فی ہیکٹر پیداوار میں پاکستان دنیا میں سب سے پیچھے آگیا، رپورٹ

کراچی: ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اوسط فی ہیکٹر پیداوار میں کئی برس سے اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس کی مقدار اب مزید کم ہوکر دنیا بھر میں کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

اس بات کا انکشاف تجارتی پالیسی ساز تنظیم ’پاکستان بزنس کونسل‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت میں زراعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور سال 2016ء میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اس کا حصہ 19.5 فیصد نوٹ کیا گیا ہے۔

اگر دیگر ممالک کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان اہم ترین زرعی اجناس کی پیداوار میں 29 سے 52 فیصد فی ہیکٹر پر ہے۔ مثلاً فرانس فی ہیکٹر 8.1 ٹن گندم پیدا کرتا ہے جبکہ پاکستان میں اوسط فی ہیکٹر گندم کی زیادہ سے زیادہ پیداوار 3.1 ہے جو سب سے زیادہ فی ہیکٹر گندم اگانے والے ملک کے مقابلے میں صرف 29 فیصد ہے۔

اسی طرح مصر میں گنے کی فی ہیکٹر پیداوار 63.4 ٹن ہے جبکہ مصر میں اوسط فی ہیکٹر 125.1 گنا پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں اگر مکئی کی بات کی جائے تو فرانس 11.1 ٹن اور پاکستان 4.6 فی ہیکٹر گندم اگارہا ہے جو فرانس کے مقابلے میں 41 فیصد ہے۔ امریکا میں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار 9.2 ٹن ہے جبکہ پاکستان 2.7 ٹن افزائش کے ساتھ صرف 29 فیصد ہے۔

رپورٹ میں سندھ آباد گار بورڈ کے سربراہ گدا حسین نے کہا ہے کہ ’پاکستان میں فی ایکڑ کم ترین پیداوار اس کی زرعی استعداد میں اہم رکاوٹ ہے اور اب پاکستان زرعی ملک نہیں رہا‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم ملکی پیداوار سے زرعی اجناس مہنگی ہورہی ہے۔ اسی طرح کپاس کی ناکافی پیداوار سے کپڑے کی صنعت متاثر ہورہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پروسیس شدہ غذائی مصنوعات کی تیاری اور فروخت میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔

اس کے باوجود ملک کی 42 فیصد کارکن آبادی زرعی پیداوار سے وابستہ ہے۔ اگر زرعی سیکٹر بہتر ہو تو ایک بڑی آبادی کے حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں جبکہ عالمی مسابقت میں بھی پاکستان بہتر کردار ادا کرسکے گا۔

تاہم ملک میں کولڈ چین، سفری سہولیات، سڑکوں کی عدم موجودگی اور پروسیسنگ عمل نہ ہونے کی وجہ سے 50 فیصد زرعی مصنوعات ضائع ہورہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فرسودہ نظام، نئے اور بہتر بیجوں کی عدم دستیابی، پانی کی کمی اور کمزور مارکیٹنگ جیسے مسائل سے ملکی زراعت دم توڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ کسان بڑے شہروں کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔

ایک کسان اپنی فصل پر روزانہ پانچ سے چھ ماہ کام کرے تو وہ دن میں صرف 100 روپے ہی کماپاتا ہے جبکہ شہر میں ایک دن کی مزدوری سے 600 سے 800 روپے کمائے جاسکتے ہیں۔ اسی لیے اب زراعت میں عوامی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