گرم ہے پھر جنگ اقتدار۔۔۔

عامر ہ احسان

یہ تصویر ایک امریکی فوجی گاڑی کی تھی جو طالبان حملے کا نشانہ بنی تھی۔ گاڑی کیا یہ ایک دیوہیکل ناقابل تسخیر قلعہ نظر آتا ہے۔ امریکا نے 16سال دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، محیرالعقول، حساس ترین نشانہ بازی کی صلاحیت رکھنے والا اسلحہ، بری فضائی افواج کی بے پناہ قوت افغانستان میں جھونکی۔ اتحادی ممالک کی مشترکہ عسکری قوت، صلاحیت، پلاننگ، مہارت سبھی کچھ اس جنگ میں امریکا، نیٹو کو حاصل تھا۔ پاکستان کی مکمل مدد، پشت پناہی، تعاون پوری فدویت کے ساتھ حاضر تھی۔ ایک لاکھ 10ہزار ہائی ٹیک فوجی نیٹو امریکا کے تھے۔ 3لاکھ افغان فوجی ان نہایت ماہر ہاتھوں نے تربیت دے کر افغان فوج کھڑی کردی، جنہیں مسلح بھی ان کے مائی باپ امریکا نے کیا۔ 4لاکھ 10ہزار کی فوج، تیس چالیس ہزار افغان طالبان (پورے افغانستان میں بکھرے پھیلے گوریلا مجاہد ) کے مقابل ٹھہر نہ سکی۔ اتحادیوں نے پیمپرسنبھالتے ہوئے رخصت چاہی۔ ایک ایک کرکے تمام ممالک تابوت اٹھائے، دبے پاؤں چل دیے۔ بیچارہ امریکا اپنا بوجھ اٹھائے تنہا رہ گیا۔ 8 ہزار چارسو امریکی فوجی اب بھی افغانستان میں چرکے کھانے کو موجود ہیں۔ اب امریکی وزیر دفاع جیمز مٹیس یہ کہنے پر مجبور ہوگیا :’ ’ افغانستان میں ہم طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت رہے۔ امریکا کامیاب نہیں ہورہا۔ امریکا شکست سے دوچار ہے۔ طالبان کا اثررسوخ افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نئی جنگی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ‘‘ سوال تو یہ ہے کہ تاریخ کی مہنگی ترین جنگ، ہر حکمت عملی آزما کر بھی اگر جیتی نہیں جاسکی تو مزید چند ہزار امریکی فوجیوں کی آمد، تابوتوں کے کاروبار کو فروغ تو دے سکتی ہے، فتح سے ہمکنار کیونکر کرسکتی ہے؟پھر سے مرنے کو ہیں تیار ذرا سوچو تو ! 16سال دہشت گردی کا ڈھول پیٹا۔

افغانستان پر، نہتی، جنگوں کی ماری غریب و تہی دست قوم پر حملہ آور 49ممالک اور ان کا سرغنہ امریکا تو دہشت گرد نہ تھا۔ یہ قوم دہشت گرد تھی؟ بجا فرمایا! ایک نہتی، بے سروسامان قوم یکے بعد دیگرے برطانیہ، روس اور اب امریکا نیٹو اتحادیوں کی مشترکہ قوت کا اگر بھیجا نکال سکتی تھی (فیدمغہ۔الانبیاء: 18) تو یقینایہ دہشت زدہ کردینے والی قوم ہے اور اسی لیے دہشت گرد ہے۔ خوف کی گرد اور دھول سے، گھن گرج سے ان کے کلیجے شق ہورہے ہیں، دہشت گردی ایک کوڈ ہے جس کا ترجمہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ رمضان، ماہ جہاد ہے۔ اپنے جلو میں یوم الفرقان (بدر کامعرکہ)، محمد بن قاسم کے ہاتھوں برصغیر میں اسلام کی آمد، طارق بن زیادؒ کے ہاتھوں اسپین (یورپ) میں اسلام کی فتوحات لے کر آیا ہے۔ یہ تینوں واقعات کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کردینے، ہیبت طاری کردینے والے ہیں۔ عقلوں پر ماتم تو ہم مسلمانوں کا ہے کہ جنہوں نے اس اصطلاح کو قبول کیا۔ میڈیا کے ذریعے اس کو دلوں، دماغوں میں بو دیا۔ امریکا، بھارت، اسرائیل، نیٹو کی ساری خون آشامیاں تو مہذب، شائستہ پاک پوترٹھہریں۔ مقابل آنے والے دنیا بھر میں مسلمان دہشت گرد قرار پائے۔

