ججز کے طرزعمل کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے، وزیراعظم کی لیگی اراکین کوہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین کو ہدایت کی کہ وہ سینیٹ اورقومی اسمبلی میں ججز کے طرز عمل پر تحاریک التوا اور تحریک استحقاق پیش کریں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں شرکاء نے پارٹی صدر نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بھی تسلیم کیا جائے، پارلیمنٹ کی عزت کو ملحوظ رکھنا ہم سب پر لازم ہے جب کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کو رد کیا جانا اچھی روایت نہیں،تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں جب کہ منتخب نمائندوں کو چور ڈاکو کہنا قابلِ قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے، ججز کے طرز عمل کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی کوشش کر رہے ہیں، عوام کے سامنے سچ لائیں گئے، جمہوریت مسلسل اپنے دس سال مکمل کرنے جا رہی ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آئین کے دفاع کا عہد کیا ہے ،آئین میں تمام اداروں کی حدود کا تعین ہے تو کیا پھر اس ایوان کو قانون سازی کا حق نہیں،جب بھی اداروں کے درمیان کشمکش ہوئی تو اس میں ہمیشہ ملک کا ہی نقصان ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری افسران کو عدالتوں میں طلب کرکے انہیں بے عزت کیا جاتا ہے،حکومتی پالیسیوں کی نفی کی جاتی ہے اور انہیں نکال دیا جاتا ہے آخر یہ سب کب تک چلے گا،ایسا کرنے سے نقصان صرف ملک کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آتی جاتی ہے، آج ہماری حکومت ہے تو کل کسی اور کی ہوگی لیکن ایوان کو اس بات پر بحث کرنی چاہیے کہ کیا اسے قانون سازی کرنے کا حق ہے،کیا حکومت کو تقرریوں اور فیصلے کرنے کا حق ہے،اگر حکومت سے کوئی فیصلہ غلط ہوجائے تو کیا اسے ذاتی توہین ورسوائی کے دائرے میں شامل کرلیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ایسی جماعتیں جن کا کوئی ایم پی اے نہیں ہے اور وہ آزاد حیثیت میں سینیٹ الیکشن کے امیدوار ہیں جب کہ کچھ لوگ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی کوشش کر رہے ہیں، یہ سب تماشے دیکھ چکے اب ان کے تدارک کے لیے ایوان میں بات ہونی چاہیے۔