درخت لگائیں، خود کو بچائیں

عابد محمود عزام

درخت جانداروں کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں، جو نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ بھی ہیں اور شجرکاری گلوبل وارمنگ کے اثرات زائل کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا از حد ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ یا درجہ حرارت میں اضافہ مجموعی طور پر زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو بری طرح متاثر کرے گا۔ درجہ حرارت بڑھنے کے باعث پینے کا پانی کمیاب ہوگا اور زراعت کے لیے پانی نہ ہونے کے سبب قحط و خشک سالی کا خدشہ ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کو پگھلا دے گا، جس سے ان کا سارا پانی سمندروں میں آجائے گا۔ شہر ڈوب جائیں گے۔ بے وقت کی بارشیں زراعت کو تباہ کر دیں گی۔ زہریلی گیس فضا میں آکسیجن کی مقدار کم کر دے گی، جس کے نتیجے میں لوگ بڑے پیمانے پر دماغی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جائیں گے۔ خطرناک بیماریوں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے۔

پاکستان میں ہر سال گرمی کے موسم کا دورانیہ اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کا یہ سلسلہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کا دورانہ بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے، بلکہ آئندہ برسوں میں پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں سردی اور موسم بہار کے بالکل ہی ختم ہوجانے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ ترقی کے اس دور میں فیکٹریوں، گاڑیوں، بہت سی الیکٹرانک اشیاء سمیت گلوبل وارمنگ اور درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی جدید اشیاء کو تو ترک نہیں کیا جاسکتا، مگر ایسے حالات میں کچھ اقدامات کے ذریعے ہم درجہ حرات کو بڑھنے سے روک ضرور سکتے ہیں اور گلوبل وارمنگ کے نقصانات کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ درجہ حرارت اور گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کا سب سے آسان طریقہ بڑے پیمانے پر درخت لگانا ہے۔ کسی علاقے کے طول و عرض میں جنگلات لگانا اس علاقے کے درجہ حرارت کو کم اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، مگر افسوس درخت لگانے کی ہمارے معاشرے کو جتنی زیادہ ضرورت تھی، ہم اتنی ہی سستی برت رہے ہیں۔ نہ صرف درخت لگائے نہیں جارہے، بلکہ درختوں کو بے دریغ کاٹا بھی جارہا ہے۔ درخت جس تیزی سے کاٹے جارہے ہیں، اس کے نتیجے میں فضا میں آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہو رہی ہے، جو جانداروں کے لیے شدید خطرات کا باعث ہے۔

ہم آج درخت نہ لگا کر اپنی آنے والی نسلوں کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں اور اگر آج زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کی حفاظت کا انتظام کر رہے ہیں۔ جس طرح ہم سے پہلے لوگوں نے درخت لگائے تو آج ہمارے کام آرہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پودے لگاتے بوڑھے کو دیکھ کر لوگوں نے کہا: ’’بابا جی آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں، جب تک یہ پھل دینے کے قابل ہو گا، آپ اس دنیا میں نہیں ہوں گے۔‘‘ اس پر بوڑھے آدمی نے جواب دیا: ’’میں جانتا ہوں کہ جب یہ تناور درخت بن جائے گا تو میں اس کا پھل کھانے کے لیے اس دنیا میں نہیں رہوں گا، لیکن میرے بزرگوں نے جو درخت لگائے تھے، ان کے پھلوں کو میں نے استعمال کیا، اب یہ درخت میں اپنی آیندہ آنے والی نسلوں کے لیے لگا رہا ہوں۔‘‘ ہمیں چاہیے اپنے آباؤ اجداد کے لگائے ہوئے درختوں کی حفاظت کریں اور زیادہ سے زیادہ نئے پودے لگا کر ان کی نگہداشت کریں۔ درخت لگانا چونکہ صدقہ جاریہ بھی ہے، اس لیے جب تک اس درخت سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے، اس وقت تک ہمیں اس کا اجر بھی ملتا رہے گا۔

