ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کراچی میں تعمیرات پر پابندی

کراچی: واٹر کمیشن نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ میں تعمیرات پر پابندی عائد کردی۔

سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کی سماعت ہوئی۔ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تعمیرات پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ واٹر کمیشن نے قرار دیا کہ جب تک کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے کے درمیان حدود کا تنازعہ ختم نہیں ہوجاتا تب تک تعمیراتی منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہوگا۔

جوائنٹ سیکرٹری نے واٹر کمیشن میں ٹریٹمنٹ پلانٹس اور سیوریج سے متعلق رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ڈی ایچ اے میں 5 تا 6 ایم جی ڈی پانی روزانہ استعمال ہوتا ہے تاہم صرف 2.4 ایم جی ڈی کا ٹریٹمنٹ پلانٹ ہے۔ ڈی ایچ اے حکام نے بتایا کہ سیوریج کو ٹھکانے لگانے کے لیے محمودآباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

سربراہ واٹر کمیشن نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی عدم تنصیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے میں تعمیرات کی مکمل اجازت دی گئی ہے لیکن کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی، جس طرح آپ کثیرالمنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دے رہے ہیں اس لحاظ سے کم سے کم 10 ایم جی ڈی کا پلانٹ پونا چاہیئے، اگر پانی گندہ ہورہا ہے تو ڈی ایچ اے کے ساتھ ساتھ وزارت دفاع بھی اس کی ذمہ دار ہے۔

واٹر کمیشن نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تعمیرات پر مکمل طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے کہ انہوں نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کیوں نصب نہیں کئے۔