القرآن / الحدیث

القرآن

ذکر اللہ باعثِ اطمینان ہے

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خداسے آرام پاتے ہیں اور سن رکھو کہ اللہ کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے اُن کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔
(سورۂ رعد،آیات: 28، 29)

الحدیث
بے اطمینانی والاکام
حضرت وابِصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ مجھے بتائیں کہ نیکی کیا ہے اور برائی کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں کے ساتھ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اے وابِصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو! نیکی وہ ہے جس سے دل اور نفس مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو دل اور سینے میں کھٹکے ، اگر چہ لوگ اس کام کو صحیح قرار دیں۔ ( مسند احمد )

موعظۃ حسنہ
قلبی اطمینان وسکون
قلبی اطمینان وسکون ، ہدایتِ قلب کی علامت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایسے دلوں کی تعریف وتوصیف بیان فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی اور مطمئن رہتے ہیں ۔ قلبی اطمینان وسکون انسان کی دینی ودنیوی اور معاش ومعاد کی فلاح وکامرانی کا اہم ترین اور بنیادی سبب ہے ۔ اگر کسی خوش نصیب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طاعت وبندگی اور دلی اطمینان وسکون حاصل ہوجائے تو اُسے اور کیا چاہیے، دنیا میں بھی جنت کے مزے اور آخرت میں تو اس کے مزے ہیں ہی ۔ اطمینان قلبی کا مل یقین اور صحتِ دین کی دلیل ہے ۔ قلبی اطمینان وسکون باعث وقار وہیبت ہے۔ ایک مسلمان کے لیے موت کے وقت اطمینان قلب اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کی علامت ہے۔ (نضرۃ النعیم)