شام پر حملہ روس کے رویے اور بشارالاسد کی ہٹ دھرمی کے باعث کیا، برطانوی وزیراعظم

لندن: برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ شام کی حکومت کی جانب سے نہتے عوام پر کیمیائی گیس کے استعمال کے واضح شواہد ملے ہیں اس لیے شام پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ میزائل حملے کی ذمہ دار دراصل شامی حکومت خود ہے۔

لندن میں برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے شام پر میزائل حملے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شام میں جمہوری روایات کو پروان چڑھانے اور امن کے قیام کے لیے بارہا کوششیں کی گئیں، ہماری ڈپلومیسی کو کمزوری سمجھا گیا اور بشارالاسد حکومت کی جانب سے ان تمام کاوشوں کو ناکام بنایا گیا تاکہ وہ خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکے جس پر شام کو متنبہ بھی کیا گیا تھا۔

تھریسامے نے کہا کہ برطانیہ، امریکا اور فرانس نے مشترکہ طور پر شام میں واقع کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات، تحقیقی مراکز، متعدد فوجی اڈوں اور چھاؤنیوں پر ٹام ہاک کروز سمیت مختلف طرح کے میزائلز داغے۔ ہماری اولین ترجیح تھی کہ کسی قسم کا عام شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو اور ہماری یہ کوشش کامیاب رہی۔ شام پر حملے کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے اور ہم اپنے مقاصد حاصل کر کے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنا دنیا کے مفاد میں ہے اس لیے کیمیائی ہتھیاروں کوعام ہتھیار کے طور پر جائز قرار نہیں دے سکتے۔ اس حوالے سے پیر کو پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں اقدامات اور اہداف سے متعلق آگاہ کروں گی۔

برطانوی وزیراعظم نے شامی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جمہوریت کے قیام کی اُٹھنے والی عوامی لہر کو جبر سے دبایا گیا اور اس دوران نہتے عوام پر چار بار کیمیائی گیس سے حملہ کیا گیا جس میں خواتین ، بزرگوں اور بچوں کو بھی بلا تخصیص نشانہ بنایا گیا۔ کیمیائی حملوں پر عالمی قوتوں نے سخت احتجاج کیا تھا لیکن روس اور شام نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جس کے بعد امریکا، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ میزائل حملہ کیا لیکن یہ حملے عوامی مقامات پر نہیں کیے گئے۔

واضح رہے شام کی جانب سے مبینہ کیمیائی گیس کے استعمال پر امریکا، برطانیہ اور فرانس نے سخت ردعمل دیا تھا اور اقوام متحدہ سے شام کے خلاف کارروائی کی استدعا کی تھی۔ تاہم آج ان تینوں ممالک نے مشترکہ طور پر شام میں فوجی تنصیبات اور کیمیائی ہتھیار کی تنصیبات بنانے کو نشانہ بنایا۔