لیاقت علی خان مرحوم کا غریب پرور بجٹ

محمد اسماعیل ریحان

ہر شخص جانتا ہے کہ کانگریس تقسیمِ ہند کی مخالف تھی، مارچ1947ء تک کانگریسی لیڈر یہی کہتے رہے کہ تقسیمِ ہند کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ مگر یہی کانگریسی لیڈر اپریل 1947 ء میں تقسیم پر راضی ہوگئے۔ بھارت اور پاکستان تمام فریقوں کے مابین ایک متفقہ معاہدے کے تحت وجود میں آئے۔ مسلم لیگ کاتومطالبہ یہی تھاکہ برصغیر کوتقسیم کیاجائے، مگر کانگریس نے بھی آخر میں اسے قبول کرلیا تھا۔ اسی لیے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے ایک مکتوب میں فرمایا تھا: ’’ پاکستان نہ صرف مسلم لیگ بلکہ کانگریس کاتقسیمِ پنجاب کے اضافے کے ساتھ تسلیم کردہ معاملہ ہے، جس پر حضوربرطانیہ کی مہر ثبت ہے۔ اس میں صرف مسلم لیگ کو ہدفِ ملامت بنانا آئینِ شرافت سے بعید ہے۔ اگر اچھا کیا تو کانگریس اور لیگ دونوں نے۔ اگر بُراکیا تو دونوں نے۔ ‘‘(حیاتِ امیرِ شریعت: 321)

توسوال یہ ہے کہ کانگریسی لیڈرجو ملک کے بٹوارے کے سخت مخالف تھے، اس کی تقسیم پرراضی کیسے ہوگئے ؟اس کے کئی عوامل ومحرکات ہوسکتے ہیں، مگر تاریخی گواہی کے مطابق سب سے بڑی وجہ جس نے راتوں رات کانگریس کوپاکستان قبول کرنے پرآمادہ کردیا، بڑی ہی دلچسپ ہے۔

تقسیم ہند سے قبل 1945-46ء کے انتخابات کے نتیجے میں متحدہ ہندوستان پر ایک عبوری حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اس میں کانگریس کے ساتھ مسلم لیگ بھی شامل تھی۔ لیاقت علی خان کوکانگریسی کابینہ نے وزارتِ مالیات پیش کی تھی۔ اس میں بھی کسی نیک نیتی یاخلوص کادخل نہیں تھابلکہ مولانابوالکلام آزاد کے بیان کے مطابق کانگریسی زعماء نے بڑے غور وخوض کے بعد یہ طے کیاتھاکہ چونکہ مسلم لیگ کے پاس کوئی معاشی ماہر موجودنہیں، اس لیے وزارتِ مالیات اسے دے دی جائے تاکہ مسلم لیگ کے وزیر کی بے وقوفیوں کا خوب شہرہ ہو۔ (انڈیاونس فریڈم:ص219،220)

مقصد یہ تھاکہ جب مسلم لیگی وزیر مالی معاملات کو نہیں چلاپائے گاتوکانگریس یہ اعلان کرے گی کہ مسلم لیگ سے ایک وزارت بھی نہیں چل سکی تو یہ ایک پوراملک کیسے چلائے گی۔ اس طرح پاکستان کے قیام کوروکنے کاایک نیابہانہ ہاتھ آجائے گا۔

چنانچہ کانگریس نے سخی بنتے ہوئے قائدِ اعظم کو پیش کش کی کہ وہ وزارتِ مالیات کے لیے اپنی جماعت کاکوئی فرد نامزد کردیں۔ قائدِ اعظم نے خوب سوچ سمجھ کر لیاقت علی خان کونامزد کردیا۔ لیاقت علی خان نے کانگریسیوں کی توقع کے بالکل برخلاف مالیاتی امور میں بے مثال کارکردگی دکھائی۔ 28فروری کو انہوں نے ایک غریب پروربجٹ پیش کیا۔ چونکہ عالمی جنگ کی وجہ سے مہنگائی نے عوام کی کمرتوڑ دی تھی اور اس دوران سرمایہ دار لوگ منہ مانگے نرخ مقرر کرکے اپنی تجوریاں اچھی طرح بھر چکے تھے، اس لیے لیاقت علی خان نے بجٹ میں پوراخیال رکھا کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ نیز ٹیکس چوری کے سدباب پر بھی توجہ دی گئی۔

بجٹ کی دو باتیں اہم ترین تھیں:ایک یہ تجویز تھی کہ جن لوگوں نے ٹیکس ادا نہ کرکے دولت سمیٹی ہے، ان کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک لاکھ روپے سے زائد تجارتی منافع پر 25فیصد اسپیشل انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یوں ٹیکس کا تقریباًسارا بوجھ کروڑ پتی صنعت کاروں اور تاجروں پر ڈالاگیاتھا۔ نیزٹیکس چوری کا توڑ بھی نکال لیا گیا تھا۔ سابق واجب الاداء ٹیکس وصول کرنے کی پالیسی بھی طے کرلی گئی تھی۔ غریب عوام کو تقریباً ہر بوجھ سے آزاد رکھا گیا تھا۔ عوام کے لیے اس سے بہتر بجٹ کوئی نہیں ہوسکتاتھا تاہم سرمایہ دار اس سے کبھی خوش نہیں ہوسکتے تھے۔

