اپوزیشن کا وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کیلیے متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کے درمیان وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

حالیہ نتائج کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی دوسری آل پارٹیز کانفرنس اسپیکر ایاز صادق کے گھر پر منعقد ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم ایم اے، اے این پی سمیت دیگر ہم خیال جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا مشترکہ امیدوار لانے کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں مسلم لیگ (ن) سے مشاہد حسین سید، سعد رفیق، احسن اقبال ، پیپلزپارٹی سے شیری رحمان، قمر زمان کائرہ کو شامل کیا گیا جب کہ دیگر رہنماؤں میں میاں افتخار حسین، غلام احمد بلور، مولانا عبدالغفور حیدری، اویس نورانی ، لیاقت بلوچ، بیرسٹر مسرور،عثمان کاکڑ،رضامحمد رضا، ملک ایوب ، انیسہ زیب طاہر خیلی اور سینیٹر میر کبیر شامل ہیں۔

بعد ازاں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار پر اتفاق کیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان کا کہنا تھا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کو نہیں مانتے اسے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا امیدوارمسلم لیگ(ن)، اسپیکر کا امیدوار پیپلزپارٹی اور ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار ایم ایم اے سے ہوگا۔

شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کا اتحاد جعلی الیکشن اور سلیکشن کو مسترد کرتا ہے ہم ایک مضبوط جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، تمام جماعتوں کی شناخت اور تشخص کو برقرار رکھیں گے اور مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کے خلاف احتجاج ایوان کے اندر اور باہر ہوگا جب کہ آر ٹی ایس سسٹم خراب نہیں ہوا بلکہ نادرا نے خود اعتراف کیا ہے کہ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں ہوئی۔

اس سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، پی ٹی آئی کوبتائیں گے کہ حقیقی اپوزیشن کیا ہوتی ہے، طے ہوگیا ہے کہ تمام جماعتیں پارلیمنٹ میں جائیں گی جب کہ آگے کا لائحہ طے کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایوان کے اندراور باہرکی حکمت عملی تیارکرے گی۔