کراچی پولیس نے نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ڈی ایس پی کو بچالیا

کراچی: پولیس نے 3 نوجوانوں کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے والے ڈی ایس پی کوبچالیا اور جھگڑے کے مرکزی کردار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

کراچی میں نوجوانوں کو برہنہ کرکے تشدد کرنے والے ڈی ایس پی کے جھوٹ کا پول کھل گیا،ایک نجی اخباری ذرائع کو ملنے والی فوٹیج میں واضح دیکھا جاسکتاہے کہ ڈی ایس پی یعقوب جٹ نے پاجامہ پہن رکھاہے اور وہ اپنے دفتر کی چھت پر بیلٹ سے برہنہ کیے گئے لڑکوں کوپیٹ رہا ہے۔

فوٹیج سامنے آنے سے پہلے ڈی ایس پی کا دعویٰ تھا کہ نوجوانوں پر اس نے تشدد نہیں کیا بلکہ ان کا کالونی میں جھگڑا ہوا تھا، ادھر نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فوٹیج ملنے کے بعد ڈی ایس پی معاملہ ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔

پولیس نے تمام صورتحال میں پیٹی بھائی کو بچانے کیلئے ڈی ایس پی کے بھانجے قدیس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرلیا ہے، متاثرہ نوجوانوں نے ڈی ایس پی کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی جی سندھ کی ہدایت پر ڈی ایس پی یعقوب جٹ کو گزشتہ روز ہی معطل کردیا گیا تھا جب کہ ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات فیروزآباد پولیس کالونی میں ڈی ایس پی یعقوب جٹ کے بھانجے قدیس کا تھانے کے انٹیلی جنس افسرغلام حسین کے بیٹے عثمان، اس کے دوستوں قیصر اور حسیب سے گاڑی ٹکرانے پرجھگڑا ہوا تھا مگر محلے داروں نے معاملہ رفع دفع کرا دیاتھا تاہم قدیس کے ڈی ایس پی ماموں نے رات میں تینوں نوجوانوں کوگھروں سے اٹھوالیا اور برہنہ کرکے دفترکی چھت پرتشدد کیا۔