فواد چوہدری آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیال نااہل قرار

ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

اپیلٹ ٹربیونل نے پی ٹی آئی کے امیدوار فواد چودھری کے این اے 67 جہلم سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا جس کے بعد وہ اب این اے 67 جہلم سے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

راولپنڈی الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری کی تاحیات نااہلی سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ فواد چوہدری حقائق چھپانے پر صادق اور امین نہیں رہے، فواد چوہدری کو زرعی انکم ٹیکس چھپانے، دوسری شادی ظاہر نہ کرنے اور ذرائع آمدن نہ بتانے پرتاحیات نااہل قرار دیا گیا جب کہ انہوں نے ٹیکس ریٹرنز میں ٹریولنگ اخراجات بھی ظاہر نہیں کئے۔

ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے جسٹس عبادالرحمان لودھی کے خلاف پاکستان بار کونسل اور سپریم جیوڈیشل کونسل سے رجوع کا اعلان کیا، فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، مجھے پیغام آیا کہ افتخار چوہدری کے خلاف پریس کانفرنسز نہ کریں ورنہ آپ کا انتخاب متاثر ہوگا، افتخار چوہدری اور ان کی باقیات کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، عبادالرحمان لودھی افتخار چوہدری کے چہیتے جج ہیں، اس فیصلے میں میرٹ کی بنیاد پر کوئی مواد نہیں۔

اپیلٹ ٹربیونل نے پی پی 126 جھنگ سے پی ٹی آئی امیدوار راشدہ یعقوب کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کیلیے نااہل قرار دیا۔ راشدہ یعقوب کے شوہر شیخ یعقوب کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردیے گئے۔ درخواست گزار نے کہا کہ دونوں میاں بیوی نجی کمپنی کے نام پر لیے گئے قرض میں نادہندہ ہیں۔

اپیلٹ ٹربیونل نے پی ٹی آئی کے سردار غلام عباس کو این اے 65 اور پی پی 23 کلر کہار سے پی ٹی آئی امیدوار سردار آفتاب اکبر کو الیکشن لڑنے کےلیے نااہل قرار دے دیا۔ این اے 66 جہلم سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلال اظہر کیانی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔ بلال کیانی کے کاغذات دوہری شہریت پر مسترد کیے گئے۔

ادھر سندھ میں سابق صوبائی وزیر کھیل انتخابات سے باہر ہوگئے۔ اپیلیٹ ٹریبونل نے آر او کے فیصلے کے خلاف پی پی پی کے سردار محمد بخش مہر کی اپیل مسترد کردی۔ سابق صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر پر اثاثے چھپانے کا الزام تھا۔