یہ نامراد جنگ۔۔۔

عامرہ احسان

ٹرمپ کی ٹویٹ سے پاکستان، امریکا کے مابین شروع ہونے والی تْوتْومیں میں جاری ہے۔ آپس کے جھگڑے میں بہت سے حقائق سے بھی پردہ اٹھ رہا ہے۔ جو باتیں ایک تسلسل سے ہم باور کروانے کی کوشش میں رہے، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا !اب سبھی سیاستدان، حکومتی بڑے، مقتدرین بہ زبان خود، بہ قلم خود بھی وہی ارشاد فرمارہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں۔ یا امریکا! یہ تمہاری جنگ تھی جو ہم نے لڑی! یہ ساری جانی، مالی قربانیاں ہم نے تمہاری خاطر دیں! عمران خان نے کہا :’’امریکی اشارے پر ہم نے اپنے قبائلی علاقے تباہ کردیے۔ ‘‘ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا: ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری نہیں تھی۔ ہم نے جعلی جہاد لڑا۔ ‘‘ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے فرمایا : ’’امریکا نے جنگ ہم پر تھوپی۔ 130ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ بدلے میں لالی پاپ دیا۔ ‘‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا :’ ’ہم نے دومرتبہ دوسروں کی جنگ لڑی۔ اب ہم اپنی سرزمین پر دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ‘‘

لیکن عجب طرفہ تماشا ہے کہ ساتھ ہی وزیر دفاع فرماتے ہیں :’’ ابھی امریکا کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ ‘‘ یعنی کمبل تو ہمیں چھوڑنا چاہتا ہے ہمی کمبل کی جان سے چمٹے پڑے ہیں۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی! ملک بھر میں یہ ڈھنڈورا رہا کہ یہ ہماری جنگ ہے۔ اگر یہ ہماری جنگ تھی تو امریکا جیسا ٹکے گننے والا ہم پر ڈالر کیوں برسا رہا تھا؟ کیا 1965ء اور 71ء کی جنگوں میں امریکا ہم پر اتنا مہربان تھا ؟ حقیقت سے کون واقف نہیں! یہ امریکا کی جنگ تھی، اسی لیے ہم اپنی قربانیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھک رہے۔ وگرنہ ہم نے کب بھارت کے خلاف جنگوں میں دی گئی جانی مالی قربانیاں امریکا کو باور کروائیں!

پاکستان نے باقاعدہ حقائق نامہ جاری کیا ہے، اس جنگ میں دی گئی قربانیوں کا ’’10لاکھ لوگ ہم نے 2014ء میں شمالی وزیرستان سے نکلنے پر مجبور کیے۔ 22,100 شہری جاں بحق ہوئے، 40,792 زخمی ہوئے۔ 2001۔2015ء کے دوران 8214فوجی جاں بحق ہوئے۔ ہم نے 31ہزار طالبان ودیگر عسکریت پسند مارے۔ 58 صحافی اور 92انسانی حقوق ورکرز اس جنگ کا لقمہ بنے۔ ‘‘ امریکی سیکرٹری دفاع نے تسلیم کیا کہ تنہا پاکستان کے فوجیوں کا جانی نقصان، تمام نیٹو کے مارے جانے والے افراد سے زیادہ ہوا۔ امریکا کے اس جنگ میں 2357فوجی مرے، جبکہ پاکستان نے 8214کی قربانی دی۔ اس کے باوجود ٹرمپ آنکھیں دکھا رہا ہے۔ ان حالات میں بھی جبکہ امریکا بدستور ہماری فضائی، زمینی، ریلوے تک کی تمام سہولتیں مفت استعمال کررہا ہے۔ اور جبر یہ بھی ہے کہ ایک مہینے میں 100بار امریکی ڈرون ہنگو، اور کزئی اور پارہ چنار آجارہے ہیں۔ (طلعت حسین۔ دی نیوز) چوری اور سینہ زوری پر ہمارا رویہ اگر اب بھی فدویانہ اور منت سماجت کا رہا تو پاکستان کی آخری دفاعی لائن، ایٹمی قوت داؤ پر لگ جائے گی۔ سوشکوے شکایتوں سے بڑھ کر دوٹوک غیر تمندانہ پالیسی ناگزیر ہے۔ شمالی کوریا سے اسباق لینے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ کے حوالے سے شائع ہونے والی تازہ ترین کتاب ’’فائر اینڈ فیوری‘‘ نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ یہ شعلے کس پر برسائے جارہے ہیں؟غصہ کس پر اگلا جارہا ہے؟ یہی تو جمہوریت کا حسن ہے (یعنی ٹرمپ)! امریکی جمہوریت اقبال کے شعر کی تائید کرنے چل دی۔ دیواستبداد جمہوری قبامیں پائے کوب/ تو جسے سمجھا ہے آزادی کی ہے نیلم پری! لیلائے جمہوریت اگر ٹرمپ پر فدا ہو گئی تو اس بے چارے اول جلول مستانے دیوانے کا کیا قصور! افغانوں نے امریکا کو مار مارکر فاترالعقل کردیا جس کا نتیجہ صورت ٹرمپ سامنے آیا۔ اب اصلاً تو ٹرمپ کی ذہنی صحت پر شدید تحفظات کا اظہار کرنے والے (امریکی اعلیٰ افسر اور ارکان کانگریس تک ) امریکی ووٹروں کی ذہنی صحت پر انگلی اٹھارہے ہیں۔ یہ لیبیا تو نہیں ہے کہ کرنل قذافی آگیا۔ نہ ہی سعودی بادشاہت ہے کہ شاہ اور ولی عہد آگئے اور سب منہ تکتے رہ گئے! بڑی بھاری بھر کم لدی پھندی انتخابی مہم جمہوری غلغلوں میں سے یہ بتاشہ برآمد ہوا ہے اب سر کا ہے کو پیٹ رہے ہیں!

