رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
”رمضان مبارک ہو، اللہ اس بابرکت مہینے میں سعودی عرب پر خیر، امن اور برکتیں نازل فرمائے۔ حرم پاک سے آپ کا بھائی جان پگانو….“ یہ وہ دعا آمیز پیغام تھا جو امریکی کاروباری شخصیت جان پگانو (John Pagano) نے مسجدِ حرام میں داخل ہوتے وقت ایک مختصر ویڈیو میں جاری کیا۔ پیغام بھی عربی زبان میں۔
اس وقت وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی زندگی کا پہلا روزہ مکہ مکرمہ میں افطار کرنے جا رہے تھے۔ سفید کندورہ اور سر پر سعودی کیفیہ، آنکھوں میں عقیدت اور چہرے پر ایک گہری روحانی طمانیت، یہ منظر نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور اسے ایک روحانی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ واقعہ تو دو تین دن پہلے پیش آیا، لیکن اس کی بنیاد اکتوبر 2025ء میں رکھ دی گئی تھی، جب جان پگانو نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے قبولِ اسلام کی خبر کے ساتھ ہی سعودی حکومت نے انہیں اعزازی سعودی شہریت بھی عطا کی۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو مغربی کارپوریٹ دنیا میں اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہا ہو، یہ فیصلہ محض مذہبی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور روحانی سفر کی علامت سمجھا گیا۔
جان پگانو کی پیشہ ورانہ شناخت بنیادی طور پر سعودی عرب کے میگا سیاحتی منصوبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ سعودی عرب کی معروف ترقیاتی کمپنی Global Sea Red (سابقہ ریڈ سی ڈیویلپمنٹ کمپنی) کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ ان کی قیادت میں بحیرہ احمر کے ساحل پر قائم ہونے والا عظیم الشان سیاحتی منصوبہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سرمایہ کاری حلقوں میں بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، ماحول دوست ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرنا ہے۔پگانو کا تعلق اصل میں کینیڈا سے ہے، اگرچہ انہوں نے اپنے کیریئر کا بڑا حصہ امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں گزارا۔ ان کے پاس رئیل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ، انفرااسٹرکچر فنانسنگ اور لگژری ہاسپیٹیلٹی منصوبوں کا 35 سال سے زائد تجربہ ہے۔ وہ اس سے قبل لندن کے معروف کینری وارف منصوبے سے بھی وابستہ رہے اور بہاماس میں اربوں ڈالر مالیت کے ”بہامار“ ریزورٹ کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا بنیادی جوہر بڑے پیمانے پر پیچیدہ منصوبوں کو مالی، تکنیکی اور انتظامی سطح پر کامیاب بنانا ہے۔
سعودی عرب میں اُن کی آمد دراصل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن کے تحت ہوئی جس کا مقصد عالمی مہارت کو مملکت کی معاشی تبدیلی میں شامل کرنا تھا۔ پگانو نے نہ صرف ایک کارپوریٹ ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دیں بلکہ سعودی ثقافت، زبان اور سماجی اقدار سے بھی قربت اختیار کی۔ شاہی خاندان سے بھی مراسم قائم کیے۔ قریبی حلقوں کے مطابق انہی برسوں میں ان کے اندر اسلام کے بارے میں سنجیدہ مطالعہ اور فکری تجسس پیدا ہوا۔عرب میڈیا کے مطابق ان کے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کسی اچانک جذباتی کیفیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک تدریجی فکری سفر کا حاصل تھا۔ سعودی معاشرے میں رہتے ہوئے انہوں نے نہ صرف اسلامی عبادات کا مشاہدہ کیا بلکہ قرآنِ مجید کے تراجم کا مطالعہ بھی کیا۔ رمضان المبارک کے اجتماعات، حج و عمرہ کے مناظر اور روزمرہ زندگی میں مذہب کے عملی اظہار نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ خاص طور پر اسلام کے تصورِ توحید اور سماجی انصاف کے اصولوں سے متاثر ہوئے۔
