فوجی ضروریات کیلئے امریکا پرانحصار باقی نہیں رہا، وزیراعظم

اسلام اآباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا فوجی اور دیگر ضروریات کے لیے امریکا پر انحصار باقی نہیں رہا، اگر ضرورت پڑی تو دیگر ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘اگر ایک ذریعہ ختم ہو جاتا ہے تو ہمارے پاس کسی دوسرے ذریعے سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں، اس کے لیے زیادہ لاگت اور زیادہ وسائل درکار ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنی ہے جس کا اظہار ہم ہر ملاقات میں کرتے ہیں’۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہماری فوج کے پاس ہتھیاروں کا بڑا نظام امریکی ہے لیکن ہم نے اس کو جدت دی ہے، ہمارے پاس چینی اور یورپی نظام موجود ہیں، حال ہی میں ہم نے پہلی مرتبہ روسی لڑاکا ہیلی کاپٹرز کو بھی نظام میں شامل کیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ہمارے نظام پر کوئی پابندیاں یا رکاوٹیں نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کاوشوں کو کمزور کریں گی بلکہ ان سے خطے کا توازن بھی متاثر ہو گا’۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اپنی مصروفیات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے کئی اہم رہنماؤں بشمول 8 سربراہان مملکت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکی نائب صدر اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں ‘جو سود مند ثابت ہوئیں’۔

امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں سرکاری رابطوں کے لیے یہ ملاقات ضروری تھی کیونکہ جب ٹرمپ نے 21 اگست کو جنوبی ایشیا کے لیے اپنی پالیسی پالیسی بیان دیا تھا تو اس کے متعلق بہت خدشات تھے اور پاکستان نے طے شدہ دو طرفہ رابطے منقطع کردیے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہم نے ہر سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور امریکا کے جو بھی خدشات ہوں ہم نے انھیں دور کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے’۔

پاکستان میں دہشت گردوں کی پناگاہوں کے حوالے سے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ہم دوٹوک انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کسی کو کسی قسم کی پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں، آج ہمارا مشترکہ مقصد ہے کہ دہشت گردی کو نیست و نابود کیا جائے اور افغانستان میں امن لایا جائے’۔