جیمر جام

ندیم تابانی

کراچی سینٹرل جیل میں رینجرز اور پولیس نے مل جل کر ایک آپریشن کیا، بتایا جا رہا ہے شاید ستائیس سال بعد ایسا آپریشن کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جو چیزیں ملی ہیں، ان میں ٹی وی، ایل سی ڈی، فریج، ڈیپ فریزر، گیس سلنڈر اور نہ جانے کیا کیا کچھ شامل ہے۔ جو جو ملا ہے، اس کی تفصیل سن سن کر لوگ حیران ہو رہے ہیں بلکہ پھڑک اور بھڑک رہے ہیں۔ ملنے والی چیزوں میں سیکڑوں موبائل بھی ہیں۔ جیل کے آس پاس سے گزریں تو جیمر صاحبان موبائل پر چلنے والی کال روک دیتے ہیں، لکھے ہوئے میسج بھیجے جا سکتے ہیں، نہ دوسری طرف سے آنے والے میسج وصول ہو پاتے ہیں، جیل کے آس پاس رہنے والے بڑی مشکل میں ہیں، لیکن قیدیوں کی خوش بختی اور حسنِ انتظام دیکھیے کہ انہوں نے جیمر کو جام کر رکھا تھا اور لمبی لمبی ٹاک شاک کرتے تھے۔ خطر ناک سمجھے جانے والے کچھ قیدی کسی ان دیکھی طاقت کی مدد سے ’’فرار‘‘ ہوئے تو آپریشن کے مقدر جاگے، بلکہ آپریشن کے ہی کیوں! جیل انتظامیہ اور پولیس افسران کے بھی مقدر جاگے، بلکہ اس سامان کی ترسیل میں نہ جانے کتنے لوگوں کا کمیشن بنے گا، کیوں کہ یہ سامان اب دوبارہ جائے گا تو پہلے سے زیادہ قیمت دینا ہو گی، زیادہ نذرانے دیے جائیں گے۔

***

آپریشن کے بخت صرف اس حد تک جاگے ہیں کہ ہو گیا، کرنے والوں کی ناک اونچی ہو گئی، کروانے والوں کی تو خیر سدا سے اونچی ہی رہتی ہے۔ باقی اگر کسی کو یہ وہم ہے کہ کسی سے پوچھا جائے گا، کوئی تحقیق ہو گی تو وہ اپنا وہم فوراً سے پہلے دور کر لے، پھر بھی اگر وہم اس کو زیادہ تنگ کرے تو دو چار تھپڑ وہم کے یعنی اپنے ’’بھیجے ‘‘کو لگائے، کیوں کہ اگر تحقیق ہوئی بھی تو کئی ایک کے عیش کروادے گی، لمبے ہاتھ ہمیشہ لمبے ہی رہتے ہیں، انہیں جتنا بھی کاٹا جائے، ان کی لمبائی کم نہیں ہوتی، بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے، یہ سامان کہاں جائے گا، کس کے ہاتھ لگے گا، ظاہر ہے ابھی تو مال خانے میں جمع ہو گا، وہاں سے اچھی اچھی چیزیں اچھے اچھے لوگوں کو ملیں گی، کچھ فروخت بھی ہوں گی، مطلب آپریشن کے فائدے تو بے تحاشا ہیں، نقصان صرف قیدیوں کے دوستوں، جماعتوں، پارٹیوں اور گھر والوں کا ہو گا، جنہیں یہ سب چیزیں پہلے سے مہنگے داموں اور زیادہ اخراجات کے ساتھ اپنے پیاروں کے لیے جیل بھجوانی ہوں گی۔

***

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کچھ لوگ اس کے اور جے آئی ٹی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، کچھ ٹی وی اینکروں کا بھی ذکرِ خیر و شر آیا۔ مہم تو چلنی ہی چلنی ہے عدالت اور جے آئی ٹی کی تحقیقات اور فیصلے جس پر زد ڈالتے نظر آئیں گے، جسے مشکلات کا سامنا ہو گا، اس کی طرف سے تنقید ہو گی، خود پر تو کوئی بھی تنقید کرنے سے رہا، تنقید اسی پر ہو گی جہاں سے چوٹ پڑے گی۔ عمران خان اور ان کے دست باز و دعویٰ کرتے نظر آرہے ہیں کہ وہ عدالت اور جے آئی ٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ ساتھ کھڑا ہونا تبھی تک ہے اور ہو گا جب تک انہیں یہ احساس ہے کہ کارروائی نواز شریف اور ان کے خاندان، بچوں اور دوستوں کے خلاف جا رہی ہے، جس دن خان صاحب کو یہ وہم ہو گیا کہ اس کارروائی سے نواز شریف نوازے جا رہے ہیں، نہ پوچھیے کیا حال ہو گا ان کا، پھر کوئی جج بچے گا نہ جے آئی ٹی کا کوئی رکن محفوظ رہے گا، خان صاحب اپنی پوری ’’خنوّت ‘‘ کے ساتھ حملہ آور ہوں گے۔

***

لندن : نماز پڑھ کر نکلنے والوں پر ایک شخص نے وین چڑھا دی اور کہا : میں تم مسلمانوں کو قتل کر دوں گا حملے میں ایک شخص شہید دس زخمی ہو گئے۔ لوگوں نے حملہ آور کو پکڑ لیا، قریب تھا کہ اس کا حشر نشر کردیا جائے، اما م مسجد نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور مجرم قانون کے حوالے کر دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے جانچا جائے گا کہ موصوف کے دماغی توازن میں کوئی خرابی تو نہیں ؟ خرابی تو خیر یقیناًہے، لیکن جس خرابی کو ڈھونڈا جا رہا ہے، وہ نکلنے کی صورت میں سزا سے بچ جائے گا۔ البتہ ایسی خرابی تعجب خیز ہو گی جو صرف مسلمانوں کے خلاف وجود میں آتی ہے اور مان بھی لی جاتی ہے، ایسی خرابی کسی مسلمان میں خدا نخواستہ پائی بھی جائے تو شاید ہی مانی جائے۔