ترکی ۔۔۔ کل اور آج

انورغازی

تازہ اور خوشگوار خبر یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے علمبردار، عالم اسلام کے بیباک راہنما، جدید ترکی کے حقیقی معمار، مسلمانان عالم کے دلوں کی دھڑکن جناب رجب طیب ایردوان سیکولر قوتوں کو شکست فاش دیتے ہوئے بھاری اکثریت سے دوبارہ ترکی کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔صدارتی الیکشن رجب طیب ایردوان نے واضح برتری سے جیت لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگلے پانچ سال کے لیے نئے صدارتی طرز حکومت کا اعلان بھی کر دیا ہے۔جناب ایردوان صدارتی الیکشن میں 52 فیصد ووٹ حاصل کر کے نئی حکومت کے بااختیار صدر بن چکے ہیں، جبکہ CHPجمہوریت خلق پارٹی کے چیئرمین مُحرِّم اِنچے 33 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پہ رہے ۔ صدارتی الیکشن کے موجودہ نتائج کی روشنی میں ترکی 1923ء سے لاگو شدہ پارلیمانی نظام سے مکمل با اختیار صدارتی نظام میں منتقل ہوچکا ہے۔ نئے نظام کے مطابق پوری حکومتی باڈی بنانے کا اختیار صدر کے پاس ہو گا۔ صدر کے منتخب شدہ نمائندے ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ قانون ساز اسمبلی اپنا کام جاری رکھے گی۔صدر کے ماتحت چار ادارے کام کریں گے۔ صدارتی نظام میں صدر کے ماتحت چار آفس ترتیب دیے جائیں گے۔یہ ہوگا نیا نظام۔اس کے مثبت اثرات سے ان شاء اللہ پورا ترکی اور مسلمانان عالم مستفید ہوسکیں گے۔ اب ہم آتے ہیں اپنے جاری سلسلے کی تیسری قسط کی طرف ۔(انور غازی)

تیسری قسط:
فاتح طاقتوں نے ’’سلطنتِ عثمانیہ‘‘ کی خلاف کی جگہ مغرب کی ’’جمہوریت‘‘ لانے کی تیاریاں شروع کردیں۔ مصطفی کمال پاشا کی پرورش کا آغاز کردیا۔ مصطفی کمال پاشا کو خلافت سے چڑ تھی۔ یہ مغربی تعلیم یافتہ اور مغربی تہذیب و ثقافت کا دلدادہ تھا۔ 1919ء سے لے کر 1924ء تک پانچ چھ سال میں اسلامی خلافت کو بالکلیہ ختم کرنے اور مغربی جمہوریت لانے کی تیاریاں ہوتی رہیں۔ مئی 1920ء میں بننے والی ترکی کی قومی اسمبلی نے بالآخر 3 مارچ 1924ء کو ترکی کا خلافت سے آخری اور رسمی رابطہ بھی ختم کردیا۔

خلافت کے خاتمے کا اعلان ترکی کو سیکولر اسٹیٹ ڈیکلیئر کردیا گیا۔ سیکولر ترک قومی اسمبلی نے ایک قانون منظور کیا، جس کی رو سے خاندان عثمانیہ کا کوئی فرد بھی سرزمین ترکی میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اس طرح سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عثمانی خاندان کی خلافت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ 20 اپریل 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے آئین جاری کیا، جس کے مطابق ’’اعلیٰ اختیارات کا سر چشمہ ترکی جمہوریہ کا صدر ہوگا۔ ترکی کا پورا آئین مغربی طرز کا آئین تھا۔‘‘

اس کے بعد مسلمانانِ عالم کے ساتھ کیا ہوا؟ یہ ایک خونچکاں داستان ہے۔ ترکی کا سلطان پوری اسلامی دنیا کا خلیفہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ اگرچہ خلافت برائے نام ہی رہ گئی تھی، لیکن مسلمان اسے اسلامی اتحاد کی علامت تصور کرتے تھے۔ اسی بناء پر ترکی کی حکومت کے ساتھ ان کا جذباتی تعلق تھا۔ تمام مسلمان خلیفہ وقت کی عزت کرتے تھے۔ مسلمانوں کا سیاسی وقار بھی اس سے وابستہ تھا۔

