آرمی چیف کو معیشت پر رائے دینے کا حق ہے، وزیر اعظم

اسلام اآباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’سول ملٹری تناؤ موجود نہیں تاہم اختلاف رائے ہوسکتا ہے، معاشی عشاریے بہتری کی طرف ہیں، معیشت پر کچھ لوگوں کو گلاس آدھا خالی نظر آتا ہے لیکن مجھے گلاس آدھا بھرا ہوا نظر آتا ہے، جبکہ آرمی چیف کو بھی معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے۔‘

انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی افواہوں کے حوالے سے کہا کہ’ ٹیکنوکریٹس یا قومی حکومت کے قیام سے بہتری نہیں آسکتی، تبدیلی آئین کے مطابق آنی چاہیے ورنہ ملک کا نقصان ہوگا، جس کہ کسی کو اگر مجھ سے اختلاف ہے تو ایوان میں تحریک عدم اعتماد لے آئے۔‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے سوال پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اقامہ پر نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ نواز شریف کو کیوں نکالا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ بھی تاریخ نے قبول نہیں کیا۔‘