شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو جمعہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔ احتساب عدالت نے ملزمان کو جمعے کو پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کردیے اور فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ریفرنس میں نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی ملزم نامزد ہیں۔ نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوتے رہے تاہم حسن اور حسین نواز پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔ نواز شریف سمیت تمام ملزمان کے خلاف مقدمات میں نیب کی دفعہ نائن اے لگائی گئی ہے جو رقوم اور تحائف کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔ اس کی سزا 14 سال قید ہے۔ مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات کے الزام میں ایک اور سیکشن 31 اے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں سزا 3 سال قید ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ لندن سے بھی 2 گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک پر رکارڈ کیے گئے۔ تمام گواہ استغاثہ کے تھے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔ حیرت انگیز طور پر نواز شریف اور ملزمان کی طرف سے ایک بھی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی 107 سماعتیں کیں۔ نواز شریف اور مریم نواز 78 بار عدالت میں پیش ہوئے۔

پس منظر
مشہور زمانہ پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے نواز شریف اور بچوں کیخلاف 8 ستمبر 2017 کو ریفرنس دائر کیا۔ مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا۔ 19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ نوازشریف کی عدم موجودگی کی بنا پر ان کے نمائندے ظافر خان کے زریعے فرد جرم عائد کی گئی۔

26 ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ مریم نواز پہلی بار 9 اکتوبر کو احتساب عدالت پیش ہوئیں۔ مسلسل عدم حاضری کی بنا پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ائیر پورٹ سے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ 3 نومبر کو پہلی بار نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے۔ 8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