حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ محفوظ

راولپنڈی: انسداد منشیات کی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جوکہ آج ہی سنایا جائے گا۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردارمحمد اکرم خان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

فیصلہ محفوظ کئے جانے سے قبل حنیف عباسی کے وکیل تنویراقبال نے عدالت کی دی ہوئی 12 بجے کی ڈیڈ لائن میں اپنی حتمی دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے سیلزریکارڈ اوربینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ اے این ایف ایفیڈرین کے غیرقانونی استعمال کی بات کرتی ہے مگر کوئی ٹھوس شہادت نہیں، اے این ایف نے صرف لیبارٹری رپورٹ دی، گولیوں کی تیاری اوران میں ایفیڈرین کی مقدار کا نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد منشیات عدالت کو حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دیا تھا۔
ایفیڈرین کیس کی تاریخ

ادویات بنانے والی کمپنیوں کو ایفیڈرین کی الاٹمنٹ میں ہوشربا بے ضابطگی کی باز گشت پہلی مرتبہ مارچ 2011 میں سنی گئی جب اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اسمبلی کو بتایا کہ مکمل تحقیقات کے بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایفیڈرین کی مقرر کردہ مقدار سے کئی گنا زیادہ مقدار کی غیر قانونی طور الاٹمنٹ کی گئی ہے۔ صرف دو کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام ایفیڈرین الاٹ کی گئی جب کہ زیادہ سے زیادہ مقدار 5 سو کلو گرام ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات کا انکشاف رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار نے از خون نوٹس لیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس مقدمے میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو نامزد کیا گیا تھا۔
ایفیڈرین کیس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اینٹی نارکوٹس فورس نے 27 جولائی 2012 حنیف عباسی کے خلاف چالان جمع کرایا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حنیف عباسی اور ان کے بھائی کی فارماسیوٹیکل کمپنی نے 2010 میں اپنی ضرورت سے زیادہ ایفیڈرین الاٹ کراوئی تھی لیکن اسے دو سال گزرنے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا۔ اے این ایف نے الزام عائد کیا تھا کہ ایفیڈرین کو منشیات فروشوں کو فروخت کردیا گیا تھا۔