سارا جھگڑا افغانستان کا ہے۔ امریکی جنگوں کا ہے۔ صرف عراق افغانستان میں امریکا کا 6۔7ٹریلین ڈالر خرچ ہوگیا۔ امریکا پر 19ٹریلین 659ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔ تاہم ایک مخمصہ ضرور ہے۔ کھربوں ڈالر، دنیا جہان کی ساری سائنس ٹیکنالوجی، 49ممالک کی فوجیں، بحروبر ہوائی طاقت (Might Military) جھونک کر بھی پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک مسکین درویش ملک فتح نہ ہوسکا؟ ملٹی بلین ڈالر سوال ہے نا! سارے تھنک ٹینک، تحقیقی ادارے، علم وفن سے لدی یونیورسٹیاں، تمام دانشور سرجوڑ کر اس کا جواب تلاش کریں۔ امریکا نیٹو کے بھاری بھرکم فوجی تربیتی اداروں سے نکلنے والے مایہ ناز جرنیل، ملٹری اسڑٹیجسٹ، سنیڈ ہرسٹ ویسٹ پوائنٹ سے سند یافتہ، ناکام کیونکر ہورہے ؟ امریکی فوجی، عام سپاہی کی نہایت ہائی ٹیک تیاری دیکھیے۔ وردی۔ لوازمات جنگ اس کا پٹھو ( Back Pack)جس میں ہمہ نوع شاندار اشیائے ضروریہ۔ تیار کھانے۔ خود بخود گرم ہو جانے والی خوراک، (ہائی پروٹین، ہائی انرجی ) ہیڈلیمپ، فلیش لائٹ، جی پی ایس یونٹس، کیمرہ، دوطرفہ ریڈیو، سیٹلائٹ فون، سیل فون، اسمارٹ فون، فیلڈ لیپ ٹاپ، فرسٹ ایڈ کا زبردست سامان علاوہ ازیں گولی پروف بم پروف (ملک الموت پروف، جنون پروف، بزدلی پروف نہیں) تیاری۔ چلتے پھرتے قلعہ نما ٹرکوں (ہمویز) میں پیمپر پوش! جن سے مقابلہ ہے، ان کی کل متاع ایک عدد چادر کندھے پر ہے۔ یہی ان کی جائے نماز، دسترخوان، اوڑھنی، بستر اور پیدل چلتے ہوئے بوقت ضرورت تھیلے (Bag)کا کام بھی دیتی ہے۔ خوراک میں گڑ/چنے /خشک روٹی (جوپانی میں بھگو کر کھالی جاتی ہے) میں سے جو میسر ہو ساتھ رہتی ہے۔ پیدل، وگرنہ موٹرسائیکل سواری کے لیے ہموی کے بالمقابل کام آتی ہے۔ رہی بات اسلحے کی تو دنیا کی ساری عسکری قوت کے مقابل کارفرما صرف کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اور پریشر ککر میں بنایا گیا دیسی بم (IED)اس محیرالعقول جنگ میں افغانوں کا سرمایہ ہے!یا وہ جو وہ دشمن سے چھین سکیں! اس موازنے اور مقابلے کو سمجھنے کے لیے عقل ناکافی ہے۔

