ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

راولپنڈی: انسداد منشیات کی عدالت نے ایفی ڈرین کوٹا کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنادی جس پر انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا، حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں، خوشی سے جیل جارہا ہوں فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے ایفی ڈرین کوٹا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنادی جب کہ دیگر سات ملزمان کو شک کی بنا پر بری کردیا۔ فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان موجود تھے۔ عدالت کے فیصلہ سناتے ہی حنیف عباسی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

حنیف عباسی کو انسداد منشیات کی متعلقہ دفعات کے تحت سزا سنائی گئی، مقدمہ 6 سال تک زیر سماعت رہا، 26 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جب کہ پانچ ججز تبدیل ہوئے۔ عدالتی کارروائی کے مطابق حنیف عباسی اپنا دفاع نہیں کرسکے اور ان پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوئے۔

حنیف عباسی کی گرفتاری پر وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کردی اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔

فیصلہ محفوظ کیے جانے سے قبل حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی ڈیڈ لائن میں اپنی حتمی دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اے این ایف ایفیڈرین کے غیرقانونی استعمال کی بات کرتی ہے مگر کوئی ٹھوس شہادت نہیں، اے این ایف نے صرف لیبارٹری رپورٹ دی، گولیوں کی تیاری اور ان میں ایفیڈرین کی مقدار کا نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد منشیات عدالت کو حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دیا تھا۔