برصغیر کے مسلمانوں کا یہ دینی و سیاسی مرکز بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ترکی میں خلافت کو بچانے کے لیے پاک و ہند میں ’’خلافت بچاؤ تحریک‘‘ شروع ہوئی، اور یہاں کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت اور مدد کی تھی۔ ترکی کی خلافت وحدت کا مشکل فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔ اس خلافت کا خاتمہ مسلمانوں کے سیاسی انحطاط کا نقطۂ آغاز تھا۔ اس کے بعد مسلم اُمّہ پنپ نہیں سکی ہے۔ شاید علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؂

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

اگر آپ تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا مسلمانوں کی ثقافتی اور سیاسی تاریخ میں ترکی کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ہے۔ ترکوں کی بہادری و شجاعت کی داستانیں اسلام کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہیں جس پر ہر شخض بجا طور پر فخر کرسکتا ہے۔ یہ علاقہ کئی صدیوں تک پوری اسلامی دنیا کا پایۂ تخت رہا ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن کا اعلیٰ مرکز رہا ہے۔

ترکی کے علماء، وفقہاء، صوفیاء، اولیاء اور مشائخ نے آنے والوں کے لیے اپنے نقوش بندگی کا بہت بڑا سرمایہ چھوڑا ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے آغاز سے انجام تک کی تاریخ دیکھی جائے تو انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ جہاں یہ تاریخ بنی تھی وہ علاقے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے ہم ترکی گئے تھے۔

3 مارچ 1924ء کے بعد مصطفی کمال پاشا نے بھی اسلام اور اسلام کے نام لیواؤں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی۔ قرآن کی تعلیم پر پابندی۔ نماز پر پابندی، اذان پر پابندی، مدارس اور خانقاہیں بند کردی گئیں۔ وزارت مذہبی امور ختم کردی گئی۔ عربی رسم الخط بدل دیا گیا۔ شرعی عدالتیں بند کردی گئیں۔ درویشوں کو پابند سلاسل کردیا گیا۔ ڈاڑھی، ٹوپی، برقع اور حجاب پر پابندی لگادی گئی۔ عربی ناموں کی جگہ ترکی ناموں کو رواج دیا گیا۔ مذہبی تعلیم پر پابندی لگادی گئی۔ سود حلال قرار دیا گیا۔ شراب لازمی ٹھہرادی گئی۔ فحاشی و عریانی عام کردی گئی۔ تمام اسلامی قوانین کو ختم کردیا گیا۔ دینی شعائر کو ختم کردیا گیا۔ علماء و صلحاء کو پھانسیاں دی جانے لگیں۔

1924ء سے لے کر 1930ء تک چھ سالوں میں مصطفی کمال پاشا نے پورے ترکی سے دینِ اسلام اور مذہبی شعائر کو مٹانے کی پوری کوشش کی اور ایک مطلق العنان حکمران بن بیٹھا۔ اپنے طور پر وہ دینِ اسلام کا نعوذ باللہ قلع قمع کرچکا تھا، لیکن یہ چراغ بجھنے والا کہاں تھا۔ اس کی چنگاریاں کہیں نہ کہیں سے سلگتی رہتی تھیں۔

ٹھیک 20 سال بعد عدنان مندریس ترکی کے وزیراعظم بن گئے۔ عدنان مندریس اسلام پسند تھا۔ یہ 1899ء میں پیدا ہوا۔ دینی و عصری تعلیم حاصل کی۔ سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ یہاں تک 1950ء میں ترکی کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔مصطفی کمال پاشا کے بعد یہ پہلے وزیراعظم تھے جو 1950ء سے 1950ء تک مسلسل تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ عدنان مندریس نے ترکی کے وزیراعظم بننے کے بعد ترکی آرمی کے سیکولر اقدامات کی بجائے اسلامی اقدامات کو ترجیح دی۔ 25 سال بعد ان کی حکومت میں 423 افراد نے پہلی مرتبہ فریضۂ حج کی سعادت حاصل کی۔ مساجد میں لگائے گئے تالے کھلوائے۔ قرآن پڑھنے کی اجازت دی گئی۔

(جاری ہے)