’’داؤ پہ لگا مستقبل‘‘

ڈاکٹرعبد القدوس ہاشمی

جناب عاقل خان صاحب جب بھی کوئی اہم کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔ ان دنوں ہم نے اڑتی اڑتی ایک خبر سنی ہے اور خبر ایسی ہے کہ اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ ’’ممکن الوقوع‘‘ ہونے کے اعتبار سے تو کوئی بھی شخص یقین کرنے پر مجبور ہوگا مگر ہمارا مسئلہ ذرا مختلف ہے ہم یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عاقل خان صاحب کو ’’امپورٹ‘‘ اور ’’ایکسپورٹ‘‘ کا مطلب معلوم نہیں ہوگا جبکہ جو خبر سننے میں آئی ہے، اس میں ’’ایکسپورٹ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ تو بہرحال ٹیکنیکل نکتہ ہے ،ہمارے یقین نہ کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ خان صاحب نے اس حوالے سے ہمارے ساتھ ابھی تک کوئی بات نہیں کی ہے اور نہ ہی مشورہ مانگا ہے۔ چند مہینے پہلے کی بات ہے انہوں نے لوڈشیڈنگ سے تنگ ہوکر بجلی کا متبادل بندوبست کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ دراصل گرمیوں کی آمد آمد تھی اور دن بھر میں کئی کئی گھنٹے واپڈا کی بجلی بند رہنے لگی تھی، وزیر بجلی کی طرف سے باربار یہ یقین دہانی کرائی جارہی تھی کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہرگز نہیں کی جائے گی۔ ان دنوں ایسا ہواکہ محلے والوں نے تنگ ہوکر واپڈا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا پروگرام بنایا۔ عاقل خان صاحب نے کارنر میٹنگ میں لوگوں کے جذبات ’’بھڑکانے‘‘ کے لیے تقریر کر ڈالی جس پر لوگوں نے ان کو اپنا ’’لیڈر‘‘ بنالیا۔ ایک روز خان صاحب نے ہم سے مشورہ کیا کہ لوگوں کا پروگرام بجلی کے بل جلانے کا ہے، ہم نے کہا بے فکر ہوکر جلا دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا کمپیوٹر سے کاپی نکالی جاسکتی ہے۔ خان صاحب نے ہمارے قیمتی مشورے پر شکریہ ادا کیا اور احتجاجی مظاہرے میں سب کے سامنے اپنا بل جلاکر دادتحسین حاصل کی۔

اگلے روز ان کا پروگرام واپڈا آفس میں جاکر ایس ڈی او کو کھری کھری سنانے کا تھا، اس مقصد کے لیے انہوں نے ’’کھوٹی کھوٹی‘‘ باتوں پر مبنی ایک تقریر تیار کی۔ جب واپڈا دفتر سے واپس آئے تو ہم نے روائیداد سنانے کی فرمائش کی ،خان صاحب سر جھکاکر بولے ،بس یار! محلے والوں نے مجھے لیڈری سے معزول کردیا ہے، میں نے ایس ڈی او کے سامنے جاکر کلمۂ حق بلند کیا ،ابھی تقریر کا آغاز ہی کیا تھا کہ ایس ڈی او کہنے لگا، مہربانی کرکے اپنی تقریر کا عنوان بتا دیں، میں نے کہا تقریر کا عنوان ہے ’’کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر عوام کے بھڑکتے جذبات کی ترجمانی‘‘۔ ایس ڈی او نے یہ سن کر کہا صرف ایک منٹ مجھے دے دیں۔ میں نے کہا لے لیں۔ اس نے دراز میں سے ایک پیپر نکالا اور کہنے لگا، یہ ہمارے محکمے کا اعلان کردہ شیڈیول ہے، اس کے مطابق دن بھر میں جتنے گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جانی چاہیے، ہم اس سے ایک منٹ بھی زیادہ نہیں کرتے۔ میں نے یہ سنا تو اس سے کہا ،کیا واقعی صحیح کہہ رہے ہو؟ وہ بولا بالکل میں حلفاً کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا ’’چلو پھر ٹھیک ہے ہمیں غلط فہمی ہوگئی تھی‘‘ میں شرمندہ ہوکر واپس پلٹا تو لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا، افسوس کی بات یہ تھی کہ ان کے شور کا ’’ہدف‘‘ واپڈا نہیں بلکہ میری ذات تھی۔ بڑی مشکل سے جان بچاکر گھر پہنچا ہوں۔ ہم نے یہ سن کر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی کیونکہ ان کی دل آزاری غیراخلاقی حرکت ہوتی۔

