شکارپور میں ایمبولنس پر فائرنگ چارہلاک

شکارپور: شکار پور میں رشتے کے معاملے پر حملے میں ایک شخص قتل 2 زخمی ہو گئے جب کہ ایمبولنس پرجوابی حملے میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ضلع جیکب آباد کے محمد پور تھانے کی حدود گاؤں متارو جکھرانی میں گزشتہ روز جکھرانی برادری کے گروہوں سیوانی اور سنانی میں تصادم ہوگیا، مسلح افراد کے حملے اور فائرنگ سے نادر علی ہلاک اور 2 حملہ آور زخمی ہوگئے۔

بعد ازاں زخمیوں کو ایمبولنس میں لاڑکانہ لے جایا جارہا تھا کہ ڈکھن تھانے کی حدود انڈس ہائی وے پر تعاقب میں آنے والے 2 کاروں میں سوار مسلح افراد نے ایمبولنس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے 4 افراد بادل، رحیم، حبیب اللہ اور کیوڑو جکھرانی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ مسماۃ رندیانی شدید زخمی ہوئی اسے تشویش ناک حالت میں لاڑکانہ منتقل کیا گیا۔ مسلح افراد فرار ہوگئے، پولیس جائے وقوع پر پہنچی، لاشیں تحویل میں لیکر تحقیقات شروع کردی۔

ایس ایس پی شکارپور سرفراز نواز شیخ کے مطابق شکارپور اور جیکب آباد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کردی ہے، لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں، علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اگر صورتحال پر قابو نہ پایا تو مزید خونریزی کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی نے واقعے کا نوٹس لے کر ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی شکارپور سے رپورٹ طلب کرلی، مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق تنازع ایک ماہ قبل لڑکی کے اغوا کے معاملے پر شروع ہوا، لڑکی کے اہلخانہ نے نوجوان طارق سنانی جکھرانی پر اغوا کا الزام لگایا، جبکہ انھوں نے مسترد کردیا، جس سے فریقین میں کشیدگی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کا باپ کیوڑو سیوانی دیگر ساتھیوں کے ساتھ گوٹھ متارو جکھرانی گیا تو بات چیت کے دوران تصادم ہوگیا اس دوران اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس میں طارق سنانی کا کزن نادر سنانی موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ کیوڑو جکھرانی سمیت 2 افراد زخمی ہوئے،کیوڑو ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا، بعد ازاں زخمیوں کو ایمبولنس میں لاڑکانہ اسپتال لے جاتے ہوئے مقتول نادر سنانی کے نامعلوم کار سوار افراد نے بدلہ لینے کی غرض سے تعاقب کرکے جاکھری اسٹاپ پولیس پکٹ کے سامنے ایمبولنس کو روک کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے چار افراد مارے گئے، خاتون زخمی ہوئی۔

دریں اثنا کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شکارپور میں ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ انھوں نے ایس ایس پی شکار پور کو ہدایت کی کہ وہ قاتلوں کی جلدگرفتاری یقینی بنا کر انھیں رپورٹ پیش کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جس ضلع میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی وہاں کی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انھوں نے انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں جنگل کاقانون نہیں کہ کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے اور دن دھاڑے کسی کو بھی قتل کرکے اپنی درندگی کا نشانہ بنائے۔