حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 7 جون تک برقرار رہیں گی۔ قیمتوں میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نگران حکومت کرے گی۔

یاد رہے کہ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کی تھی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے وزارتِ خزانہ کو بھجوائی گئی سمری میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے بارہ روپے اضافہ کی سفارش کی گئی۔

سمری میں پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 37 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل 12 روپے 50 پیسے، مٹی کا تیل میں 8 روپے 23 پیسے اور لائٹ ڈیزل 11 روپے 65 پیسے فی لٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی تھی

حکومت کی جانب سے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 9 مرتبہ اضافہ اور صرف تین مرتبہ کمی کی گئی جبکہ فی لیٹر پٹرول پر اوسط 20 روپے اور ڈیزل پر 30 روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

حکومت ایک سال میں پٹرول 13 روپے 70 پیسے مہنگا کر چکی ہے۔ مئی 2017ء میں پٹرول کی قیمت 74 روپے فی لٹر تھی جو مئی 2018ء کو 87 روپے 70 پیسے تک پہنچ گئی۔

اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے ستمبر 2017ء میں پٹرولیم کی قیمت میں 2 روپے، اکتوبر 2017ء میں 2 روپے، نومبر 2017ء میں 2 روپے 49 پیسے، دسمبر 2017ء میں 1 روپے 48 پیسے، جنوری 2018ء میں 4 روپے 6 پیسے، فروری 2018ء میں 2 روپے 98 پیسے اور مارچ 2018ء میں پٹرول کے دام میں 3 روپے 56 پیسے کا اضافہ کیا۔

ایک سال کے دوران حکومت نے ڈیزل 15 روپے 76 پیسے مہنگا کیا۔ مئی 2017ء میں ڈیزل 83 روپے لیٹر تھا جس کی قیمت مئی 2018ء میں 98 روپے 76 پیسے فی لٹر تک جا پہنچی۔ اسی طرح غریب عوام کے استعمال میں آنے والا مٹی کا تیل ایک سال کے دوران 35 روپے 87 پیسے مہنگا ہوا۔ مئی 2017ء میں مٹی کے تیل کی قیمت 44 روپے لیٹر تھی جو مئی 2018 میں بڑھ کر 79 روپے 87 پیسے تک پہنچ گئی۔