UNO کا مسئلہ کشمیر پر دوہرا معیار!

پروفیسر ضیاء الرحمان

برہان وانی شہید کا پڑوس سبزار احمد بھٹ شہید کے سبز ہلالی پرچم میں لپٹے وجودِ مسعود سے آباد ہو چکا ہے۔ کشمیری حریت پسندوں کی قربانیاں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ اسکول کے طالب علم سے لے کر گھر کی خواتین، بزرگ اور نوجوان تک سب ہی ’’آزادی‘‘ کے نعرے کو اپنا نصب العین بنا چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ دھلی سرکار کے حکم پر وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو اور دفعہ 144نافذ کیے ہوئے ہے۔ مقبوضہ وادی میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کسی بھی عالمی سطح کی تنظیم یا NGOکا داخلہ ممنوع کر دیا گیا ہے۔ موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل کر کے ابلاغ اور اظہار رائے کے بنیادی حق کا گلابھی گھونٹ دیا گیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کے جذبوں کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کی طرف سے ’’آرمڈفورسز اسپیشل پاور ایکٹ ‘‘ اور ’’ پبلک سیفٹی ایکٹ ‘‘ جیسے بد نام زمانہ کالے قوانین پر عمل در آمد تیز تر کر دیا گیا ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کی گرفتاریاں، اندھا دھند لاٹھی چارج، آنسو گیس، آتشیں اسلحہ اور ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبانے میں ناکام ہی نہیں ہو رہے بلکہ اس تحریک کے لیے مہمیز ثابت ہو رہے ہیں۔ برہان احمد وانی شہید کی لازوال قربانی نے کشمیری عوام کے جذبہ آزدی میں نئی روح پھونک دی تھی تو اب سبزار احمد بھٹ کی شہادت نے تحریکِ آزادی کشمیر کو بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ ہندوستان سے نفرت کشمیریوں کے دلوں میں نقش ہو چکی ہے۔ ریاستی طاقت سے کشمیریوں کے جذبوں کو کچلنے کی حماقت ہندو سرکار کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ایک طرف کشمیری، ہندوستان کے سر تا پا باغی ہو چکے ہیں تو دوسری جانب عالمی رائے عامہ بھی بھارت کے خلاف ہوتی چلی جا رہی ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومتِ پاکستان اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تمام تر اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سپورٹ مقبوضہ وادی میں برسرِپیکار کشمیری عوام کے ساتھ ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر اعظم میاں نواز شریف کھل کر کشمیریوں کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی اور دلی لگاؤکوبھر پور طریقے سے بیان کر چکے ہیں۔ چند روز قبل آزاد کشمیر حکومت کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ سو فیصد زائد بجٹ کی منظوری بھی نواز شریف کی کشمیریوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایماء پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام لکھا گیا حالیہ خط بھی مقبوضہ وادی میں ہندو فوجیوں کی طرف سے جاری ظلم و ستم کے خلاف مؤثر احتجاج ہے، جس میں انھوں نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، او آئی سی، سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے ظالمانہ قتلِ عام کو فوری بند کروانے کے ساتھ تسلیم شدہ ’’رائے شماری‘‘ کا حق کشمیریوں کو دینے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

ہندوستان کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار ہونا پاکستان کی سفارتکاری کا کڑا امتحان ہے کہ وہ کیسے اس اہم اور نازک موڑ پر بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کا مقدمہ عالمی فورمز پر پیش کرتا ہے۔ اگر ہم 70برس پیچھے جھانکیں تو تاریخ بتائے گی کہ کس مکاری، دغا اور فریب کے ذریعے بھارت نے کشمیر پر قبضہ جمایا تھا اور پھر اپنی گھناؤنی کارروائی اور غاصبانہ قبضے پر پردہ ڈالنے کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو نے بین الاقوامی سطح پر یہ رٹ لگانی شروع کردی تھی کہ ’’بھارت کے ساتھ کشمیر کا الحاق محض عارضی ہے اور الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کروایاجائے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ ‘‘ اس بارے میں 27اکتوبر 1947ء کو جواہر لال نہرو نے برطانیہ کے وزیر اعظم کو اس مضمون کا تار بھیجا: ’’میں صاف صاف بتادینا چاہتا ہوں کہ ان ہنگامی حالات میں کشمیر کو فوجی مدد پہنچانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کو بھارت کے ساتھ الحاق پر مجبور کیا جائے۔ ہم نے اپنے نقطۂ نظر کی بار بار وضاحت کردی ہے کہ کسی متنازعہ علاقے یا ریاست کے حتمی الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے عین مطابق کیا جائے گا۔ ‘‘

