حافظ محمد ابراہیم نقشبندی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے عظیم تحفہ ہے۔ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہِ عظیم الشان کا اچھے طریقے سے استقبال کریں اور عمدگی سے اس مہینے کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو نیکیوںسے بھرلیں۔
ماہِ مبارک کی آمد سے پہلے پہلے اس کے مقام، اس کی عظمت، اس کی فضیلت، اس کے مقصد اور اس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اور اس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا اصل مقصد ہے۔رمضان کے استقبال اور تیاری میں سب سے بنیادی اور اہم چیز یہ ہے کہ اس کی عظمت کا احساس اور قدرومنزلت کا لحاظ ذہن ودماغ میں پیوست کرلیاجائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت،سستی،بے توجہی، ناقدری، ناشکری اور احسان فراموشی جیسے برے اوصاف پیدانہ ہوں۔دوسری چیز یہ ہے کہ نعمت کا احساس ذہن نشین کرنا ہوگا۔ رمضان کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے۔
عام طور سے انسان کو اس نعمت کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو حاصل ہوجاتی ہے، لیکن جو نہیں مل پاتی اس کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم رمضان جیسے مقدس مہینے کی نعمت کا احساس کریں اور اس احساس کا تقاضا ہے کہ اس نعمت پہ رب کی شکرگزاری ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ: ”اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اوراگر تم ناشکری کرو گے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے۔“ (سورہ ابراہیم) جب ہم اپنے دل میںرمضان کی عظمت اور اس عظیم نعمت کی قدرومنزلت کا احساس کرلیں تو اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ دنیا سے رُخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لیے نہیں ہے بلکہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ کے حوالے اور اس کی مرضی کے حساب سے گزرنی چاہیے۔ یہاں صرف بطور یاددہانی ذکر کیا جارہاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو بندہ رب سے دُور ہوکر روزہ کے نام پہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرے، اگر ایسا ہے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔پہلے رب کی طرف لوٹیں ، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کو راضی کریں، پھر ہماری ساری نیکیاں قبول ہوں گی۔
رمضان کے استقبال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گزشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف نیکی کرتے ہیں تو دوسری طرف برائیاں بھی جاری رکھتے ہیں، اس طرح اعمال کا ذخیرہ نہیں بن پاتا بلکہ برائی کے سمندر میں ہماری نیکیاں ڈوب جاتی ہیں۔ اس لیے رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں اور نعمتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو برائی سے مکمل اجتناب کرنا پڑے گا۔ چوتھی چیز نیکیوں میں رغبت کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ نیکیوں کو اخلاص کے ساتھ اچھے طریقہ سے سرانجام دینا ہے۔ رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتا ہے۔ ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہیے اور نیکیوں کے اس بہترین موقع اور سیزن سے مستفید ہونے کے لیے ایک خاکہ تیار کرنا چاہیے تاکہ ہرقسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔ سمجھ کر قرآن مجید پڑھنے کا اہتمام کریں۔ (کم از کم ایک قرآن مجید ختم یا جتنا بھی کرسکیں)، پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات، صدقہ و خیرات، ذکر و اذکار، دعا و مناجات، تہجد کا خاص اہتمام، روزے کے مسائل کے حوالے سے آگاہی، دروس و بیانات میں شرکت، اعمالِ صالحہ پہ محنت و مشقت اور زہد و تقوی سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی و مقدس مہینہ گزاریں۔
رمضان میں ہر چیز کا ثواب زیادہ ہوجاتا ہے اور روزے کی حالت میں ثواب کا کام کرنا نیکیوں میں مزید اضافہ کا باعث ہے۔ اس لیے اس موسم میں معمولی نیکی بھی بہت عظیم ہے۔ خواہ مسواک کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ہر نماز کے لیے مسواک کرنا، اذان کا انتظار کرنا بلکہ پہلے سے مسجد میں حاضر رہنا، تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، دروس و محاضرات کا اہتمام کرنا، منکر ات کے خلاف مہم جوئی کرنا اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لیے جد و جہد کرنا سبھی ہمارے خاکے کا حصہ ہوں۔ آج کل رمضان ورک بک اور دیگر مختلف ناموں سے کتابچے بازار سے باآسانی دستیاب ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
