بھارتی سفارتکار جج کی تصاویر لیتے ہوئے پکڑا گیا

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے عظمیٰ واپسی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج کی موبائل سے تصویر لینے پر بھارتی سفارت کار کا موبائل فون ضبط کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی بھارتی شہری عظمٰی کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کررہے تھے کہ عدالتی عملے نے فاضل جج کی توجہ ایک شخص کی جانب مبذول کرائی جو موبائل فون سے ان کی تصاویر لے رہا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا یہاں کوئی ڈراما ہورہا ہے جو تصاویر لی جارہی ہیں، فاضل جج نے موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دے دیا تو اس شخص نے اپنا تعارف بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کے طور پر کراتے ہوئے دہائی دی کہ وہ سفارتکار ہے اور اس کا موبائل فون ضبط نہیں کیا جاسکتا، جس پر جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے کہ آپ بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری ہیں تو کیا عدالتوں میں آ کر تصویریں لینا شروع کردیں گے۔

اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے بھارتی سفارت کار کو بتایا کہ کمرہ عدالت میں تصاویر نہیں لی جاتیں، عدالتوں میں تصویر لینا پوری دنیا میں جرم ہے۔ بعد ازاں بھارتی سفارتکار نے غیرمشروط معافی نامہ جمع کرایا جس پر موبائل فون میں موجود تمام تصاویر ضائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے موبائل فون واپس کردیا۔