بہرحال ان دنوں خان صاحب نے ہم سے مشورہ کیا کہ تین آپشن موجود ہیں، جنریٹر، یو پی ایس اور سولر پلیٹس۔ ان تینوں میں سے کس کا انتخاب کیا جائے؟ ہم نے کہا جنریٹر لے لیں۔ کہنے لگے چند روز قبل آپ اپنے ہمسائے کو جنریٹر کی بجائے یو پی ایس لینے کا مشورہ دے رہے تھے، آج مجھے جنریٹر لینے کے لیے کیوں کہہ رہے ہیں، ہم نے مسکراکر کہا، وہ ہمارا ہمسایہ تھا، جنریٹر کا شور ہم سے برداشت نہیں ہوتا، آپ کا گھر کافی فاصلے پر ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جنریٹر بیچنے والا ہمارا دوست ہے۔ خان صاحب چلے گئے، ہم سمجھے کہ شاید اپنے کسی جاننے والے سے جنریٹر لیں گے مگر چند روز کے بعد وہ ہمارے کلینک کے قریب ایک ’’رفوگر‘‘ کی دکان پر کھڑے مل گئے، پوچھنے پر ذرا شرماکر بولے ،میں نے یو پی ایس لے لیا تھا، بیٹری کا تیزابی پانی ڈال رہا تھا کہ چھینٹے میری قمیض کے بازو پر پڑ گئے، دو عدد سوراخ ہوگئے ہیں ،ان کو رفو کروانا ہے۔ ہم نے مسکراکر کہا احتیاط کیا کریں ،دوبارہ پانی ڈالنا ہوتو کپڑوں کو بچائیے گا۔ اگلے مہینے خان صاحب ہمارے کلینک پر ایسی حالت میں تشریف لائے کہ شلوار کے اوپر صرف بنیان پہنی ہوئی تھی، درد سے کراہتے ہوئے بولے آپ کے کہنے پر میں نے کپڑے بچانے کی خاطر قمیض اتارکر بیٹری میں پانی ڈالا، نتیجہ یہ دیکھیں میرے بازو کی جلد جل گئی ہے، قمیض پہنی ہوتی تو کپڑا ہی جلتا، اب ان چھالوں کا کچھ کریں۔ اس بار ہم اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکے۔

اب آئیں اڑتی اڑتی خبر کی طرف۔ دراصل ہمیں حکیم گاؤ زبان صاحب نے بتایا کہ غیرت دہلوی صاحب اور عاقل خان صاحب مل کر ایکسپورٹ کا کام شروع کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ہمیں گمان ہوا کہ شاید حکیم صاحب کو سننے میں غلطی لگی ہے، خان صاحب نے ’’سپورٹ‘‘ کا کام کیا ہوگا، انہوں نے غلطی سے ’’ایکسپورٹ‘‘ سمجھ لیا ہے کیونکہ کئی روز سے ان کے پوتے ربر والی بال گم کررہے تھے اور خان صاحب باربار خریدکر تنگ آچکے تھے ،ہم نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ ہول سیل مارکیٹ سے اکٹھی کافی زیادہ تعداد میں بال لے آئیں سستی پڑیں گی۔ عین ممکن ہے کہ ڈیڑھ درجن بال لانے کا ارادہ کرکے خان صاحب نے سپورٹ کا کام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ آج خان صاحب کا پوتا جب ہمیں یہ بتانے کے لیے آیا کہ شام کو ان کے گھر پر ’’قرآن خوانی‘‘ کا پروگرام ہے تو ہم نے موقع غنیمت جانا۔ بروقت پہنچے تو دسترخوان پر کھانا لگانے کی تیاری ہورہی تھی، ہم نے پلان کرلیا تھا کہ عصر کے بعد قرآن خوانی ہوگی تو لازماً مغرب کی نماز کے بعد ’’کھانا‘‘ ہوگا۔ اس سے قبل کہ ہم عاقل خان صاحب سے والدین کی وفات کے کافی عرصہ بعد ’’اچانک‘‘ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کرانے کی وجہ پوچھتے، انہوں نے مولوی صاحب سے دعا کرنے کی درخواست کردی۔ مولوی صاحب کے ہمراہ سبھی نے ہاتھ کھڑے کردیے۔

موصوف نے انتہائی رقت انگیز دعا فرمائی مگر اس پوری دعا میں خان صاحب کے والدین کا کوئی ذکر نہ تھا۔ لب لباب فقط یہ تھا کہ خدا وندکریم اپنے خصوصی کرم سے جناب میاں محمد نوازشریف صاحب کی حکومت پر رحمت کا سایہ قائم رکھے اور جے آئی ٹی کے چھائے بادل چھٹ جائیں (یہ نہ پوچھیے گا کہ ہم نے دعا پر آمین کہا یا نہیں)۔ دعا ختم ہونے کے بعد ہم نے عاقل خان صاحب سے کہا معلوم ہوتا ہے کہ آج کی یہ تقریب ’’سیاسی قرآن خوانی‘‘ پر مبنی تھی۔ خان صاحب پلیٹ میں سالن ڈال کر بولے ،بعد میں بتاتا ہوں پہلے کھانا کھالیں۔ کھانے کے بعد خان صاحب ہمیں کہنے لگے، میں نے یہ قرآن خوانی اپنے کاروبار کے لیے کرائی ہے۔ ہم نے حیران ہوکر کہا مولوی صاحب نے تو کاروبار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ خان صاحب بولے دراصل غیرت دہلوی صاحب کے ساتھ مل کر میں نے ایکسپورٹ کا کام شروع کرنا ہے۔ ہمیں ایک دوست نے بڑا قیمتی مشورہ دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ حکومت 2018ء میں لوڈشیڈنگ ختم کردے گی، اس کے بعد ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں جنریٹرز اور یو پی ایس بیکار ہوجائیں گے ،کوڑیوں کے بھاؤ ملیں گے ،اگر ہم بروقت پلاننگ کرکے انہیں اپنے ہمسایہ ملک میں ایکسپورٹ کرنے کا بندوبست کرلیں تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔ ہمارے اس منصوبے کا سارا دارومدار نوازشریف صاحب کی حکومت کے قائم رہنے پر ہے دعا کریں فیصلہ ’’ہمارے حق میں آئے۔۔۔‘‘