اکتوبر 2025ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد یہ ان کی زندگی کا سب سے علامتی لمحہ ہے جب وہ رمضان میں پہلی بار بطور مسلمان مسجد حرام میں میں داخل ہوئے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی خانہ کعبہ ان کی نگاہوں کے سامنے آیا، ان کے چہرے پر حیرت، عقیدت اور خوشی کا امتزاج نمایاں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں، ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں اور ماحول کی روحانیت کو محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ہمراہ سیکورٹی اہلکار اور انتظامی عملہ موجود تھا، مگر اس لمحے کی اصل مرکزیت ان کی اندرونی کیفیت تھی۔بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا ان کا قبولِ اسلام کسی سیاسی یا کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہے؟ لیکن عربی تجزیہ نگاروں نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے، کیونکہ ایک عالمی سطح کے کارپوریٹ رہنما کے لیے مذہبی تبدیلی ایک حساس اور ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ مزیدبرآں انہوں نے اپنے پیغام میں اسے روحانی تجربہ قرار دیا، نہ کہ محض رسمی اعلان۔ ان کے پاس دولت کی بھی کوئی کمی نہیں ہے کہ وہ مالی مفاد کی خاطر تبدیلی مذہب کا سہارا لیں۔
جان پگانو کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ ”ارب پتی“ ہیں، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فہرستوں میں ان کا نام عالمی ارب پتیوں میں شامل نہیں۔ غیرسرکاری اندازوں کے مطابق ان کی ذاتی دولت تقریباً 70 سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے جو ایک اعلیٰ سطحی کارپوریٹ ایگزیکٹو کے لیے معقول سمجھی جاتی ہے۔ یہ دولت بنیادی طور پر ان کی طویل المدت تنخواہوں، بونسز، اسٹاک آپشنز اور مختلف ترقیاتی منصوبوں میں شراکت سے حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود ان کی اصل طاقت محض مالی وسائل نہیں بلکہ بڑے پیمانے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت ہے۔ اُن کی قیادت میں ریڈ سی گلوبل نے ماحول دوست تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار سیاحت کے تصورات کو عملی شکل دی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے منصوبے کاربن نیوٹرل ہوں گے اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اس حکمت عملی نے عالمی سرمایہ کاروں اور ماحولیاتی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ روحانی تبدیلی کے بعد ان کی شخصیت میں ایک نمایاں نرمی اور انکساری بھی دیکھی گئی۔ ویڈیو پیغام میں ان کا انداز رسمی کارپوریٹ لب و لہجے سے مختلف تھا۔ وہ ایک ایسے شخص کے طور پر نظر آئے جو کسی بڑے داخلی سفر سے گزر چکا ہو۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کے لیے دعا کی اور رمضان کی برکتوں کا ذکر کیا۔ یہ الفاظ ایک نئے مذہبی شعور کی عکاسی کرتے تھے۔
جان پگانو کی داستان دراصل جدید عالمی دنیا کے اس رجحان کی بھی علامت ہے جس میں پیشہ ورانہ کامیابی اور روحانی تلاش ایک دوسرے سے متصادم نہیں، بلکہ ہم آہنگ ہوسکتی ہیں۔ ایک طرف وہ اربوں ڈالر کے منصوبوں کی نگرانی کررہے ہیں، دوسری طرف وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر عاجزی سے دعا کررہے ہیں۔ یہ تضاد نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی جامعیت کا اظہار ہے۔ ان کے قبولِ اسلام نے مغربی میڈیا میں بھی بحث چھیڑ دی۔ کچھ حلقوں نے اسے سعودی عرب کی نرم قوت (Soft Power) کی کامیابی قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے ایک ذاتی اور نجی فیصلہ سمجھا۔ تاہم خود پگانو کے لیے یہ ایک ایسا مرحلہ تھا جس نے ان کی شناخت کو نئی جہت دی۔ ایک امریکن عالمی ایگزیکٹو سے ایک سعودی شہری اور مسلمان تک کا سفر۔آخرکار، مسجدِ حرام میں پہلا روزہ کھولنے کا منظر ان کے روحانی سفر کی علامتی تکمیل تھا۔ دنیاوی کامیابیوں کے باوجود اِس لمحے میں ان کی اصل خوشی کسی مالی یا کارپوریٹ کامیابی سے نہیں بلکہ ایمان کے احساس سے جڑی ہوئی دکھائی دی۔ جان پگانو کی یہ داستان محض ایک کاروباری شخصیت کی خبر نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی زندگی میں کبھی کبھی سب سے بڑی تبدیلی دل کے اندر جنم لیتی ہے اور پھر اس کی بازگشت پوری دنیا سن لیتی ہے۔

