خامنہ ای کے قتل کی کارروائی کیسے انجام دی گئی؟

رپورٹ: علی ہلال
مشرقِ وسطی میں طاقت کے توازن کو بدل دینے والی ایک ڈرامائی پیش رفت میں ایرانی حکومت نے اتوار کی علیٰ الصبح سرکاری طور پر اعلان کیا کہ ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایک ایسے حملے میں جاں بحق ہوگئے جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران میں واقع ایک سرکاری کمپلیکس پر کیا گیا تھا۔
ایرانی حکومت نے متنبہ کیا کہ یہ سنگین جرم بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق خامنہ ای ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں سرکاری امور انجام دے رہے تھے کہ حملے میں مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں ان کی بیٹی، داماد، پوتی اور بہو بھی جاں بحق ہوئیں۔اس نوعیت کے حملے کو 1979ء کے انقلاب کے بعد ایرانی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبارات دی نیویارک ٹائمز اور دی وال سٹریٹ جرنل نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے اس کارروائی کی تفصیلات شائع کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) نے کئی ماہ تک ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نگرانی کی اور ان کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں سے متعلق انتہائی درست معلومات اکٹھی کیں۔ اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس کو اس وقت اہم پیش رفت حاصل ہوئی جب ادارے کو معلوم ہوا کہ ہفتے کی صبح تہران کے وسط میں واقع ایک سرکاری کمپلیکس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا غیرمعمولی اجتماع ہونے والا ہے اور خود خامنہ ای بھی اس میں شریک ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اعلیٰ درجے کی درست معلومات اسرائیل کو فراہم کی گئیں جو پہلے ہی رات کی تاریکی میں حملے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ تاہم نئی معلومات کے بعد اسرائیلی قیادت نے وقت تبدیل کرتے ہوئے دن کے اجتماع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیلی وقت کے مطابق صبح چھ بجے لڑاکا طیارے روانہ ہوئے اور دو گھنٹے پانچ منٹ بعد تہران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 49 منٹ پر، ہدف بنائے گئے کمپلیکس پر 30 بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تہران میں ایک ہی وقت میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔ عہدیدار کے مطابق ایران کی جنگی تیاریوں کے باوجود اسرائیل حکمتِ عملی کی حیران کن برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ایرانی خبر رساں ادارے (slamic Republic News Agency ارنا) کے مطابق اس حملے میں صرف خامنہ ای ہی نہیں بلکہ کئی اعلیٰ حکام بھی مارے گئے جن میں ایڈمرل علی شمخانی، جنرل محمد باکپور، وزیر دفاع امیر ناصر زادہ، پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر سید ماجد موسوی اور نائب وزیرِانٹیلی جنس محمد شیرازی شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں تقریباً 40 ایرانی عہدیدار ہلاک ہوئے۔ بین الاقوامی تعلقات کی محقق وسام باسندوہ نے اس کارروائی کو نہایت حساس نوعیت کی انٹیلی جنس دراندازی قرار دیا۔ان کے مطابق مستند معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اسرائیلی خفیہ عنصر ایرانی قیادت کے انتہائی قریب رسائی رکھتا تھا اور اس نے اندرونی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔
اندرونی دراندازی کیسے ہوئی؟ اس بابت وسام باسندوہ کے مطابق مذکورہ عنصر نے خود خامنہ ای کو اس حساس مقام پر اجلاس کے انعقاد کے لیے مکمل سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی اور کسی فوری فوجی کارروائی کے خطرے کی تردید کی۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس کی تفصیلات، شرکا کے نام اور مرکزی ہدف کی موجودگی کی تصدیق تقریباً حقیقی وقت میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد تک پہنچائی گئی۔ رپورٹس کے مطابق فوری فیصلے کے بعد جدید نوعیت کے ہتھیار سے نہایت درست نشانہ لگایا گیا تاکہ ہدف کی شناخت کے بایومیٹرک تصدیق میں آسانی ہو۔ بعدازاں مبینہ طور پر متعلقہ خفیہ عنصر نے لاش کی بصری دستاویزات تیار کرکے اسرائیلی قیادت کو ارسال کیں تاکہ کارروائی کی کامیابی کی تصدیق ہوسکے۔ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق یہ آپریشن انٹیلی جنس اور عسکری سطح پر مکمل طور پر اسرائیلی تھا جبکہ امریکی کردار سیاسی و لاجسٹک معاونت، پیشگی رابطہ کاری اور منظوری تک محدود رہا اور زمینی کارروائی میں براہِ راست شرکت نہیں کی گئی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اندرونِ ملک عوام کو یقین دلایا کہ ایرانی نظامِ حکومت اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ کسی بھی اعلیٰ رہنما کی موت کی صورت میں فوری طور پر اہل افراد کی تقرری ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنماوں کے قتل سے اس معرکے میں پیش رفت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس دوران ایرانی صدر مسعود بزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اور مجلسِ صیانتِ دستور کے ایک فقیہ پر مشتمل ایک عبوری انتظام سامنے آیا ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک اُمور سنبھالے گا۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران کی قیادت کے لیے اچھے امیدوار موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت ایران میں اصل فیصلہ ساز کون ہے۔ ادھر تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں مظاہروں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی حکومت نے 40 روزہ سوگ اور سات روزہ سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