تصویروں کی دنیا بھی بسا اوقات بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ کیمرے کی آنکھ نہایت بھیانک مناظر بڑی سفاکی سے پیش کردیتی ہے۔ برما کے اراکان مسلمانوں پر جو بیتی اس کی تاب لانا ان تصاویر کے آئینے میں کسی ذی شعور کے لیے ممکن نہیں۔ جنگل کے درندے بھی جس سے پناہ مانگیں۔ شیر اپنی تمامتر طاقت کے ساتھ ایسا درندہ نہیں کہ جنگل میں کٹی پھٹی لہولہان لاشیں پٹی پڑی ہوں۔ اپنی خوراک کی خاطر وہ ایک جانورمارتا ہے۔ اپنا پیٹ بھر کر کمی کمین چھوٹے جانوروں کے لیے باقی ماندہ صدقہ خیرات کر دیتا ہے۔ اسفل السافلین اس سفاک برمی قوم کے لیے پوری دنیا کے ایوانوں میں کہیں بھی دہشت گرد کا لقب نہیں پڑھا سنا۔ صرف ایک تصویر ملاحظہ ہو۔۔۔ دوطویل قطاریں انسانی لاشوں کی ڈھیر ہوئی پڑی ہیں۔ تصویر جن کا احاطہ کررہی ہے سیکڑوں اوپر تلے نظر آرہی ہیں۔ ان کے درمیان درجن بدھ بھکشو (راہب) اپنے لال رہبانی چوغے میں ملبوس (جو شاید مسلم خون میں رنگے گئے ہوں گے) ان کا معائنہ فرمارہے ہیں۔ وہ جو چیونٹی مارنے کی اجازت نہیں دیتے، شاداں و فرحاں انسانیت کے ذبیحے کے بیچ موجود ہیں۔ گائے مارنے / ذبح کرنے پر گاؤں کے گاؤں بھارت اجاڑ دیتا ہے مسلمانوں کے۔ اب یہی مسلم کشی کی بیماری سری لنکا کو جالگی ہے اور مسلمانوں کی شامت ہے۔ لیکن المیہ پھر وہی ہے کہ انتہا پسند یہ لاشیں ہیں۔ بدھ بھکشو انتہا پسند دہشت گرد نہیں، شیوسینا بھی نہیں۔ امن کی فاختاؤں کے یہ عالمی غول مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں! پوری مسلم دنیا اس پر خاموش ہے۔

افغانستان میں جہاد کی ہیبت نے امریکا کو یہ سبق سکھا دیا ہے بخوبی کہ مسلمان سے کئی ہزار کھرب لٹا کر بھی نمٹنا ممکن نہیں۔ سو اس کے علاج کے نئے طریقوں میں قطری ماڈل ہے۔ انتشار، تفرقہ، اختلاف، ضدبازی، کشمکش کی سرسریاں مسلمانوں کے بیچ چھوڑ دو۔ اندر سے کھوکھلے ہو جائیں گے۔ دنیا پر اس وقت جاہل ڈکٹیٹر شپ کا غلبہ ہے جمہوریت کے سہانے خواب تو خود مغرب میں ٹرمپ نے چکنا چور کردیے۔ دنیا پر پس پردہ حکمرانی ایجنسیوں کی ہے امریکا سے لے کر تیسری دنیا تک۔ امریکا میں ٹرمپ جیسا اول جلول کردار لایا گیا ہے۔ امریکا کے تھنک ٹینکوں، یونیورسٹیوں، دانشوریوں، اعلیٰ تعلیم، تحقیقی اداروں کا منہ چڑاتے ہوئے ایسا شخص جو سارے اصول قاعدے ضابطے بالائے طاق رکھ کر نئی نرالی سیاست کاری کا ذائقہ چھکا سکے۔ جو تماشا اس نے مشرق وسطیٰ میں لگا کر مسلم حکمرانوں کے سینگ باہم الجھا دیے ہیں، یہ کسی مہذب، نارمل، صحیح الدماغ اور باشعور سیاست دان صدر کے بس کا روگ نہ تھا۔ قطر کی خودمختارانہ خودسری کو مزہ چکھانے کے لیے ٹرمپ ہی یہ سب کرسکتا تھا۔ کریلے پر نیم چڑھانے کو اس کی بیٹی اور یہودی داماد مزید میسر ہیں۔ بھلے امریکی ٹرمپ پر کتابیں لکھیں: ’’ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک کیس ‘‘ اس کی دماغی صحت پر برملا شبہے کا اظہار کریں۔ لیکن وہ دجالی منصوبوں کی تکمیل کے لیے نہایت موزوں ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں اس کی کابینہ کی میٹنگ میں تیسری دنیا کے وزیروں کی مانند خوشامد کی حدیں توڑتے ٹرمپ کابینہ کے ارکان کا تذکرہ بہ صد حیرت کیا گیا ہے۔ شاید امریکی اسٹیبلشمنٹ حسنی مبارک، حافظ الاسد، قذافی طریق ہائے سیاست سے متاثر ہوکر وہ ماڈل اپنے ہاں کاشت کررہی ہے۔ مقصد براری کے لیے ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ موزوں طرز حکومت اور کون سا ہوگا!