چونکہ یہ اسکیم کانگریسیوں کی استحصالی ذہنیت کے خلاف تھی، اس لیے کانگریس نے مشتعل ہوکر لیاقت علی خان کو ہدفِ تنقید بنایا۔ حالانکہ لیاقت علی خان کی معتدل مزاجی کایہ حال تھاکہ وہ مالیاتی امور میں کانگریسی پارٹی کی اس پالیسی کو بھی سامنے رکھتے تھے جو بیانات کی حدتک خوش نما تھی۔ جیساکہ پنڈت نہرو سرِ عام کہتے تھے کہ ہم حکومت بنا کر سرمایہ دارانہ نظام ختم کردیں گے اور سوشلزم پرمبنی مساواتی معیشت قائم کریں گے، امیر غریب کا فرق مٹادیں گے، ٹیکس چوری کا سدباب کریں گے اور سخت کارروائی کرکے گزشتہ واجب الادا محصولات بھی بازیاب کرائیں گے۔ (انڈیاونس فریڈم:ص231، 232)

مگر یہ محض دکھاوا اور فریب تھا۔ اگر یہ لوگ ان دعووں میں ذرا بھی سچے ہوتے تو لیاقت علی خان کے بجٹ کا خیر مقدم کرتے۔ مگر کانگریس کا رویہ بالکل برعکس تھا۔ بھارتی مؤرخ نریندراسنگھ لکھتا ہے: ’’لیاقت علی خان نے اپنے پہلے بجٹ میں کیپیٹل گین پر بارہ سو پونڈ سے زیادہ ہر طرح کے منافع پر پچیس فیصد ٹیکس لاگو کردیا۔ کانگریسی وزرا نے اس پراحتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ خزانہ عوام کا حکومت پر سے اعتماد اٹھانے کے خواہش مند ہیں۔ ‘‘

مگرکیا کانگریسی وزرا کااحتجاج عوامی جذبات کا ترجمان تھا؟ چالیس کروڑ ہندوستانی عوام جن کی اکثریت کو پیٹ بھر روٹی بھی دستیاب نہ تھی، ان میں سے کتنے فیصد تھے جن کاکاروباری نفع بارہ سو پونڈ یا ایک لاکھ روپے سے زائد ہو۔ ان غریبوں کے لیے اس سے بڑھ کرخوشی کی کیابات ہوسکتی تھی کہ انہیں ٹیکس سے آزاد کردیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بجٹ فقط بڑے سرمایہ داروں کی بے تحاشامنافع اندوزی پر ایک ضرب تھاجسے کانگریسی سیٹھ برداشت نہ کرسکے۔ نریندراسنگھ کویہ لکھناپڑا:’’کاروباری طبقہ ٹیکسوں سے زیادہ متاثر ہوا اور یہی لوگ تھے جونیشنلسٹوں (یعنی کانگریس) کوفنڈز فراہم کرتے تھے۔ ‘‘یعنی خود کو سوشلسٹ، سرمایہ داری کا دشمن اور مساوات کا علم بردارکہلانے والے کانگریسی لیڈر پوری طرح سرمایہ داروں کے دباؤ میں تھے۔

لیاقت علی خان کاعوام پرور بجٹ دیکھ کر ان ہندو سیٹھوں اور صنعت کاروں کی نیندیں اڑ گئیں اور انہوں نے کانگریس کے سینے پرپاؤں رکھ دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ فوری طورپر کانگریسی لیڈروں نے اس بجٹ پر ایسے اعتراضات شروع کردیے جن کاکوئی سرپیرنہ تھا۔ ایک طرف وہ یہ مانتے تھے کہ یہ انہی اصول پر مرتب ہے جن کا اعلان کانگریس کرتی آئی ہے۔ د وسری طرف وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اس کے پیچھے مسلم لیگ کے سیاسی عزائم کارفرماہیں اور وہ اس طرح (کانگریس کے سرپرست) ہندو سرمایہ داروں کوکنگال کرناچاہتی ہے۔ حالانکہ ہندوسرمایہ داروں کی طرح مسلم سرمایہ دار بھی اس کی زد میں تھے، مگر انہوں نے اس بجٹ کی پوری طرح حوصلہ افزائی کی، مگر کانگریسیوں میں یہ حوصلہ نہیں تھا۔

غرض لیاقت علی خان اور مسلم لیگی وزرا کانگریس کے گلے میں ہڈی بن چکے تھے۔ کانگریسی لیڈر اب خود یہ سمجھنے لگے تھے کہ مسلم لیگ حکومت کے اندر ہو یا باہر، بہرحال ان کے قابوسے باہر ہے۔

وہ کانگریس جوکبھی بھی تقسیم ہند کے لیے تیار نہیں تھی، اب تقسیمِ ہند کی سب سے بڑی حامی بن گئی، محض اس لیے کہ اسے ایک الگ ملک میں کھل کر غریب عوام کولوٹنے کاموقع مل سکے۔ مسلم لیگ کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ماہ کے اندراندر جواہرلال نہرو سے لے کرگاندھی جی تک سبھی تقسیمِ ہند کے حامی بن گئے، جبکہ کچھ دن پہلے وہ اسے گائے ماتا کے ٹکڑے کرنے سے تشبیہ دیتے تھے۔ آج بھی بنیے کی دُکھتی رگ یہی ہے، اسے پکڑ کرآپ کچھ بھی منواسکتے ہیں۔ سی پیک سے بنیا اسی لیے بوکھلایا ہوا ہے کہ اس سے خطے میں اس کے معاشی مفادات پر ضرب پڑرہی ہے۔ سعودی عرب اور عرب امارات سے بھارتی نیتاؤں کارویہ اسی لیے خوشامدانہ بلکہ فدویانہ ہے کہ بھارتی معیشت کاخاصاانحصارمشرقِ وسطیٰ پرہے۔ جس دن پاکستان معاشی طورپر مضبوط ہوکر بھارت کے لیے ناگزیر ہوجائے گا، اس دن بھارت پاکستان کے چرن چھونے کے لیے بھی تیار ہوجائے گا۔