قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کے نام کھلا خط

مولانا زاہد الراشدی

گزشتہ سے پیوستہ:
جناب مرزا صاحب! ”انسانی حقوق“ کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اصل صورتحال اس سے مختلف ہے، کیونکہ مذہبی تشخص اور ملی شناخت کے تحفظ کا حق دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمانوں کو بھی حاصل ہے اور انہیں مسلمہ طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ کو اپنا نام استعمال نہ کرنے دیں اور اپنی مذہبی اصطلاحات و علامات کے استعمال سے روکیں جو ان سے الگ مذہب رکھتا ہے اور وہ اپنا یہ جائز حق استعمال کر کے کسی پر زیادتی نہیں کر رہے اور نہ کسی کا کوئی حق پامال کر رہے ہیں، جبکہ اس کے برعکس قادیانی جماعت اپنے مذہب کو مسلمانوں کے مذہب سے الگ قرار دیتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کی علامات و اصطلاحات کے استعمال پر اصرار کر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مجروح کر رہی ہے اور ان کے جداگانہ مذہبی تشخص کو پامال کر رہی ہے، جو دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قادیانی جماعت کا یہ طرز عمل مذاہب عالم کے تاریخی تسلسل اور مذاہب کے درمیان فرق و امتیاز کے مسلمہ اصول سے انحراف ہے اور مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ تنازع اور کشیدگی میں یہی اصل وجہ نزاع ہے۔

اس ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت کی دو معاصر تحریکوں کے طرز عمل کا بھی حوالہ دیا جائے۔ ایک امریکا کے سیاہ فام لیڈر آلیج محمد کی تحریک ہے جنہوں نے اسی صدی کے دوران اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نئی مبینہ وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کیں، جنہیں ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے مسترد کر دیا۔ آلیج محمد کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے، لیکن ان کے فرزند جناب وارث دین محمد نے حق کے واضح ہونے کے بعد اپنے باپ کے غلط عقائد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کے اجماعی عقائد کو قبول کرنے اور امت کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اور آج وہ امریکا میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کی قیادت کر رہے ہیں اور دوسری تحریک ایران کے بابیوں اور بہائیوں کی ہے، جس کے بانی محمد علی باب اور بہاءاللہ نے نبوت اور نئی وحی کا دعویٰ کیا، لیکن ساتھ ہی مذاہب عالم کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنا نام اور مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لی اور مسلمان کہلانے یا خود کو مسلمانوں کی صف میں شامل رکھنے پر اصرار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے بنیادی اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ مسلمانوں کا اس طرز کا کوئی تنازع موجود نہیں ہے، جس طرح کا تنازع قادیانیوں کے ساتھ چل رہا ہے۔

جناب مرزا صاحب! یہ ایک نظر آنے والی واضح حقیقت ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ کشمکش کی اصل وجہ مذاہب کا اختلاف نہیں، بلکہ مذہبی اختلاف کے منطقی نتائج کو تسلیم نہ کرنا ہے اور یہ امر واقع ہے کہ اسے تسلیم نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری قادیانی جماعت پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ قادیانی گروہ کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کا نام اور اصطلاحات استعمال کر کے اشتباہ پیدا نہ کرے اور نہ ہی مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تشخص کو مجروح کرے، بلکہ اپنے لیے الگ نام اور علامات و اصطلاحات وضع کر کے اس کشیدگی کے خاتمہ کی طرف قدم بڑھائے۔

ان گزارشات کے ساتھ آنجناب سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایک غلط اور غیر منطقی موقف پر ضد کر کے نہ خود پریشان ہوں اور نہ مسلمانوں کو پریشان کریں، بلکہ بہتر بات تو یہ ہے کہ جناب وارث دین محمد کی طرح غلط عقائد سے توبہ کر کے ملتِ اسلامیہ کے اجماعی عقائد کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں، آپ کے اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا پوری امتِ مسلمہ کی طرف سے خیرمقدم کیا جائے گا اور اگر یہ آپ کے مقدر میں نہیں ہے تو بابیوں اور بہائیوں کی طرح اپنی مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لیں اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا جمہوری فیصلہ قبول کر کے غیر مسلم اقلیت کا جائز اور منطقی کردار اختیار کر لیں۔ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ معقولیت اور انصاف کا راستا نہیں ہے اور نہ ہی آپ مغربی حکومتوں اور لابیوں کے سہارے کسی غلط اور نامعقول موقف کو مسلمانوں سے منوا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ گزارشات آپ کو مثبت اور صحیح رخ پر سوچنے کے لیے ضرور آمادہ کر سکیں گی۔

والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
ابوعمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ، پاکستان