اخلاقی فرض

ندیم تابانی

کراچی میں ایک پولیس آفیسر کو اس لیے معطل ہونا پڑا، کیوں کہ اس نے ایک بیکری سے کیک اُڑایا تھا، اڑایا اس معنی میں کہ کیک لیا، قیمت نہیں دی، کیک فروش نے پیسے مانگے تو اس پہ غالباً کوئی دفع لگا کر دفع کر دیا۔ کیک فروش نے سوشل میڈیا استعمال کیا تو افسر موصوف کی معطلی ہو گئی۔ ایسے نالائق افسرکو واقعی معطل ہی ہونا چاہیے، افسر ہو کر ایک چھوٹے سے کیک پہ ہاتھ صاف کرنا واقعی نامعقول حرکت ہے، بھئی کچھ کرنا ہی تھا تو کسی لمبی اور بڑی چیز پہ ہاتھ مارتے۔ ایسے کام چھوٹے موٹے سپاہیوں کے ساتھ تو جچتے اور سجتے ہیں، لیکن افسران کے ساتھ نہیں۔ لگتا ہے افسر کی تربیت کسی ماہر استاد نے نہیں کی۔ چلیں اگلی بار سہی، تجربہ ہوتے ہوتے ہی ہو گا۔
***
عدالت عظمیٰ نے ڈبا بند دودھ، پینے کے صاف پانی اور بھینسوں سے زیادہ دودھ وصول کرنے کے لیے ٹیکے لگانے سے متعلق احکامات جاری کیے۔ اس سے زیادہ اور بُرا وقت کیا آئے گا، جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے ججوں کو اس طرح کے معاملات پہ بھی نظر رکھنی پڑے، چیف جسٹس آف پاکستان کے ان دنوں جو فرمودات اور ارشادت سننے پڑھنے میں آرہے ہیں، وہ بھی سب سستے اور فوری انصاف سے متعلق ہی ہوتے ہیں، قاضی القضاہ لگے ہاتھوں عدالتی نظام کی خرابیوں پہ بولنے لگے ہیں، ججوں اور وکلاء کے لیے سبق آموز جملے اور ہدایات ہوتی ہیں۔
دوسری جانب سابق چیف جسٹس افتخار چودھری فرماتے ہیں: میں اگر چیف جسٹس ہوتا تو زینب کا قاتل اب تک پکڑا جا چکا ہو تا۔۔۔ یہ بیان حکومت کے خلاف ہے یا موجودہ چیف جسٹس کے خلاف یہ فیصلہ کسی نہ کسی کو کرنا چاہیے، کچھ نقاد حضرات کے مطابق موجودہ چیف جسٹس نے عوامی مسائل چھیڑ کر بہت سے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ افتخار چودھری صاحب کے دل و دماغ پہ اس کی ضرب لگی ہو گی، اس لیے انھوں نے اپنے احکام والا زمانہ یاد دلایا ہے۔ کہنے کو تو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر میں چیف ہوتا تو قاتل گرفتار ہو چکے ہوتے، لیکن شاید ان کے بولنے میں جو مدت مانع ہے، وہ ابھی پوری نہیں ہوئی یا شاید اس طرح کا بیان پرویزمشرف کے کھاتے میں آتا ہے، یا ممکن ہے ایسا بیان ویسے ہی فوجی نظم و ضبط کے خلاف ہو، ایک چیف دوسرے چیف کی عزت کیوں خراب کرے بھلا۔
***
وی آئی پی مومنٹ پہ بھی عدالت عظمیٰ نے نظر رکھی ہوئی ہے اور چیف جسٹس صاحب نے اپنی مثال دی کہ میں بھی وی آئی پی ہوں لیکن میرے لیے تو ٹریفک بند نہیں ہوتی، اس کا مطلب شاید کچھ لوگ یہ نکالنا چاہیں گے کہ چیف صاحب چاہتے ہوں گے ان کے لیے بھی ٹریفک روکی جائے، لیکن ایسا کہنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ نے بڑا اور فوری کام دکھایا ہے، وہ نہ صرف کراچی کے ایک نمائشی میلے میں کسی کر و فر اور پرو ٹو کول کے بغیر پہنچے، بلکہ اپنی جیب خاص سے اپنا وقت خاص لگا اور قطار میں لگ کر تین سو روپے کا ٹکٹ خریدا، گویا سید مراد علی شاہ اس وقت سندھ کے وزیر اعلی نہیں تھے بلکہ ایک عام شہری تھے۔ اس طرح کی کارکردگی عام طور پر خادم اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے حصے میں آیا کرتی ہے، جن کا ہیٹ پہن کر عوامی مقامات پہنچنا اور سرکاری کاموں کی نگرانی کرنا عمران خان کو ذرا بھی پسند نہیں، بلکہ خان صاحب کے مطابق پاکستان میں چھوٹے میاں صاحب سے بہتر کوئی فن کار اور ادا کار نہیں۔ چلیں اب سید مراد علی شاہ نے بھی اس فن کاری میں حصہ لے لیا ہے۔
***
بلوچستان میں آخر نئی حکومت آہی گئی، وہ بھی ق لیگ کی، جس نے ایک بار پھر ن لیگ کو کتر دیا، کہا جا رہا ہے کترنے کے اس عمل کے پیچھے خفیہ ہاتھ کار فرما ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ بڑے میاں صاحب کی سٹی گم اور بولتی بالکل بند ہو گئی ہے، وہ اس کارروائی کو سازش سے بھی تعبیر نہیں کر سکے، شاید اس کی وجہ یہ ہے انھیں اب پنجاب اور وفاق میں اس طرح کی کارروائیوں کی چاپ سنائی دینے لگی ہے، اندر کے حالات پہ نظر رکھنے والے بھی ایسی باتیں اب کھلے بندوں کرنے لگے ہیں، نہ صرف ایسی باتیں بلکہ وہ باتیں بھی جن کو سینیٹ جا کر آرمی چیف نے غلط ثابت کرنے کی کوشش فرمائی تھی، اس پہ کچھ اہل دل کہتے ہیں کہ نیچے والے کبھی کبھی اپنی مرضی بھی کر لیتے ہیں، اوپر کی منظوری ضروری نہیں سمجھتے، اسی طرف ریلوے کے وزیر نے اشارہ کیا تھا اور فوجی ترجمان نے دال کا کالا پن دور کرنے کی فوری کوشش کی تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے جن کو فون کیے جاتے ہیں وہ پہلے ہی سے اس طرح کی ہدایات کے انتظاربیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے چھوٹا افسر بھی بڑا ہی ہوتا ہے۔ ویسے اگر پنجاب اور وفاق میں بھی ایسا ہو گیا تو اس کا مطلب ہو گا میاں صاحب کی وہ چھٹی بلکہ آٹھویں حس سچ ہی کہہ رہی تھی کہ سازش ہے، جس کو چودھری نثار ہر دوسرے دن مسترد کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں اور کچھ صحافی اس طرح کی تبدیلیوں سمیت کئی تبدیلیوں کی پیشین گوئیاں کرکر کے اپنا گلہ خشک کر بیٹھے ہیں۔