وفاقی کابینہ نے صدر، وزیراعظم اور وزراء کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے صدر، وزیراعظم، وزراء اور مشیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں حکومت کے ابتدائی 100 دن کے ایکشن پلان پرعملدرآمد کی حکمت عملی اور سرکاری ملازمین کی ہفتے کی چھٹی ختم کرنے سمیت 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

صوابدیدی فنڈز
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے سرکاری خزانےکو اپنی جاگیر کی طرح استعمال کیا، نوازشریف نے ایک سال میں 51 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈزاستعمال کیے، سابق وزیراعظم نے ایم این ایز کو 30 ارب فنڈز جاری کیے، صدرمملکت نے 8 سے 9 کروڑ کے صوابدیدی فنڈزاستعمال کیے لہذا وفاقی کابینہ نے صدرمملکت، وزیراعظم سمیت وزیروں اور مشیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے جو ایک تاریخی اقدام ہے۔

ماس ٹرانزٹ سسٹم کا خصوصی آڈٹ
فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ نے بیرون ملک دوروں کو محدود کرنے سمیت ملک میں بڑے پیمانے پر صفائی، درخت لگانے اور پنجاب و خیبرپختونخوا میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے خصوصی آڈٹ کی منظوری دی جس میں ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی میٹرومنصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا تاہم میٹروبسزبند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا جب کہ لاہور، پشاوراورکوئٹہ میں اربن ٹری پلانٹیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو جیسے بڑے منصوبوں میں میگا کرپشن ہوئی ہے، میگا کرپشن کا پتا لگانا ضروری ہے اسی لیے تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

سفری سہولیات
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر میں ہفتے کی چھٹی برقراررہے گی لیکن دفاترمیں کام کے اوقات صبح 9 بجے سے 5 بجے تک ہوں گے جب کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس سمیت جن لوگوں کو بھی فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی سہولت تھی وہ بھی ختم کردی گئی ہے اور وزیراعظم دوروں میں اپنا خصوصی جہازاستعمال نہیں کریں گے۔

کابینہ کا اگلا اجلاس
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ بادشاہوں کی طرح پیسا خرچ کرنے کا رواج ختم ہونا چاہیے، جب کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد تواتر کے ساتھ کابینہ کے اجلاس ہورہے ہیں اور انہوں نے اگلا اجلاس منگل کو طلب کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عید پرلوڈشیڈنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 3 دن چھٹی پر انڈسٹری بھی بند تھی تو لوڈشیڈنگ کیوں ہوئی ۔

منصوبوں کی پارلیمںٹ سے منظوری
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کے امین ہیں، ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے، ان منصوبوں کو ہرصورت مکمل کریں گے اور تمام گرانٹس اورمنصوبے پارلیمنٹ میں لائے جائیں گے اور ان کی منظوری لی جائےگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارت کیڈ کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا جب کہ چیف جسٹس نے وزارت کیڈ کے وزیرکی حیثیت سے وزیراعظم کوبلایا تو پیش ہوجائیں گے۔