درخت کم ہونے کے بہت سے نقصانات ہیں۔ درختوں کی کمی کی وجہ سے زمین پربرسنے والی بارش اپنے ساتھ مٹی بھی بہاکرلے جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سیلاب آتے ہیں۔ درخت ہی سیلاب کو کم کرنے کا ذریعہ ہیں، جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ نہ صرف زمین سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے، بلکہ سیلاب کے گزر جانے کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح کی زرخیزمٹی کو اڑا کر دورچلے جانے سے روک لیتی ہے۔ جنگلات سیلابی پانی کی رفتارکم کرتے ہیں، زمین کوکٹاؤ سے بچاتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں۔ اس لیے درخت ہرگز نہیں کاٹنے چاہیے، بلکہ زیادہ سے زیادہ لگانے چاہیے۔

زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہفتہ شجر کاری منایا جارہا ہے۔ آئیں اس مثبت کام میں ہم بھی معاون بنیں۔ پہلا قدم خود اٹھائیں اور اپنے گھروں، گلی اور محلوں میں درخت لگا کر اس نیک کام کا آغاز کریں۔ درخت زمین کے گرد موجود اوزون کی تہہ کے لیے انتہائی نقصان دہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عنصر کاربن کو جذب کرتا ہے (جس سے گرمی کی شدت میں کمی ہوتی ہے) اور تازہ آکسیجن خارج کرتا ہے، جو زندگی کا انتہائی اہم عنصر ہے۔ گھروں اور چھوٹی عمارات کے آس پاس درخت لگانے سے کمرے ٹھنڈے رکھنے کے نظام مثلاً اے سی (ایئر کنڈیشن) کے اخراجات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔ درخت لگانے کا کام بہت مہنگا یا زیادہ وقت طلب نہیں ہے، صرف چند بیجوں کو ایسی جگہ بوئیں، جہاں ہوا، دھوپ اور مٹی موجود ہو اور آپ دن میں ایک بار پانی دے سکیں۔ پودا لگا دینا بہت بڑی بات ہے، مگر پودے کی باقاعدہ حفاظت اور آبیاری کرنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ پودا لگانے کے مقاصد تو اسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں، جب پودا لگانے کے بعد اس وقت تک اس کی حفاظت کریں، جب تک وہ بڑا نہیں ہوجاتا۔

پاکستان میں برسوں سے شجرکاری کی مہمیں چلائی جاتی ہیں۔ ہر سال سرکاری سطح پر اربوں روپے کے پودے لگائے جاتے ہیں، لیکن پودے لگانے کے بعد اس کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں۔ اس لیے پودے لگائیں بھی اور اس وقت تک ان کی حفاظت کریں، جب تک وہ بڑے نہیں ہوجاتے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصے پر جنگلات کا ہونا بے حد ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کل رقبے کا صرف 4 فیصد حصے پر ہی جنگلات ہیں، جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے، جبکہ ایک اندازے کے مطابق روس میں 48 فیصد، برازیل میں 58 فیصد، انڈونیشیا میں 47 فیصد، سوئیڈن میں 74 فیصد، اسپین میں 54 فیصد، جاپان میں 67 فیصد، کینیڈا میں 31 فیصد، امریکا میں 30 فیصد، بھارت میں 23 فیصد، بھوٹان میں 72 فیصد اور نیپال میں 39 فیصد جنگلات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ ہم انفرادی طور پر اپنے ملک میں جنگلات میں اضافہ نہیں کرسکتے، لیکن اپنے اپنے طور پر درختوں میں اضافہ تو کرسکتے ہیں۔ آئیں ہم بھی کوشش کریں اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ملک میں اتنے زیادہ درخت لگائیں کہ درختوں کے حوالے سے ہمارے ملک کی ضرورت پوری ہوجائے اور درخت لگانے سے ہم خود اور ہماری آئندہ نسلیں موسم کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے۔