وزیراعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔

وزیراعظم آفس اسلام آباد میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف، وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور وزیر پیٹرولیم شاہد قاخان عباسی نے شرکت کی۔

اجلاس کا ایجنڈا 12 نکات پر مشتمل تھا جس میں نیشنل واٹر پالیسی، بزرگ شہریوں کے لئے مراعات، گیس پیداکرنے والے علاقوں کو گیس کی فراہمی جیسے معاملات شامل ہیں، اجلاس میں نئی قومی پانی پالیسی میں ملک میں پانی کی تقسیم سمیت 2025 تک کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل نہیں کئے گئے جس کے باعث منصوبے بروقت مکمل نہ ہونے پر لاگت میں اضافہ ہوا۔

اجلاس میں ایل این جی کی درآمد کے لیے صوبوں سے اگلے اجلاس میں تجاویز طلب کی گئیں جب کہ سیلاب سے بچاؤکے منصوبے کے چوتھے مرحلے کیلئے 177 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں چھٹی مردم شماری پر اظہار اطمینان کیا گیا جب کہ وزارت خزانہ نے اجلاس کو خانہ و مردم شماری کا عمل بروقت مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزارت ماحولیات و تبدیلی نے اجلاس میں بتایا گیا کہ جنگلات پالیسی پر صوبوں سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے جس پر صوبائی حکومتوں کو قومی جنگلا ت پالیسی پر عمل کرنے کی ہدایات کی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایل این جی پالیسی کی منظوری اور صوبوں میں گیس کی فراہمی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

واضح رہے کہ آئین کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر 90 روز میں ہونا ضروری ہے لیکن یہ اجلاس 5 ماہ کے بعد ہوا ہے۔