القرآن / نیک اعمال

القرآن

نیک اعمال
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہےے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میںکسی کو بھی شریک نہ کرے۔
﴾سورہ¿ کہف: آیت 110﴿

الحدیث
صدقہ جاریہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جب کوئی شخض اس دنیا فانی سے انتقال کرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا ثواب بھی رُک جاتا ہے اور مگر تین اعمالِ صالحہ ایسے ہیں جن کا ثواب اسے قبر میں بھی پہنچتا رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاری (2) ایساعلم ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور (3) نیک صالح اولاد جو اس کے لیے دعا گو رہتی ہے۔“ ﴾ مسلم﴿

موعظہ حسنہ
دنیا دار العمل ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ دنیا پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے اور آخرت و قبر ہر شخص کے استقبال کے لےے تیار ہے، کچھ لوگ اہل دنیا اور کچھ اہل آخرت ہیں، لوگو! تم آخرت والوں میں سے ہوجاﺅ، اہل دنیا مت بنو، بے شک آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں اور کل قیامت میں حساب و کتاب ہوگا اور عمل کی مہلت نہ ملے گی۔ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ علم عمل پر موقوف ہے جبکہ عمل اخلاص نیت پر موقوف ہے اور اخلاصِ نیت ہی کی برکت سے اللہ تعالیٰ عملِ صالح کی توفیق نصیب فرما دیتے ہیں۔ ﴾ احیاءالعلوم ﴿