حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش، خواجہ آصف سے جواب طلب

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکا کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیش کش کی ہے جب کہ دوسری جانب امریکا انڈیا کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی گئی تو تمام حساس معلومات بھارت کو منتقل ہوجائیں گی۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران امریکا کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ کارروائی کی پیش کش پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف سے ایوان میں جواب طلب کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت ہوا تو نکتہ اعتراض پر پی ٹی آئی کی خاتون رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ وزیر خارجہ نے امریکا کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیش کش کی ہے جب کہ دوسری جانب امریکا انڈیا کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی گئی تو تمام حساس معلومات امریکا، بھارت کو فراہم کردے گا۔

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ ایوان کو بتائیں کہ کس طرح امریکا کو یہ پیش کش کی گئی جبکہ امریکا، پاکستان کو دہشت ریاست قرار دے رہا ہے تو ہم پھر ایسی پیش کش کس حیثیت میں کررہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان دشمن امریکی تجزیہ کار کو یہاں کیوں آنے کا ویزه دیا جارہا ہے، ’جو حسین حقانی نے کیا آپ بھی وہی کرنے جارہے ہیں‘، جس پر ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ جو خبر میں نے پڑھی اس میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ چھان بین کے بعد ویزه دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ معاملے کے بارے وزیر پارلیمانی امور وزارت خارجہ کو آگاه کریں گے اور پھر خواجہ محمد آصف کو ایوان میں وضاحت دینے کے لیے طلب کیا جائے گا۔