روزانہ ایک ٹن کچرا سمیٹ کر ایندھن بنانے والی ماحول دوست کشتی

نیو ہیمپشائر: برطانیہ کے شہر ساؤتھ ایمپٹن کی ایک کمپنی نے سمندر صاف کرنے والی ایک انوکھی کشتی تیار کی ہے جو روزانہ ایک ٹن سمندری کچرا اپنے اندر جذب کرتی ہے، اسی کوڑے کو ایندھن میں بدل کر آگے بڑھتی ہے اور پلاسٹک کو انتہائی باریک پیس کر اسے ماحول دوست انداز میں تلف کرتی ہے۔

تین عرشوں والی اس کشتی کی لمبائی 70 میٹر ہے جسے ’اوشن سیویئر پروجیکٹ‘ یعنی سمندروں کا نجات دہندہ منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ پانی میں پلاسٹک سمیت ہر قسم کے کچرے کی تلاش، شناخت، جمع کرنے اور اسے ری سائیکل کرنے کا کام کرے گی۔ توقع ہے کہ یہ روزانہ کم ازکم ایک ٹن کچرا جمع کرسکے گی لیکن اس صلاحیت کو بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔

منصوبے سے وابستہ رچرڈ ڈبلیو رابرٹس کہتے ہیں کہ عالمی سمندروں میں اس وقت پلاسٹک کے پانچ ٹریلین ٹکڑے موجود ہیں اور انہیں مزید باریک ہونے سے قبل ہی جمع کرنا ضروری ہے۔ توقع ہے کہ یہ کشتی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرے گی اور سمندری حیات اور خود انسان کےلیے وبال بننے والے پلاسٹک کو ختم کرنے میں مدد دے گی۔

کشتی کے اطراف بازو نما آلے لگائے گئے ہیں جو سمندر سے پلاسٹک جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ پلاسٹک ایک متحرک بیلٹ سے آگے بڑھتے ہوئے نظام میں جاتا ہے جسے باریکی سے پیسا جاتا ہے۔ اس کے بعد پلاسٹک کا چُورا پلازما گیس سے جلاکر ماحول دوست انداز میں بھسم کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کچرے کو
پروسیس کرکے کشتی کے ایندھن میں بدلا جاتا ہے۔

کشتی میں عملے کے رہنے کی جگہ، تجربہ گاہ اور ہیلی پیڈ بھی ہے۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ سمندر کو پلاسٹک سے نجات دلانے کےلیے ایسی ہزاروں کشتیاں درکار ہوں گی۔