احتساب عدالت میں رینجرز تعیناتی معمہ بن گئی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کی سیکورٹی پر رینجرز کی تعیناتی معمہ بن گئی ہے۔

احتساب عدالت میں نواز شریف کی پیشی کے موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر وزرا کو داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا جس پر وزیر داخلہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔

رینجرز کس کے حکم پر عدالت کے باہر تعینات کی گئی یہ معمہ تاحال حل نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس ایس پی نے رینجرز کو بلانے کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو مراسلہ بھیجا تھا جس کی کاپی وزارت داخلہ، آئی جی پولیس اور رینجرز کمانڈر کو بھی ارسال کی گئی، تاہم ڈی سی نے رینجرز کو طلب کرنے کا نہ کوئی حکم جاری کیا اور نہ ہی یہ خط آگے ارسال کیا۔

یکم اکتوبر کو ایس ایس پی آپریشنز ساجد کیانی نے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر احتساب عدالت کی سیکورٹی کیلئے رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔ خط میں کہا گیا کہ امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں مدد کے لئے 200 رینجرز اہلکار درکار ہیں لیکن اگر رینجرز اہلکار آتے ہیں تب بھی وہ براہ راست عوام الناس سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔

ادھر ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے معاملے پر وضاحت جاری کردی گئی ہے۔ ترجمان ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ رینجرز کی تعیناتی کیلئے ایس ایس پی آپریشنز نے خط لکھا جس پر ایس ایس پی اور ڈپٹی کمشنر کے مابین تبادلہ خیال بھی ہوا، تاہم ڈی سی کی جانب سے رینجرز کی تعیناتی کیلئے مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق رینجرز تعیناتی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پولیس نے اپنا سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا، جب کہ اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کا اختیار صرف ڈی سی کے پاس ہے اور پولیس کی جانب سے لکھے گئے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ وزیر داخلہ کو جوڈیشل کمپلیکس میں روکنے کے معاملے پر سیکریٹری داخلہ نے ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور سیکریٹری داخلہ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کردی ہے۔