پھر 2نومبر 1947ء کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے ایک پالیسی بیان میں پنڈت نہرو نے کہا: ’’ہماری خواہش ہے کہ ان ہنگامی حالات میں اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، بلکہ اس کا موقع کشمیری عوام ہی کو دیا جائے کہ وہ اپنی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق کریں۔ ‘‘ اسی طرح 21 نومبر 1947ء کو پنڈت نہرو نے پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے نام اپنے ایک خط میں لکھا: ’’ریاست کشمیر کے الحاق کا قطعی فیصلہ استصواب رائے یا ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا جو اقوام متحدہ جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کی نگرانی میں منعقد کرایا جائے گا۔ ‘‘پھر جواہرلال نہرونے اس ضمن میں 7اگست 1952ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اعلان کیا تھاکہ ’’اگر کشمیری عوام بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو انہیں جانے دیجیے، وہ ایسا کرنے میں بالکل آزاد ہیں۔ ہم ان کی مرضی کے خلاف انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے، گویہ بات ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے لیکن میں زور دے کر کہتا ہوں کہ صرف اور صرف کشمیری عوام کو کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا حق حاصل ہے۔ کشمیری عوام اگر چاہتے ہیں کہ ہم وادی سے نکل جائیں تو ہم برضا و رغبت کشمیر چھوڑ دیں گے۔ ہم نے ان سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اور ہم ایک عظیم قوم کی حیثیت سے اس عہد کی خلاف ورزی کبھی نہیں کریں گے۔ ‘‘

کشمیری اسی وعدہ کردہ حقِ خود ارادیت اور حق رائے شماری کے حصول کے لیے سروں کی فصل کٹوا رہے ہیں، لیکن پنڈت جواہر لال نہرو کی طرح ان کے پیروکاربھی کشمیریوں سے کیے ہوئے اپنے وعدے سے یکسر منحرف ہو چکے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی وعدہ خلافی کے حوالے سے تاریخ انتہائی سیاہ ہے۔ سراپا احتجاج بنی مقبوضہ وادی کی ناگفتہ بہ صورتحال اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار عالمی طاقتوں کا بھی کڑا امتحان ہے کہ جس طرح مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے حق خود ارادیت کے لیے انھوں نے فاسٹ ٹریک پر کام کیا اور ان علاقوں کے عوام کو ان کا حق دلوایا گیا، ایسے ہی کشمیرکے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کراتے ہوئے ’’ استصوابِ رائے‘‘ کا حق کشمیریوں کو کیوں نہیں دلوایا جاتا ؟ یہ دوہرا معیار اقوام متحدہ (UNO) کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے اس سلگتے مسئلے پر خاموشی اور دوہرا معیار شرمناک ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خون کی بہتی ندیاں اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو عملی شکل دینے کے لیے حتمی اور فیصلہ کن قدم اٹھائے جائیں۔ بصورت دیگر اگر یہ حساس تنازع پاک انڈیا جنگ پر منتج ہواتو یہ عام روایتی جنگ نہیں بلکہ ایٹمی جنگ ہوگی، جو تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر کے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جس کا بڑی حد تک ذمہ دار کوئی اور نہیں، اقوام متحدہ ) (UNO ہوگا۔