عامرلیاقت حسین کے تحریک انصاف سے اختلافات سامنے آگئے

کراچی: تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے اپنی جماعت پر کراچی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگادیا۔

گورنر ہاؤس میں ہونے والے عشائیے میں نہ بلانے پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین پی ٹی آئی کراچی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے واٹس ایپ گروپ سے باہر نکل گئے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ایم پی ایز اور ایم این ایز نے عامر لیاقت کا معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھجوانے پر زور دیا ہے۔

واٹس ایپ گروپ چھوڑنے سے پہلے عامر لیاقت نے کہا کہ شور مچاتا ہوں تو ٹکٹ ملتا ہے، شور کرتا ہوں تو موبائل نمبر بھی ملتا ہے، مجھے ہر اجلاس میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔

عامر لیاقت نے سیکریٹری اطلاعات شہزاد قریشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے لئے اب بھی بہتری لے آئیں، بار بار اتنی سیٹیں نہیں ملیں گی، اپنی عزت اپنے ہاتھوں سے خراب نہ کریں، اگر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ زیادتی کرنی ہے تو پھر مسائل پیدا ہوں گے، گورنر صاحب نے تقریبِ حلف برداری میں تو بلایا لیکن عشائیے میں کیوں نہیں بلایا۔

ذرائع کے مطابق گورنر عمران اسماعیل کے عشائیے میں تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی مدعو کیا گیا تھا مگر عامر لیاقت کو نہیں بلایا گیا۔ عامر لیاقت نے گزشتہ شب کراچی کے علاقے ایف سی ایریا میں مقامی رہائشیوں کے احتجاجی جلسے سے خطاب میں بھی پی ٹی آئی کے خلاف گفتگو کی۔

عامر لیاقت نے کہا کہ میں مہاجروں کا مقدمہ لڑنے آیا تھا پارٹی نے مجھے ہی مہاجر بنادیا، خوشامدیوں اور چمچوں کی وجہ سے پارٹی مشکلات کا شکار ہورہی ہے، تحریک انصاف کا کوئی سیاسی انفرااسٹرکچر نہیں ہے، پارٹی کی اعلی قیادت کراچی کو نظر انداز کررہی ہے، اس شہر نے 14 قومی اسمبلی کی نشستوں پر فتح دلاکر سنہری موقع دیا ہے، صورتحال یہی رہی تو بلدیاتی انتخابات میں ایک یو سی پر بھی نہیں جیت سکیں گے۔