استقبالِ رمضان کے لیے خود کو مکمل تیار کریں اور اپنے اندر مثبت تبدیلی لائیں۔ پہلے سے زیادہ سچائی اور نیکی کی راہ اختیار کریں۔ رمضان کی آمد سے پہلے ہی بہتری کا اظہار شروع ہونے لگ جائے۔ تقویٰ کے اسباب اپنائیں، یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اپنے اندر بہتری پیدا کرنے کی خوبی اور خاصہ صرف رمضان کیلئے نہیں بلکہ سال بھر کے لیے پیدا کرے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہواکرتے ہیں اور رمضان رخصت ہوتے ہی نماز سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ابھی سے اچھی طرح ذہن نشین کریں کہ یہ مثبت تبدیلی اور نیکیاں کرنے کا سچا جذبہ صرف ایک مہینہ کے لیے نہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے ہو۔ اسی طرح رمضان المبارک کے آغاز ہی میں اپنی نیت کو بھی درست کریں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔ مثلاً تلاوتِ قرآن کی کثرت گناہوں سے توبہ کا اہتمام، دعا و اذکار کی پابندی، عبادات کا التزام، لوگوں سے معاملات درست کرنے کی نیت کی جائے۔ دینی و تربیتی کتابوں کا مطالعہ، رمضان سے متعلق دینی بیانات سننا تاکہ رمضان کا احساس دل میں رہے اور اس کی تیاری پر بھرپور توجہ ہوسکے۔
ایک بہت ہی خراب کام جو ہماری معاشرتی زندگیوں کو خراب کررہا ہے وہ آپس کی بڑھتی ہوئی ناراضگی اور رنجشیں ہیں۔ اِس لیے ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک کام ہمارا یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم خود سے ناراض لوگوں کو منائیں، رنجشوں اور خفگیوں کو دور کریں۔ دورِ حاضر میں باہمی عداوت، انتقامی کارروائیاں، لڑائیاں اور جھگڑے، قطع تعلق اور ناراضگیاں، معمولی باتوں پر آپے سے باہر ہو کر ظلم و زیادتی کرنا، بے جاغصہ کرنا، گالی گلوچ اور اس طرح کی برائیاں معاشرے کا کلچر بنتا جارہا ہے۔ قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں باہمی معاملات بگاڑ کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور سلام دعا بھی ترک کردیتے ہیں۔ دوسرے کی غلطی و قصور معاف کرنا اورصبر و برداشت سے کام لینا مسلمان کی بنیادی صفات ہیں، جن سے ہم محروم ہوتے جارہے ہیں اور سمجھتے نہیں کتنا بڑا نقصان کررہے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہادر وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، حقیقت میں بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو۔ (صحیح بخاری) رمضان المبارک کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپس کی رنجشوں اور ناراضگیوں کو ختم کردیں۔ اگر آپ اپنے بھائیوں، دوستوں، عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں میں سے کسی سے خفا ہیں تو صلح کرکے یہ ناراضگی اور رنجشیں دور کرلیں کیونکہ ناراضگی کی موجودگی میں آپ کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر جمعرات اور پیر کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کو معاف فرما دیتا ہے جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، سوائے اس شخص کے جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان ناراضگی ہو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ (صحیح مسلم)
آخری بات یہ کہ کوئی بھی کام بغیر اللہ کی مشیت کے ممکن نہیں تو ہمیں اس کے لیے اللہ سے توبہ و استغفار کے ساتھ دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔ توبہ میں انسان اپنے رب کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے۔ گناہوں کے سبب جو فاصلہ انسان اور اُس کے ربِ عظیم کے درمیان ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہے۔ نیک کاموں کی طرف رغبت بڑھتی ہے جو رمضان کی دیگر عبادات میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے، اس مہینے سے ہر طرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بکثرت اعمالِ صالحہ انجام دینے کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