عقل بے مایہ امامت کی سزا وار نہیں/ راہبر ہو ظن وتخمیں تو زبوں کارِ حیات! یہ راز قرآن کی 485 آیات، اسلامی تاریخ کے ہر صفحے اور انہی رومیوں کی سپر پاور کو الٹنے والے معرکہ ہائے موتہ اور لشکر اسامہ بن زیدؓ، اجنا دین، یرموک میں موجود ہے۔ یہ سب ہمارے نصابوں سے نکال کر پوری مسلم دنیا کو تختہ مشق بنادیا گیا۔ افغانوں کی خوش نصیبی یہ رہی کہ وہ قرآن، علما اور مدارس سے وابستہ رہے۔ بدرتا حنین و تبوک کے اسباق نے 21ویں صدی میں تاریخ دہرا کردکھا دی۔ اجنا دین کے معرکے میں جنگ شروع ہونے سے پہلے رومی سپہ سالار نے اسلامی کیمپ اور فوج کے حالات دیکھنے کو جاسوس بھیجا تھا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق : ’مسلمان اپنی راتیں راہبوں کی طرح خدا کی عبادت اور قیام وسجود میں گزارتے ہیں اور دن گھوڑوں کی پیٹھ پر جنگجو سواروں کی طرح۔ وہ نیکوکار اور انصاف پسند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی زنا کا مرتکب ہو تو خواہ وہ شہزادہ ہی کیوں نہ ہو، وہ اسے سنگسار کردیں گے۔ اگر وہ چوری کرے تو ہاتھ کاٹ دیں گے۔ یہ سن کر سپہ سالار گھبراگیا کہ اگر یہ سچ ہے تو ایسے دشمن سے مقابلہ کرنے سے مر جانا بہتر ہے۔

مسلم دنیا آج اسلاف سے رشتہ توڑ کر کفر کی چاکری میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر’ ’اسلام‘‘ کو اپنے اپنے ملکوں سے دیس نکالا دینے کے درپے ہے۔ ابو عبیدہ بن جراحؓ، خالد بن ولیدؓ، مثنیٰ بن حارثہؓ کے متبعین، ٹرمپ اور کشنر پلان پر اپنے ملکوں میں عبادوبلاد کو ڈھالنے میں نہایت پرجوش ہیں۔ ہمارے ہیٹ پوش، ترقی پسند، روشن خیال وزیراعلیٰ پنجاب نے سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو یقین دہانی کروائی کہ : ’ہم نے ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے (بمقابلہ سعودی وژن 2030ء ) اسی کے مظاہر روشن خیالی کے نام پر اسلام اور اہل دین کا گلا گھونٹنے کے تمام اقدامات ہیں۔ ایمان، حیا، اقدار سے ہاتھ دھوکر ملک بھر میں مسلسل ہرسطح پر 16سال سے سیکولر، لبرل طرز زندگی کا فروغ۔ اختلاط، فیشن، میڈیا میں ہرحد توڑ کر عریانی فحاشی کے امڈتے سیلاب۔ نظام تعلیم وتربیت کی مکمل تباہی وبربادی۔ جس کا نتیجہ مکمل معاشرتی، سیاسی، معاشی انتشار ہے۔ خوفناک حدتک روز افزوں جنسی جرائم، نفسیاتی بیماریاں، ٹوٹتے گھر۔ قصور میں اب معصوم بچی پر توڑے جانے والی قیامت ہو یا قبل ازیں سیکڑوں بچوں پر جنسی تشدد کا شرمناک مسلسل6سال کا اسکینڈل (جوبلانتیجہ رہا) یہ نام نہاد روشن خیالی کے پھوڑے اور ترقی کے نام ناسور پالے گئے ہیں۔ قہر خداوندی کا پیش خیمہ خدانخواستہ۔ قوم کے راہنماؤں کو باہم سرپھٹول سے فرصت نہیں۔ پیسہ کرسی شہرت سے بہتر کوئی مقصد حیات سامنے نہیں۔ ملک و ملت کا غم کھانے کی فرصت کہاں! مجرم ہمہ نوع دندناتے پھرتے ہیں۔ حافظوں، عالموں، صالحین سے جیلیں، عقوبت خانے امریکی جنگ کے ہاتھوں بھرے پڑے ہیں۔ سو ستیاناس اس پرائی جنگ کا جس نے ہمیں پاگل کردیا!