فاروق ستار کا ایم کیو ایم پاکستان اور سیاست چھوڑنے کا اعلان

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کل پریس کلب میں مہاجر قوم کی تذلیل کی گئی لیکن ہم ایم کیو ایم پاکستان کا نام اور قربانیوں کو نہیں مٹائیں گے جب کہ یہ پارٹی 22 اگست تک ضرور الطاف حسین کی تھی مگر اب پاکستان بنانے والوں کی ہے۔

کراچی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم مہاجروں کی بقا اور سلامتی کے لیے کام کررہے ہیں، مہاجروں کی تذلیل کا کبھی سوچا نہیں تھا لیکن کل پریس کلب میں مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل ہوئی، مصطفیٰ کمال نے کل بڑا باریک کام کیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ میں 7 مرتبہ صوبائی اور قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا اور ایم کیو ایم کے خلاف 1992 کے آپریشن کے بعد ملک سے فرار نہیں ہوا بلکہ کارکنوں اور ساتھیوں کے ساتھ ملک میں ہی رہا جب کہ تمام مقدمات کا سامنا کیا اور ایک مقدمہ بھی این آر او کے تحت ختم نہیں کیا، میں نے سرکاری پوزیشن ہوتےہوئےاختیارات سے تجاوزنہیں کیا اور آج خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا جو میرے سیاسی سفر میں اہم دن ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہم 21 اگست کے واقعے کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے لیکن جس پارٹی کے نام پر سیاست کی اس کو کیسے مٹادیں، اپنی تاریخ مٹادیں، شہدا کی قربانیوں کو بھلا دیں، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جب کہ ایسا ضرور ہوسکتا ہے ہم ایک منشور کے تحت اتحاد قائم کرتے اور آگے چلتے اور یہی کل کی پریس کانفرنس کا بھی مقصد تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹی کو ختم کیا جائے، ایم کیو ایم اپنی جگہ موجود ہے، وہ کہیں نہیں جارہی، ہم کراچی میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

فاروق ستار نے مصطفیٰ کمال کو مخاطب کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا کہ اوقات نہیں ہے آنکھ سے آنکھ ملانے کی ، دعویٰ کررہا ہے نادان نام مٹانے کی جب کہ الطاف دشمنی میں اتنے آگے نہ جایا جائے کہ جمہوریت اور مہاجر مینڈیٹ کی تذلیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم 22 اگست تک ضرور الطاف حسین کی تھی مگر اس وقت بھی مہاجر قوم کی امید کا مرکز تھی اور 23 اگست کے بعد ایم کیو ایم نہ تیری ہے نہ میری ہے بلکہ پاکستان بنانے والوں کی ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ کل یہ تاثر دیا گیا کہ میری مصطفیٰ کمال سے بہت ملاقاتیں ہوئیں لیکن میں کہیں بھی ان سے اکیلا نہیں ملا البتہ انیس قائم خانی سے صرف ایک بار ضرور ملا ہوں تاہم انیس قائم خانی سے گلہ ہے کہ ہم کل کیا جذبہ لے کر گئے تھے اور ہمیں کیا صلہ ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم مہاجروں کی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کر رہے ہیں تو وہ ہمیں کراچی تو دور اگر لاہور، کوئٹہ، پشاور اور لاڑکانہ سے ایک سیٹ جیت کر دکھا دے، انہیں ایم کیو ایم پاکستان کا نام مٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہم خود اپنا جھنڈا اور نشان ان کے ہاتھوں سے دفن کردیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ پورے ملک کی سیاست کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی بھی کراچی میں صرف ایک سیٹ ہے، قومی لبادہ اوڑنے سے کچھ نہیں ہوتا، سوچ قومی ہونی چاہیے اور ہم نے صرف اسی سوچ اور پاکستان کے لیے لندن والوں کو چھوڑا لیکن ہم اپنے شہدا کی قربانیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔

فاروق ستار نے مصطفیٰ کمال کو ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اس پارٹی میں شامل ہوں یہ آپ کی جڑ ہے اور میرے ساتھ ملکر برے لوگوں کو ختم کریں نہ کہ انہیں اپنی پارٹی میں شامل کریں جب کہ کل ایک جماعت کو ساتھ چلنے کے لیے انگلی پکڑائی گئی مگر اس کا یہ مطلب لیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو ہی ختم کردیا جائے۔

سربراہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کہنا تھا کہ میں رابطہ کمیٹی کے ساتھیوں
سے ناراض تھا، انہوں نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا اس پر میں ان کا شکرگزار ہوں مگر کسی کو میری رہنمائی اور سربراہی پر تحفظات ہیں تو میرے ساتھ بیٹھیں اور ملکر معاملات حل کریں نہ کہ انہیں سوشل میڈیا پر اچھالیں جب کہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے اعلانات کرنے کے بجائے پارٹی ڈسپلن کے مطابق فیصلے ہوں گے اور اگر ایسا ہوا تو ان کے اور میرے راستے جدا ہوں گے۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں نے کچھ دیر قبل اہم اجلاس میں طویل مشارت کی جس میں گزشتہ روز پاک سرزمین پارٹی سے اتحاد کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی مگر حیران کن طور پر اجلاس میں فاروق ستار شریک نہ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق فاروق ستار رابطہ کمیٹی سے ناراض ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