گہرائی، بندگانِ خدا سے ہمدردی اور عطا و کرم کی وسعت ایسے رنگ بکھیرتی جو ہر دل کو ایمان کی تازگی اور عمل کی حرارت عطا کرتے ہیں۔ یہ وہ مبارک نقوش ہیں جو اُمت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ رمضان کو اسی جذبہ اخلاص اور محبت کے ساتھ گزارے جس کا عملی نمونہ نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔ چنانچہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کی بخشش اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں اللہ کے سب بندوں سے فائق تھے اور رمضان المبارک میں آپ کی یہ کریمانہ صفت اور زیادہ ترقی کرجاتی تھی۔ رمضان کی ہر رات میں جبریل امین علیہ السلام آپ سے ملتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو قرآن مجید سناتے تھے اور آپ کی صفت ِسخاوت رمضان میں تیز ہواو¿ں سے زیادہ بڑھی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری ومسلم)
جی ہاں قارئین! رمضان المبارک آتا تو جانِ جاناں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت، شفقت اور سخاوت اپنے عروج پر پہنچ جاتی۔ آپ تو ویسے بھی سراپا رحمت تھے مگر اس بابرکت مہینے میں آپ علیہ السلام کی کریمانہ شان اور بھی نمایاں ہوجاتی۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں کہ آپ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات فرماتے اور قرآنِ مجید کا دور کرتے تو آپ کی سخاوت تیز رفتار ہوا سے بھی بڑھ جاتی۔ سوچیے ذرا کہ وہ منظر کتنا روح پرور ہوگا کہ جبریل علیہ السلام، جو وحی کے امین ہیں، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوں گے اور آپ ان کے ساتھ قرآن کا دَور فرماتے ہوں گے۔ اس مبارک دور میں نہ صرف آیاتِ الٰہی کی تلاوت ہوتی ہوگی بلکہ ان کے معانی، حکمتیں اور پیغام دلوں میں تازہ ہوجاتے ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ رمضان قرآن سے تعلق جوڑنے، اسے سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے اور زندگیاں اس پر لگانے کا مہینہ ہے۔ آپ کی سخاوت محض مال دینے تک محدود نہ تھی بلکہ آپ وقت دیتے، توجہ دیتے، دعائیں دیتے اور دل جوئی فرماتے۔ دورِ نبوت میں کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا، کوئی ضرورت مند محروم نہ رہتا۔ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات میں بھی خصوصی اضافہ فرما دیتے تھے۔
قیام اللیل کی لذت، دعا و استغفار کی کثرت اور اعتکاف کی خلوت؛ آپ کا ہر عمل اُمت کے لیے نمونہ ہے کہ عبادت اور خدمتِ خلق ساتھ ساتھ لے کر چلیں۔ جانِ جاناں صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ حسین اعمال ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم بھی رمضان کو محض رسم نہ بنائیں، دسترخوانوں کو سجانے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے قرآن، سخاوت، عبادت اور اخلاق کی تجدید کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر چلنے اور رمضان المبارک کو اسی شوق و اخلاص کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!