ایازصادق کا الیکشن کمیشن پر جانب داری کا الزام

اسلام آباد: مسلم لیگ(ن) کے رہنما ایاز صادق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار بنانا غلطی تھی ہم نے الیکشن کمیشن کو اوقات سے زیادہ طاقت دے دی۔

ایاز صادق کی سربراہی میں مسلم لیگ(ن) کا وفد انتخابی نتائج پر تحفظات اور شکایات لے کر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے الیکشن کمیشن پہنچا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ملاقات سے انکار کردیا۔

اس موقع پر ایاز صادق نے بتایا کہ صبح چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار رضا خان سے فون پر بات ہوئی جس میں ان سے ملاقات کے لیے وقت دینے کی درخواست کی گئی لیکن اب ملنے سے انکار کیا جارہا ہے اور الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے وقت دینے پر ٹال مٹول کی جا رہی ہے.

صحافی کے سوال کے جواب میں ایاز صاق نے کہا کہ ہم چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مانگنے آئے ہیں، این اے 57 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے درخواست دائر کردی ہےجس میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن الطاف خان نے ایاز صادق کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر 5 بجے تک ملاقات کے انتظار میں بیٹھے تھے تاہم ایاز صادق وقت پر نہیں آئے اور پھرچیف الیکشن کمشنر چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات کےحوالے سے جو بتایا گیا وہ اس طرح سے نہیں ہوا، آج صبح ایاز صادق نےچیف الیکشن کمشنر کو فون کیااور کہا کہ ہم پورے پینل سے ملنا چاہتےہیں جس پر الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران تو نہیں ہیں لیکن میں موجود ہوں، چیف الیکشن کمشنر کے اسٹاف نے ایاز صادق کو بتایا کہ ممبران نہیں آئے اور چیف صاحب اکیلےہیں اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر 5 بجے تک بیٹھے رہےلیکن کوئی نہیں آیا پھر جب 5 بجے تک کوئی نہیں آیا تو چیف الیکشن کمشنر گھر چلے گئے۔