شہباز شریف پختونوں کا حصہ کھارہے ہیں، آصف زرداری

مالاکنڈایجنسی: پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف پختونوں کا حصہ کھارہے ہیں اور ان کے پیٹ سے لوٹا ہوا پیسہ نکلواؤں گا۔

مالا کنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مالا کنڈ اور سوات میں جب جنگ چھڑی تو ہم نے یہاں کے شہریوں کو سنبھالا اور عوام کی مدد سے پاکستان کا جھنڈا لہرایا، آنے والی حکومت میں بی بی کارڈ کو دگنا کریں گے جب کہ فاٹا کے لیے بی بی نے ہمیشہ آواز اٹھائی اور ہم اب فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنائیں گے۔ ہمیں پتا تھا کہ پختون اپنی شناخت چاہتے ہیں، ہم نے سی پیک خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے بنوایا تھا مگر جاتی امرا والے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو اس منصوبے کی سمجھ ہی نہیں، یہ صرف جنگلا بس بنانا جانتے ہیں انہیں عوام کی ضرورتوں کا کچھ پتہ نہیں اور نہ انہیں عوام کی فکر ہے۔ عطاآباد کا راستہ نہ بناتے تو سی پیک کیسے بنتا۔

آصف زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب یہ پاکستان کسی کے باپ کا ملک نہیں، یہ لٹیرے جو ملک لوٹ کر لے گئے ہیں، حکومت میں آکر ان کے پیٹ سے پیسہ نکالیں گے اور یہ سارا مال عوام کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ضیاالحق کے شاگرد ہیں اس لئے اس ہی کی سیاست لے کر آگے چلے ہیں، بچے بچے کی زبان پر ’’گو نواز گو‘‘ کا نعرہ ہے، تم کتنے بچوں کو جیلوں میں ڈالو گے، موجودہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں اور ان کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے جس سے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین نے کہا کہ میاں صاحب جب جیل میں تھے تو رو رو کر ان کی حالت خراب تھی، معافی نامے لکھ کر جدہ کے محل چلے گئے، میں نے گڑھی خدابخش میں عوام کی خدمت کی قسم اٹھائی ہے، بدین میں کہا تھا کہ اب تمام صوبے اسلام آباد سے نیا چارٹر چاہتے ہیں، میں اپنے کارکنوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا اور اگر وقت آیا تو اپنے کارکنوں کے ساتھ ہی شہید بھی ہونا ہے، میرا وعدہ ہے کہ پاکستان کو امیر ملک بناکر دوں گا اور میں نے پہلے بھی اپنے تمام وعدوں کو پورا کیا ہے۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ شہباز شریف پختونوں کا پیسہ کھارہے ہیں، لیویز جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑرہے ہیں مگر یہ تنخواہ نہیں دیتے، پختون جہاں بھی چاہیں رہیں پورا پاکستان ان کا ہے،لاکھوں پختونوں کے شناختی کارڈ بلاک کردیے لہذا پختون کھڑے ہوجائیں اور حکمرانوں سے اپنا حق لیں۔