10 ارب روپے کی پیشکش کرنے والے کا نام عدالت میں بتاؤں گا،عمران خان

اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ 10 ارب روپے کی پیشکش کرنے والے کا نام نہیں بتا رہا کیوں کہ شریف برادران انتقامی کارروائی کرکے اس کا کاروبار بند کردیں گے البتہ عدالت میں وہ نام ضرور بتاؤں گا اور اس شخص کو تحفظ دینے کا بھی کہوں گا۔

اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ سیاست دان نہیں بلکہ مافیا ہیں اگر میں نے 10 ارب روپے کی پیشکش لانے والے کا نام بتا دیا تو اسے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر اس کا کاروبار بند کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت انہیں عدالت میں لے کر گئی تو وہاں 10 ارب کی پیشکش کرنے والے کا نام بتائیں گے اور عدالت سے درخواست بھی کریں گے کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے کیوں کہ یہ لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے جب کہ عدالت کو یہ بھی بتائیں گے کہ دبئی میں شریف برادران کا کون شخص بیٹھا ہے جس سے آپ کے اور رشتے دار بھی پھنس جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے ایک آفر دیتا ہوں کہ شریف برادران قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر بولیں کہ ہم نے کسی کو رشوت نہیں دی اور اگر ایسا کرلیا تو میں مان جاؤں گا، لیکن مجھے ڈر ہے یہ ہاتھ رکھ بھی لیں گے اور پھر میں 10 ارب روپے کا ہرجانہ کیسے دوں گا، اس کے لیے مجھے شریف برادارن کے ارب پتی بیٹوں سے قرضہ لینا ہوگا البتہ مریم نواز سے نہیں مانگوں گا کیوں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اپنی ہی فوج کو بدنام کرتے ہیں جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی صنعتکار جندال کے ذریعے باہر پیغام بھجوایا کہ وہ دوستی چاہتے ہیں مگر فوج نہیں چاہتی اور ڈان لیکس کے ذریعے بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی مگر مودی ہرموقع پر پاکستان کے خلاف مہم چلارہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو پوری دنیا بھارت کے پیچھے پڑجاتی لیکن میں ہر فورم پر کشمیریوں کے حق کے لیے آواز بلند کرتا رہوں گا۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دنیا بھر میں ایک حیثیت تھی اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہوتا تھا لیکن آج بیرون ملک پاکستانی جیلوں میں پڑے ہیں جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں، بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ جو بھی سلوک ہو کوئی بھی حکومت انہیں نہیں پوچھتی، یہاں تک کہ مجھے بھی ایک بار امریکا میں 6 گھنٹے کے لیے روکا مگر کسی نے نہیں پوچھا تاہم اللہ سے دعا ہے ہماری قوم کو عظیم قوم بنادے۔ انہوں نے کہا کہ وزیروں نے بہت کوشش کی کہ پاناما کیس بھول جائیں مگر عوام کے باہر نکلنے کی وجہ سے میاں صاحب پاناما کیس میں پھنس گئے جب کہ اب نوازشریف کے لیے وزیراعظم رہنا مشکل ہوجائے گا اور نوازشریف کی استعفیٰ دیے بغیر جان نہیں چھوٹے گی۔ عمران خان نے عوام سے نوازشریف کا سوشل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں پرسوں کراچی، جمعہ کو نوشہرہ، اتوار کو سیالکوٹ جارہا ہوں اور میرے ساتھ عوام بھی نکلے گی جب کہ پہلی بار عوام کی جدوجہد کی وجہ سے وزیراعظم کو کرپشن کیس میں پکڑوائیں گے۔