ادھر پاکستان میں بڑے بڑے سانحوں کے ذمہ دار اور سورما ہائے لوٹ مار ہوگزرے ہیں۔ احتساب کی کہانی چلے تو کون بچے گا ہماری تاریخ میں؟ لیکن سانحہ مشرقی پاکستان کا المیہ احتساب سے بالاتر رہا۔ ساری دنیا میں معروف سیاہ کاریوں بھرا کردار یحییٰ خان کس طرح قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کردیا گیا! جنرل نیازی کے احتساب یا سزا، پیشی کی جرأت کس میں تھی۔ پرویز مشرف عدالتوں سے آنکھ مچولی کھیلتا پوری قوم کوامریکی ڈالروں کے عوض بیچ کر، ہمارے مقدر میں غلامی کی طویل سیاہ رات بھر کر صاف چھوٹ گیا۔ پہلا پتھر وہ مارے جو خود پاک ہو! فرق صرف اتنا ہے کہ حقیقی حکمرانی ملک پر لاٹھی والوں کی ہی رہی ہے۔ سارے دھرنے، سارے پانامے، تمامتر پیشیاں ہرکرسی والے کو دباؤ میں رکھ رکھ کر مارڈالنے کے لیے ہیں۔ یہ سنجیدہ سوال اب بجا طورپر ہرحلقے سے اٹھ رہے ہیں کہ جرنیلوں، ججوں کے احتساب کے دروازے بھی اب اسی طرح کھلنے چاہئیں۔ صرف لاپتہ افراد کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ پوری قوم، عدلیہ، میڈیا، سیاست دان دم سادھے ہے۔ ہزاروں شہریوں کی گمشدگی اور پھر نامعلوم لاشوں کی خبریں جو خاندان والوں سے بالا بالا دفن کردی جاتی ہیں۔ 18کروڑ گواہوں کے سامنے یہ معاملہ سالہا سال سے رواں دواں ہے۔ اب طویل عرصے بعد سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حقوق انسانی کے سپرد کرنے اور انٹیلی جنس اداروں کو قانون اور پارلیمنٹ کے تابع لانے کا مطالبہ سینیٹر حمداللہ (JUI) کی جانب سے آیا ہے جس کی تائید حکومت، اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی کی ہے کہ کوئی مجرم ہے تو جرم بتا کر کھلی عدالت میں پیش کیا جائے۔ حکومت 60دنوں کے اندر لاپتا افراد کے معاملے پر بل لائے۔

انصاف کی دہائیاں دیتے اگر نواز شریف خاندان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے تو لاپتگان کی بازیابی، قیامت کے دن کا انتظار کیوں کرے؟ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے ادارے ننھے معصوم بچوں کو باپ کی خبر نہ ہونے دیں کہ وہ زندہ ہیں یا بچوں کو یتیم کر گئے؟ وہ کس کال کوٹھڑی میں مقید ہیں؟ دہشت گردی کے عفریت کے نام پر اہل دین کو اجاڑنے کا ایک لامنتہا تسلسل ہے، جس پر سینیٹر حمد اللہ گرجے برسے ہیں! اللہ دنیا کا امن سکھ چین لوٹا دے، قبولیت کی رمضانی گھڑیوں میں اب یہی ایک دعا ہے، وگرنہ:

اہل ہوس میں گرم ہے پھر جنگ اقتدار
شعلوں کی زد میں سارا گلستان ہے دوستو!